عالیہ بھٹ کی فلم ’ڈارلنگز‘ نے گھریلو تشدد پر نئی بحث چھیڑ دی

’ڈارلنگز‘ ایسے وقت میں ریلیز کی گئی ہے جب حالیہ ماہ میں ثانیہ خان اور مندیپ کور کے قتل کے بعد جنوبی ایشیائی کمیونیٹیز گھریلو تشدد کے حوالے سے ایک نازک دور سے گزر رہی ہیں۔

ہر کوئی جس نے فلم دیکھی ہے وہ کہانی سے خوش نہیں ہے (نیٹ فلکس انڈیا ٹوئٹر، ریڈ چلیز انٹرٹینمنٹ)

عالیہ بھٹ کی نئی بالی وڈ فلم ’ڈارلنگز‘ نے بھارت میں گھریلو تشدد پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

فلم میں عالیہ بھٹ نے بدرو کا مرکزی کردار نبھایا ہے جبکہ وجے ورما نے حمزہ، شیفالی شاہ نے بدرو کی ماں شمسو اور روشن میتھیو نے زلفی کے کردار ادا کیے ہیں۔

فلم کی کہانی بدرو کے گرد گھومتی ہے جسے امید ہے کہ اگر اس کا پرتشدد شوہر شراب پینا چھوڑ دے تو وہ سدھر سکتا ہے۔

تاہم جب اس کا غصہ بہت آگے نکل جاتا ہے تو بدرو اور اس کی ماں اناڑی ہی سہی مگر دلیری سے بدلہ لینے کا سوچتی ہیں۔


’ڈارلنگز‘ کو گذشتہ جمعے (5 اگست) کو نیٹ فلکس پر ریلیز کیا گیا تھا۔ جسمیت کے رین کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم کی تحریر جسمیت کے رین اور پرویز شیخ نے کی ہے اور یہ سٹریمنگ سروس پر ایسے وقت میں ریلیز کی گئی ہے جب بھارت گھریلو تشدد کے حوالے سے ایک نازک دور سے گزر رہا ہے۔

جولائی میں ثانیہ خان نامی ایک فوٹوگرافر اپنے فلیٹ میں مردہ پائیں گئی تھیں۔ پولیس نے کیس کو قتل اور خودکشی قرار دیا تھا یعنی ان کے شوہر نے انہیں قتل کرکے اپنی جان لے لی۔

ایک اور بھارتی خاتون مندیپ کور اسی دن امریکہ میں اپنے اپارٹمنٹ میں مردہ پائی گئیں جس روز نیویارک کے مین ہیٹن تھیٹر میں ’ڈارلنگز‘ کی نمائش کی گئی تھی۔ اب اس کیس کی تفتیش بھی قتل کے طور پر کی جا رہی ہے۔

ان دونوں واقعات نے پہلے ہی جنوبی ایشیائی کمیونٹیز میں گھریلو تشدد کے بارے میں بحث کو جنم دیا تھا لیکن ’ڈارلنگز‘ کی ریلیز کے ساتھ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ اب اس مسئلے کے بارے میں منقسم رائے سے بھرا پڑا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جب بات ناقدین کی ہو تو ’ہندوستان ٹائمز‘ سے وابستہ مونیکا راول کوکریجا نے ’ڈارلنگز‘ کو اس کی خامیوں کے باوجود گھریلو تشدد کو اجاگر کرنے میں سوچ بچار پر مائل کرنے والی کہانی قرار دیا۔

کوکریجا نے لکھا: ’کئی حصوں میں اس فلم کی کہانی سے آپ کو اس وقت اکتاہٹ محسوس ہوتی ہے جب گھریلو تشدد کو ہنسانے کے لیے ایک چال کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، جیسے بدسلوکی کے باوجود ایک عورت اپنے شوہر کے ساتھ ہی رہتی ہے، ایک مرد جسے کوئی پچھتاوا یا اپنی حرکتوں پر کوئی ندامت نہیں ہوتی اور خاموشی سے دیکھنے والے جنہیں مزاحیہ انداز میں دکھایا گیا ہے۔‘  

’دا ہندو‘ سے وابستہ انوج کمار نے فلم کا مثبت جائزہ لیتے ہوئے لکھا: ’ان بیساکھیوں کو ختم کرتے ہوئے جو پدرشاہی نظام کو ہمارے گھروں میں مدد فراہم کرتی ہیں، ڈارلنگز ایک انوکھی سماجی تھرلر فلم ہے جو بالآخر گھریلو تشدد کے حوالے سے اچھا پبلک سروس پیغام دیتی ہے۔‘ 

’پنک ولا‘ کے لیے لکھنے والے اویناش لوہانہ نے کہا: ’فلم ساز نے اپنا نقطہ نظر پیش کرنے کے لیے جو طریقے منتخب کیے، اس پر بہت ساری آرا ضرور قائم ہوں گی، لیکن امید ہے کہ یہ فلم کم از کم لوگوں کو اس موضوع پر بحث کرنے پر مجبور کرے گی۔‘

لیکن ہر کوئی جس نے فلم دیکھی ہے وہ کہانی سے خوش نہیں ہے۔

بہت سے ٹوئٹر صارفین ’بائیکاٹ عالیہ بھٹ‘ ہیش ٹیگ استعمال کر رہے ہیں کیونکہ ان کا خیال ہے کہ نئی فلم مردوں کے خلاف گھریلو تشدد کی حمایت کرتی ہے۔ 

فلم پروڈیوس کرنے والی عالیہ بھٹ نے اس حوالے سے ’انڈی وائر‘ کو بتایا کہ جب لوگ ’ڈارلنگز‘ جیسی کہانیاں پڑھتے ہیں تو ’پریشان کن‘، ’بکھرا دینے والی‘، ’بدقسمت‘ اور ’ضروری‘ جیسے الفاظ ذہن میں آتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا: ’ہمارے ملک میں اب بھی لاکھوں لوگ گھریلو تشدد کا شکار ہیں اور اس سے مجھے بہت دکھ ہوتا ہے کیونکہ اس سے مجھے یہ محسوس ہوتا ہے کہ ایک ایسا رویہ ہے جس کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ یہ ہر شادی کا حصہ ہے۔ ’اوہ یہ سب کے ساتھ ہوتا ہے۔‘‘

ان کا کہنا تھا: ’لیکن پھر یہ حقیقتاً پریشان کن نقطہ ہے کہ  اسے کیوں ہونے دیا جاتا ہے؟ لوگوں کے اکیلے رہنے، یا لوگوں کے شادی شدہ نہ ہونے یا ریلیشن شپ میں نہ ہونے یا طلاق نہ ہونے سے متعلق معاشرے میں کچھ خوف اور دقیانوسی تصورات ہیں۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے، مزید نہیں۔‘

بھارتی ادارے ’بی ایم سی ویمن ہیلتھ‘ کی جانب سے 2001 سے 2018 کے درمیان بھارت میں خواتین کو درپیش گھریلو تشدد کے رجحانات اور اسباق کا تجزیہ کرنے والے ایک طویل تحقیقی مطالعے کے مطابق گھریلو تشدد کے زیادہ تر کیس ’شوہر یا اس کے رشتہ داروں کی طرف سے کیے گئے مظالم‘ تھے، اور اس طرح کے واقعات میں 18 سالوں میں 53 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ 2018 میں شوہروں یا ان رشتہ داروں کی جانب سے مظالم کی شرح ایک لاکھ خواتین میں 28.3 تھی، جو 2001 کے مقابلے میں 53 فیصد زیادہ ہے۔

عالیہ بھٹ کا اس بارے میں کہنا تھا: ’یہ بہت زیادہ دباؤ ہے۔ یہ ایک سماجی ڈھانچہ ہے جو خود تخلیق کیا گیا ہے۔ اگر آپ کسی کے ساتھ خوشگوار رشتے میں ہیں تو یقیناً اس کا لطف اٹھائیں، مزے کریں، اچھی زندگی گزاریں لیکن اگر ایسا نہیں ہے تو آپ اس طرح کے پریشان حال رشتے کی بجائے تنہا رہنا پسند کریں گے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’ہمیں اس بحث کو جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔ سینیما ایک نقطہ بیان کرنے اور لوگوں تک پہنچنے اور ان کے ساتھ جذباتی اور ذہنی طور پر منسلک ہونے کے بہترین ذرائع میں سے ایک ہے۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی فلم