بالی وڈ اداکار عامر خان کی سالگرہ منانے والے پاکستانی پرستار

عامر خان کے یہ پرستار عامر لکھوجو نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا ’میں اپنا جنم دن بھی اس طرح سے نہیں مناتا جیسا عامر خان کے لیے آرگنائز کرتا ہوں۔‘

صوبہ سندھ میں خیرپور میرس کے علاقے فیض گنج کے عامر لکھوجو کی ایک خواہش ہے کہ بالی ووڈ کے مسٹر پرفیکشنسٹ عامر خان تک کسی طرح یہ خبر پہنچے کہ ان کا ایک پاکستانی پرستار ہے جو پچھلے 14 سالوں سے عامر خان کا جنم دن اپنے طریقے سے مناتا ہے۔

عامر خان کے یہ پرستار چل پھر نہیں سکتے۔ انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا ’میں اپنا جنم دن بھی اس طرح  سے نہیں مناتا جیسا عامر خان کے لیے آرگنائز کرتا ہوں۔ عامر خان کا جنم دن پہلی بار میں نے 2008 میں منایا تھا اس وقت ان کی فلم گجنی بھی ریلیز نہیں ہوئی تھی۔‘

عامر لکھوجو سپر سٹار کے جنم دن پر دو عدد کیک لاتے ہیں جن کے اوپر سندھی اور اردو زبان میں عامر خان کو جنم دن مبارک لکھا ہوتا ہے۔

کیک کے ساتھ چائے کوئی بڑی بات نہیں مگر عامر لکھوجو بالی ووڈ کے عامر خان کے جنم دن پر بریانی کی دو یا تین دیگیں بھی بنواتے ہیں جو بعد میں عامر خان کے جنم دن پر آنے والے دوستوں اور رشتےداروں کو کھلائی جاتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’میں تو چل پھر نہیں سکتا اس لیے میں خریداری کرنے نہیں جاتا اور اگر مجھے لے کر بھی جاتے ہیں تو میں گاڑی میں ہی بیٹھا رہتا ہوں۔ میں اپنے بڑے بھائی کو کہتا ہوں کہ عامر خان کا جنم دن آرہا ہے اور مجھے وہ سیلیبریٹ کرنا ہے تو باقی انتظامات وہ خود ہی کر لیتے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عامر لکھوجو کہتے ہیں کہ ان کا بالی ووڈ اسٹار عامر خان سے لگاؤ غیر معمولی ہے۔ وہ خود بھی نہیں جانتے کہ ایسا کیوں ہے۔ بس وہ چاہتے ہیں کہ عامر خان ان سے ملنے پاکستان آئیں۔

عامر لکھوجو فین ہونے کہ ساتھ ساتھ عامر پر تنقید بھی کرتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’فلم ٹھگز آف ہندوستان میں مجھے کوئی خاص بات نہیں لگی۔ بس ایک بات جو فلم میں مجھے اچھی لگی وہ ایک ڈائیلاگ تھا  کہ انسان کو دو چیزوں پر ہمیشہ یقین کرنا چاہیے، دھوکا اور موت، کیوں کہ دو ہی چیز ممکن ہیں دھوکا اور موت۔‘

عامر لکھوجو چاہتے ہیں کہ ان جیسے لوگوں کے ساتھ سماج میں اچھا رویہ رکھا جائے۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’میری خواہش ہے کہ میرے جیسے جو معذور لوگ ہیں ان کی قدر کی جائے۔ ان کے ماں باپ سے میں کہنا چاہتا ہوں کہ ان کے ساتھ بیٹھ کر ان کے مطالبات سنیں۔ ان کی دل کی بات سنیں۔ ان کو بھی الله نے دل دیا ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا