28 سال بعد ’دا جینٹل مین‘ کی موت کا معمہ حل ہو جائے گا؟

11 جولائی 1994 کو جرمنی میں جزیروں کے چھوٹے سے مجموعے ہیلیگولینڈ کے مغرب میں ایک سرحدی محافظ کشتی کو چھ فٹ پانچ انچ کے ایک شخص کی لاش ملی تھی، جنہیں ’دا جینٹل مین‘ کا نام دیا گیا تھا۔

تفتیش کار گذشتہ تین دہائیوں سے ’دا جینٹل مین‘ کے بارے میں موجود تفصیلات کی کڑیاں ملانے میں مصروف ہیں (تصویر: ہیو موریسن/ مرڈوک یونیورسٹی)

ایسا لگتا ہے کہ 28 سال قبل جس شخص کی لاش بحیرہ شمال سے نکالی گئی تھی ان کی شناخت کا معمہ بالآخر حل ہو جائے گا۔ اس نامعلوم شخص کو’جینٹل مین‘ کا نام دیا گیا تھا۔

11 جولائی 1994 کو جرمنی میں جزیروں کے چھوٹے سے مجموعے ہیلیگولینڈ کے مغرب میں ایک سرحدی محافظ کشتی کو چھ فٹ پانچ انچ کے ایک شخص کی لاش ملی تھی۔

لاش کے سر اور جسم کے اوپری حصے پر زخموں کے نشانات تھے جبکہ اس شخص کے جسم کا وزن بڑھانے کے لیے اس کے ساتھ موچی کے زیر استعمال آہنی پاؤں کا آلہ باندھا گیا تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں جان بوجھ کر نقصان پہنچایا گیا تھا۔

انہیں ’دا جینٹل مین‘ کام نام دیا گیا کیوں کہ انہوں نے وہ کپڑے پہن رکھے تھے جو ’مڈل کلاس‘ سے تعلق رکھنے والے لوگ پہنتے ہیں۔ لاش کے جسم پر کپڑے موجود تھے جن میں خالص ریشمی دھاردار ٹائی شامل ہے، جو ملبوسات بنانے والی کمپنی مارک اینڈ سپینسر، انگریزی اور فرانسیسی زبان بولنے والوں کی مارکیٹ کے لیے تیار کرتی ہے۔ انہوں نے برطانیہ میں بنے جوتے اور فرانس میں بنی نیوی رنگ کی پتلون اور پورے بازو والی ہلکے نیلے رنگ کی کالر والی شرٹ پہن رکھی تھی۔

لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے جرمنی کے شہر ولہیم شیون لے جایا گیا، جس کے بعد اس کی تدفین کردی گئی۔

1990 کی دہائی میں جرمن پولیس کی ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ مرنے والے کی عمر تقریباً 45 سے 50 سال تھی۔ وہ دبلے پتلے تھے اور جب وہ زندہ تھے تو ان کا وزن شاید 74.8 سے 81.1 کلوگرام کے درمیان تھا لیکن ان کی شناخت تقریباً 30 سال سے معمہ بنی ہوئی ہے۔

امید ہے کہ آسٹریلیا کے شہر پرتھ کی مرڈوک یونیورسٹی میں کرمنالوجی اور فرانزک سائنس کے طلبہ پر مشتمل اس ’کولڈ کیس‘ نظر ثانی ٹیم کی حیران کن پیشرفت کے بعد تفتیش کار آخرکار یہ معلوم کرسکیں گے کہ وہ شخص کون تھے۔

ٹیم نے قبر کشائی کرکے لاش باہر نکالی اور ہڈی کے نمونے پر آئسوٹوپ تناسب کا تجزیہ کیا، جس سے معلوم ہوا کہ انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ آسٹریلیا میں گزارا تھا۔

خوراک، پانی اور گرد کی آئسوٹوپک ترکیب پوری دنیا میں آب و ہوا، دریائی مٹی کے میدانوں میں واقع چٹانوں، مٹی اور انسانی سرگرمیوں میں فرق کی وجہ سے مختلف ہوتی ہیں۔ اسی طرح انسانوں کے ٹشو کی آئسوٹوپک ترکیب بھی مختلف ہوتی ہے، جس پر ان کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

لازمی طور پراس سے تفتیش کاروں کو یہ سراغ ملتا ہے کہ وہ شخص کہاں رہ چکے تھے، انہوں نے کیا کھایا پیا اور کس ماحول میں سانس لیتے رہے۔

مرڈوک یونیورسٹی کی ٹیم نامعلوم شخص کے مکمل ڈی این اے پروفائل کو الگ کرنے میں بھی کامیاب رہی، جس کی اب قومی اور بین الاقوامی ڈیٹا بیس سے جانچ کی جا سکتی ہے۔

اس شخص کی شناخت کے حوالے سے حیران کن پیشرفت کا انکشاف آسٹریلیا کے قومی ہفتہ برائے لاپتہ افراد کے اختتام پر کیا گیا۔

کولڈ کیس ریویو گروپ کے ڈائریکٹر برینڈن چیپ مین اور ڈاکٹر ڈیوڈ کیٹلی اب  قانون نافذ کرنے والے اداروں میں اپنے رابطوں کا استعمال کر رہے ہیں تاکہ جرمن حکام کو آسٹریلیا میں کیس کو آگے بڑھانے میں مدد مل سکے۔ انہیں امید ہے کہ ’دا جینٹل مین‘ کی شناخت ہو جائے گی اور کیس آگے بڑھے گا۔

ڈاکٹر چیپ مین کا کہنا تھا کہ ’یہ سب سے زیادہ ناقابل یقین ہے۔  اس بات کا کتنا امکان ہے کہ اس کیس پر کام کرنے والی یونیورسٹیوں کے اس چھوٹے سے مجموعے میں سے ایک کا تعلق اس ملک سے ہے، جہاں سے اس شخص کا تعلق تھا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تفتیش کار گذشتہ تین دہائیوں سے’دا جینٹل مین‘ کے بارے میں موجود تفصیلات کی کڑیاں ملانے میں مصروف ہیں۔ وہ کاسٹ آئرن جس کا پولیس نے حال ہی میں انکشاف کیا، جوتے کی تیاری میں استعمال ہونے والا آلہ ہے جس کی لمبائی تقریباً 24.5 سینٹی میٹر، چوڑائی آٹھ سینٹی میٹر اور موٹائی چھ سینٹی میٹر ہے۔

کاسٹ آئرن جوڑے کی شکل میں نہیں بلکہ ایک سائز کے جوتے کے لیے بنایا گیا تھا اور ممکن ہے کہ خواتین کے جوتے مرمت کرنے میں استعمال کیا جاتا ہو۔

کاسٹ آئرن پر ابھرے ہوئے ’اے جے کے‘ کے حروف درج ہیں۔ یہ کنگزوڈ، برسٹل کی کمپنی اے جے جیکسن کا ٹریڈ مارک ہے جو 19 ویں صدی کے آخر سے لے کر 1960 کی دہائی کے وسط تک موجود رہی۔

نامعلوم شخص نے سیاہ رنگ کے یا نیوی لیدر کے 11 سائز کے جو جوتے پہن رکھے تھے، وہ نسبتاً مہنگے جوتے بنانے والی برطانوی کمپنی چرچ اینڈ کو لمیٹڈ نے تیار کیے۔

جوتوں کا تلوا دوبارہ لگایا گیا تھا اور ایڑیاں بدلی گئیں جو ڈِنکی اینڈ ہیل پی ایل سی، برسٹل بناتی ہے۔ جوتے کی ایڑی پر آئی ٹی ایس جوبلی کے الفاظ درج ہیں اور ایڑی پر خوبصورت خول چڑھا ہوا ہے۔

عوام سے کہا گیا ہے کہ تحقیقات میں مددگار ثابت ہونے والی معلومات ہونے کی صورت میں وہ مقامی پولیس کے ساتھ رابطہ کریں۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی تحقیق