چین نے جیش محمد کے خلاف اقوام متحدہ میں پابندیوں کا نفاذ روک دیا

عسکریت پسند گروپ جیش محمد کے نائب سربراہ عبدالرؤف اظہر دسمبر 2010 سے جیش محمد کے لیے کام کرنے پر امریکی پابندیوں کی زد میں ہیں جبکہ بھارت کا کہنا ہے کہ وہ متعدد حملوں کی منصوبہ بندی اور ان پر عمل درآمد میں ملوث تھے۔

19 مئی 2022 کو نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں بین الاقوامی امن و سلامتی، تنازعات اور خوراک کی سلامتی پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس کا ایک منظر (فائل فوٹو: اے ایف پی)

چین نے پاکستان میں کالعدم عسکریت پسند تنظیم جیش محمد کے نائب سربراہ کے خلاف اقوام متحدہ میں امریکہ اور بھارت کی پابندیوں کے نفاذ کو روک دیا ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) عبدالرؤف اظہر دسمبر 2010 سے جیش محمد کے لیے کام کرنے پر امریکی پابندیوں کی زد میں ہیں۔

بھارت کا کہنا ہے کہ وہ متعدد حملوں کی منصوبہ بندی اور ان پر عمل درآمد میں ملوث تھے، جن میں 1999 میں بھارتی ایئر لائنز کے طیارے کو ہائی جیک کرنا، 2001 میں بھارتی پارلیمنٹ پر حملے اور 2016 میں پٹھان کوٹ میں بھارتی فضائیہ کے اڈے پر حملہ شامل تھا۔

جون میں، چین نے اقوام متحدہ کی جانب سے ایک اور پاکستانی گروپ کالعدم لشکر طیبہ کے نائب سربراہ عبدالرحمٰن مکی کو اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ میں شامل کرنے سے روک دیا تھا۔

عبدالرحمٰن مکی نومبر 2010 سے امریکی پابندیوں کی زد میں ہیں اور بھارت کا کہنا ہے کہ وہ فنڈز اکٹھا کرنے، نوجوانوں کو بنیاد پرستی اور تشدد کے لیے بھرتی کرنے اور 2008 میں ممبئی سمیت دیگر حملوں کی منصوبہ بندی میں ملوث رہے ہیں۔

پاکستان کی انسداد دہشت گردی ایجنسی کے مطابق حکومت نے جیش محمد اور لشکر طیبہ سمیت 65 سے زائد عسکریت پسند گروپوں کو کالعدم قرار دے رکھا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

چین کے اقوام متحدہ کے مشن کے ترجمان، جو عوامی طور پر بات کرنے کے مجاز نہیں تھے، نے کہا کہ ’ہم نے پابندیوں کا نفاذ روکا کیونکہ ہمیں کیس کا مطالعہ کرنے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی نگرانی کی کمیٹی پابندیوں کے لیے تجویز کردہ لوگوں پر  ’ان کا نفاذ روکنے‘ کی اجازت دیتی ہے اور فہرست سازی کی درخواستوں پر کمیٹی کے اراکین کی جانب سے بہت سے ایسے فیصلے کیے گئے ہیں۔‘

دوسری جانب اقوام متحدہ میں امریکی مشن کے ترجمان، جنہیں بھی عوامی طور پر بات کرنے کا اختیار نہیں تھا، نے کہا کہ امریکہ دوسرے ممالک کی اس بات کی تصدیق کرنے کی ضرورت کا احترام کرتا ہے کہ جو لوگ پابندیوں کے لیے تجویز کیے گئے ہیں، وہ ثبوت کے معیار پر پورا اترتے ہیں کہ انہیں اقوام متحدہ کی پابندیوں کی بلیک لسٹ میں شامل کیا جائے۔

امریکی ترجمان نے مزید کہا کہ ’ہم اس کمیٹی کی اہمیت پر پختہ یقین رکھتے ہیں، جس کا مقصد داعش، القاعدہ اور ان سے وابستہ افراد کو ان کی غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے جوابدہ بنانا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا: مزید یہ کہ امریکہ اس پلیٹ فارم کو غیر سیاسی اور مؤثر طریقے سے استعمال کرنے کے لیے اپنی سلامتی کونسل کے شراکت داروں کے ساتھ تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، تاکہ دہشت گردوں کو عالمی نظام کا استحصال کرنے سے روکا جاسکے۔‘

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان