پنجاب کابینہ کا حلف: ق لیگ کو کوئی وزارت نہ ملی، ایک خاتون شامل

گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن نے وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کی 21 رکنی کابینہ سے حلف لیا۔

وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کی 21 رکنی کابینہ نے ہفتے کو اپنے عہدوں کا حلف اٹھالیا۔

وزرا میں مسلم لیگ ق سے کوئی وزیر شامل نہیں ہے جبکہ کابینہ میں صرف ایک خاتون کو شامل کیا گیا ہے۔

گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن نے گورنر ہاؤس میں منعقدہ ایک تقریب میں وزرا سے حلف لیا۔

پنجاب میں دوسری بار حکومت تبدیل ہونے کے بعد ایک بار پھر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے تعلق رکھنے والے وزرا ہی مختلف محکموں میں کام کریں گے۔

وزارت اعلیٰ حاصل کرنے والی مسلم لیگ ق کو کوئی صوبائی وزارت نہیں دی گئی۔ اس حوالے سے پرویز الٰہی کے صاحبزادے مونس الٰہی کا کہنا ہے کہ ’اگلے مرحلے میں ق لیگ کے وزیر بھی شامل ہوں گے۔‘

پنجاب کابینہ میں وزیراعلیٰ کے تین مشیر اور چار معاون خصوصی بھی نامزد کیے گئے ہیں۔

سابق وزیراعظم عمران خان کی رواں ہفتے لاہور آمد کے موقعے پر پی ٹی آئی اور ق لیگ کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں شرکت کے دوران وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی نے اپنی کابینہ کے حوالے سے ناموں کی منظوری دی تھی۔

کابینہ میں کون کون سے اراکین شامل ہیں؟

پنجاب کی تاریخ میں ایسا کم دیکھنے میں آیا ہےکہ ایک کابینہ ساڑھے تین سال بعد حکومت کی تبدیلی پر تبدیل ہوئی اور تین ماہ بعد دوبارہ واپس آگئی مگر اس کابینہ میں بیشتر نام وہی ہیں جو پہلے تھے، تاہم کچھ ناموں میں ردوبدل کیا گیا ہے۔

لاہور سے منتخب ہونے والے ایم پی اے میاں اسلم اقبال جو پہلے کامرس اینڈ انڈسٹریز کے وزیر تھے، انہیں دوبارہ ہاؤسنگ اینڈ کامرس و انڈسٹریز کا قلم دان سونپا گیا ہے۔

میاں محمود الرشید بھی لاہور سے کامیاب ہوئے تھے، انہیں وزارت بلدیات کا وزیر بنایا گیا ہے۔ اس محکمے کے وہ پہلے بھی وزیر تھے، جب علیم خان نے یہ وزارت چھوڑی تھی۔

محمد بشارت راجہ جو پہلے صوبائی وزیر قانون تھے، اس بار انہیں کوآپریٹو اور پبلک پراسیکیوشن کی وزارت دی گئی ہے۔

رائے تیمور خان کو یوتھ افیئرز، سپورٹس اور کلچر کی وزارت سونپی گئی ہے، وہ پہلے بھی وزیر سپورٹس تھے۔

راجہ یاسر ہمایوں جو پہلے ہائر ایجوکیشن کے وزیر تھے، اس بار انہیں ہائر ایجوکیشن کے ساتھ ساتھ پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کا محکمہ بھی دے دیا گیا۔

عنصر مجید خان پہلے بھی لیبر اور ہیومن ریسورس کے وزیر تھے، اس بار بھی انہیں یہی وزارت دی گئی ہے۔

منیب سلطان چیمہ کو صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ بنایا گیا ہے۔

شہاب الدین کو پہلی بار لائیو سٹاک اور ڈیری ڈویلپمنٹ کی وزارت سونپی گئی ہے۔

مراد راس جو پہلے صوبائی وزیر تعلیم تھے، انہیں یہی وزارت دوبارہ ملی ہے۔

ڈاکٹر یاسمین راشد جو صوبائی وزیر صحت رہیں، انہیں وہی وزارت دوبارہ دی گئی۔ ہے وہ واحد خاتون ہیں جنہیں وزارت دی گئی ہے۔ وہ پنجاب اسمبلی میں مخصوص نشست پر ایم پی اے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

خرم شہزاد ورک جو شیخو پورہ سے حالیہ ضمنی انتخاب میں منتخب ہوئے، انہیں قانون اور پارلیمانی افیئرز کی وزارت سے نوازا گیا ہے۔ وہ پہلی بار اسمبلی کا حصہ بنے ہیں۔

کرنل ریٹائرڈ ہاشم ڈوگر کو داخلہ اور جیل خانہ جات کے محکمے دیے گئے ہیں، پہلے ان کے پاس محکمہ بہبود آبادی کی وزارت رہی ہے۔

سردار آصف نکئی کو ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اور انسداد منشیات کی وزارت دی گئی ہے۔

ضمنی انتخاب میں پہلی بار ایوان پہنچنے والے علی افضل ساہی کو مواصلات اور ورکس کا وزیر بنایا گیا ہے۔

نوابزادہ منصور خان کو ریونیو کی وزارت دی گئی ہے۔

حسین جہانیاں گردیزی پہلے بھی وزیر زراعت تھے، اس بار بھی انہیں وزیر زراعت ہی بنایا گیا ہے۔

غضنفر عباس چھینہ کو وزیر سوشل ویلفئر و بیت المال کی وزارت سونپی گئی ہے۔

لطیف نذر کو قدرتی وسائل و معدنیات کی وزارت دی گئی ہے۔

حسنین بہادر دریشک کو بجلی اور خوراک کے محکمے دیے گئے ہیں۔

سید عباس علی شاہ کو محکمہ جنگلات، جنگلی حیات اور فشریز کا وزیر بنایا گیا ہے۔

مشیر اور معاون خصوصی کون ہوں گے؟

وزیراعلیٰ پنجاب نے سابق گورنر سرفراز چیمہ، ایاز خان نیازی، وسیم خان بادوزئی کو اپنا مشیر مقرر کیا ہے جبکہ رفاقت علی گیلانی، تیمور علی لالی، محمد افضل، خرم منور منج کو معاون خصوصی تعینات کیا گیا ہے۔

پنجاب حکومت کی جانب سے ان مشیروں اور معاونین خصوصی کی تقرری کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا، جس میں کہا گیا کہ انہیں سرکاری تنخواہیں اور وزیروں کے برابر مراعات بھی دی جائیں گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان