دوسرے سیمی فائنل میں صدیوں کے حریف ایک بار پھر آمنے سامنے

اُمید رکھی جانی چاہیے کہ کھیل کے ہیرو بلے باز ہی نہ ہوں بلکہ بولر بھی اپنی  ٹیموں کے لیے زبردست کارکردگی دکھا سکیں جیسے کے میٹ ہنری نے بھارت کے خلاف دکھائی اور یہ میچ بھی سیمی فاننل کے شایان شان ہو۔

آسٹریلیا اور انگلینڈ کی ٹیمیں آج ورلڈ کپ 2019 کے دوسرے سیمی فائنل میں آمنے سامنے ہوں گی (اے ایف پی)

گھمنڈ کا شکار بھارت اور ’انڈر ریٹڈ‘ نیوزی لینڈ کی ٹیم کے درمیان کرکٹ ورلڈ کپ کے پہلا سیمی فائنل موسم کی خرابی کے باعث  دو روزہ تاریخی جنگ ثابت ہوا۔ چند روز قبل میں نے اپنے کالم میں لکھا تھا کہ اس بڑی گیم میں ٹاس جیتنے والی اور  پہلے بیٹنگ کرنے والی ٹیم کو فائدہ ہو گا۔

ایک بار پھر اولڈ ٹریفورڈ کی ’دوہری پیس‘ والی پچ پر ہدف کا تعاقب کرنا مشکل ثابت ہوا۔  کیویز نے اپنے سے بہتر نظر آنے والی بھارتی ٹیم کو شکست دے دی جو شاید ہمیشہ انہیں یاد رہے گی۔

نیوزی لینڈ نے بہترین کھیل پیش کیا اور جیسا کہ میں نے کہا تھا بالکل اسی طرح انھوں نے پاور پلے کے دوران بھارت کی وکٹیں گرائیں۔ انھوں نے بھارت کے عظیم بلے باز ویراٹ کوہلی اور روہت شرما کو آؤٹ کر کے بھارتی بیٹنگ لائن کی کمر توڑ دی۔

جس کے بعد بھارتی ہیرو ایم ایس دھونی بہت کوشش کے باوجود میچ جیتوا نہ سکے حالانکہ ان کی باصلاحیت کھلاڑی جدیجا کے ساتھ بہت اچھی پارٹنرشپ قائم ہو گئی تھی۔

کھیل کے آخری مراحل میں کیویز نے وقفے وقفے سے وکٹیں گرا کر جارحانہ کھیل پیش کیا اور اس حکمت عملی نے جادو کی طرح کام کیا۔ یہ ٹورنامنٹ کے سب سے بڑے اپ سیٹ پر منتج ہوا اور بھارتی ٹیم کو گھر واپس بھیج دیا گیا۔

اب آج کے اہم میچ  پر بات کرتے ہیں یہ سیمی فائنل دیرینہ ایشز حریفوں، آسٹریلیا اور انگلینڈ کے درمیان ایجبسٹن میں کھیلا جا رہا ہے۔

یہ دونوں حریف صدیوں سے کرکٹ کے میدانوں میں ایک دوسرے کے خلاف نبرد آزما رہے ہیں۔ ایک بار پھر یہ ورلڈ کپ کے فائنل میں جانے کے لیے ایک دوسرے کے آمنے سامنے صف آرا ہیں۔

چند گھنٹوں بعد ہمیں پتہ چل جائے گا کہ ان میں سے کونسی ٹیم اتوار کو نیوزی لینڈ کے خلاف فائنل کھیلے گی۔

ایک مرتبہ میں پھر کہوں گی کہ اس میچ میں بھی ٹاس اہم کردار ادا کرے گا۔ جو بھی کپتان ٹاس جیتے اسے یہ بات ذہن میں رکھنا ہو گی کہ بڑی گیم میں دباؤ بھی زیادہ ہوتا ہے اس لیے پہلے بیٹنگ کرنا اور بڑا سکور کھڑا کر کے مخالف ٹیم کو ’چیز‘ کرانا  بہت ضروری ہے۔

آسٹریلیا نے پانچ بار ورلڈ کپ جیت رکھا ہے اس لیے اگر فائنل میں اس بار نیوزی لینڈ کے خلاف انگلینڈ ہو تو اچھا رہے گا کیونکہ یہی ایک طریقہ ہے کہ جس سے یہ ورلڈ کپ ایک نئی  ٹیم کے پاس جائے گا۔

اور اسی طرح وہ افواہیں بھی دم توڑ دیں گی کہ سیاسی قوتیں کسی ملک کے تاثر کو بہتر کرنے کے لیے ٹورنامنٹ کو ’فکس‘ کرتی ہیں۔ آپ میرا اشارہ سمجھ گئے ہوں گے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس طرح میرے جیسے ’کرکٹ ٹریجک‘ لوگوں کے لیے یہ اچھا شگون ہو گا کہ کرکٹ کو اس کی اصل روح کے مطابق دیانت داری سے ہی کھیلا جا رہا ہے۔

اب اگر دوبارہ آج کے میچ پر بات کریں تو اگر انگلنیڈ پہلے بیٹنگ کرتا ہے اور پچ بالکل ویسی ہی فلیٹ ہو جیسی بھارت اور بنگلہ دیش کے میچ میں تھی تو انگلینڈ کو 300 سے زائد رنز کا ہدف آسٹریلیا کودینا ہو گا، تاکہ ان پر دباؤ ڈالا جا سکے۔

آسٹریلیا کے پاس خطرناک بلے بازوں کی لائن ہے اور وہ نویں نمبر تک بیٹنگ کرتے ہیں۔

انگلینڈ کے جونی بیرسٹو اور جیسن رائے جو اب تک بہت اچھی فارم میں نظر آئے ہیں ایک بار پھر ان دونوں کو اچھا اور تیز سٹارٹ دینا ہو گا۔ روٹ، سٹوکس اور بولرز کے لیے تباہ کن بٹلر کو آسٹریلیا کے تیز بولرز کے خلاف بہترین کارکردگی دکھانا ہو گی۔

اگر انگلینڈ کی ٹیم ناک آؤٹ مرحلے کے دباؤ سے نکل کر اپنی اصل جارحانہ گیم پیش کر سکے تو وہ بڑا سکور کرنے کے قابل ہو جائیں گے جس کے مناظر ہم ٹورنامنٹ میں کئی بار دیکھ چکے ہیں۔

’چیز‘ کرنا کسی بھی ٹیم کے لیے آسان نہیں ہو گا۔ کل بھارت کو نسبتاً کم تر سکور ’چیز‘ کرتے ہوئے کیسا سبق ملا ہے سب کو یاد ہے جو بھی ٹیم سکور چیز کر رہی ہو گی اس کا کلیجہ منہ کو آیا ہوا ہو گا کیونکہ سکور بورڈ اور ناک آؤٹ سٹیج کے دباؤ کا سامنا کرنا آسان نہیں ہو گا۔

اس ورلڈ کپ میں کئی ٹیمیں سکور چیز کرتی ہوئی ڈھیر ہو چکی ہیں۔

انگلینڈ کی بولنگ کی بات کریں تو بری نہیں ہے۔ اس کے پاس کرس ووکس اور مارک  ووڈ جیسے اچھےتیز بولر ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ جوفرا آرچر کوالٹی ایکسپریس بولر ہیں جبکہ درمیانے اوورز کرانے کے لیے خطرناک لیام پلنکٹ موجود ہیں۔

دونوں شعبوں میں ان کے پاس ٹیلنٹ کی کمی نہیں تاہم جو چیز انگلینڈ کو جیت  سے روک سکتی ہے وہ ان کا اعصاب پر قابو نہ رکھ سکنا ہو گا۔ یہ ملک کرکٹ جیسے خوبصورت کھیل کا موجد ہونے کے باوجود کرکٹ کا ورلڈ کپ جیتنے سے ابھی تک محروم ہے۔ آخر اس کی اور کیا وجہ ہے؟  

آسٹریلیا کو جو برتری ہو گی وہ یہی ہو سکتی ہے کہ وہ کئی بار ورلڈ چیمپیئن رہ چکا ہے۔ ان کے پاس ڈیوڈ وارنر جیسے با اعتماد کھلاڑی موجود ہیں۔ وارنر نے اس ورلڈ کپ کی ابتدا بہت سست طریقے سے کی تھی لیکن اب وہ بہت اعلیٰ کرکٹ کھیل رہے ہیں۔

اس کے علاوہ ان کے پاس سٹیون سمتھ، ایرون فنچ اور ایلیکس کیری جیسے  کھلاڑی موجود ہیں۔ ان کے بولر مچل سٹارک، پیٹ کمنز اور نیتھن لائن جیسے تجربہ کار اور شاندار بولر ہیں۔ اس ٹورنامنٹ میں مچل سٹارک نے اب تک سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کر رکھی ہیں اور وہ شاندار فارم میں ہیں۔

انہیں کھیلنا آسان نہیں ہے۔ درحقیقت میرا دماغ کہتا ہے کہ آسٹریلیا کی ٹیم جیتنے والی ہے جبکہ  دل کہتا ہے کہ انگلینڈ جیتے تاکہ ورلڈکپ کا تاج اس بار کسی نئی ٹیم کے سر پر سجے۔

سیمی فائنل ایک بڑا ایونٹ ہے اور اعصاب پر قابو رکھنا اور ریلیکس رہنا جیتنے کے لیے بہت ضروری ہے۔ کرکٹ جس قدر میدان میں کھیلی جا رہی ہوتی ہے اسی طرح کھیل دماغ میں بھی چل رہا ہوتا ہے۔ اس لیے صورتحال اور خصوصاً بحرانی صورتحال کا ٹھنڈے دل و دماغ سے سامنا کرنا  بہت ضروری ہے۔

جو بھی ٹیم صورتحال کا صحیح تجزیہ کر کے ٹھنڈے دماغ کے ساتھ سامنا کر گئی وہ یہ مقابلہ جیت جائے گی اور اسے فائنل میں ’کنگ آف آئس‘ ولیم سن اور ان کی ٹیم کے ساتھ پنجہ آزمائی کا موقع ملے گا۔

پچ ایک اہم فیکٹر ہو گی۔ میرے سمیت دنیا بھر کے دوسرے تجزیہ نگار یہ کہہ رہے تھے کہ اولڈ ٹریفورڈ کی پچ پر بہت زیادہ سکور بنیں گے مگر حقیقت اس کے برعکس  نکلی۔ اس میدان میں چند روز پہلے جب آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کا میچ ہوا تھا تو اس وقت پچ بالکل مختلف تھی۔ پہلے سیمی فائنل میں پچ نے حیران کن تبدیلی دکھائی اور اسی طرح اب یہ دیکھنا بھی دلچسپی سے خالی نہ ہو گا کہ ایجبسٹن کی پچ میں کیا اسرار چھپے ہوئے ہیں۔

ممکن ہے کہ اس پچ میں بولرز کو بھی کچھ مدد ملے بجائے اس کے کہ صرف بیٹنگ کے لیے ایک فلیٹ پچ ہو۔

اُمید رکھی جانی چاہیے کہ کھیل کے ہیرو بلے باز ہی نہ ہوں بلکہ بولر بھی اپنی  ٹیموں کے لیے زبردست کارکردگی دکھا سکیں جیسے کے میٹ ہنری نے بھارت کے خلاف دکھائی اور یہ میچ بھی سیمی فاننل کے شایان شان ہو۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ