مصر چرچ میں آتشزدگی: 40 افراد کی ہلاکت پر پاکستان کا اظہار افسوس

پاکستانی دفتر خارجہ نے اتوار کو جاری کیے جانے والے بیان میں کہا ہے کہ ’ہم آتشزدگی کے المناک واقعے میں مرنے والوں کے لواحقین سے گہری ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کرتے ہیں۔‘

14 اگست 2022  کی اس تصویر میں مصر کے گیزہ صوبے میں سرکاری اہلکار آتشزدگی میں خاکستر ہونے والے چرچ کے باہر دیکھے جا سکتے ہیں(اے ایف پی)

پاکستان نے مصر کے چرچ میں آتشزدگی کے واقعے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر دلی تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ اس حادثے میں اب تک 40 سے زائد افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔

دفتر خارجہ کی جانب سے اتوار کو جاری بیان میں کہا گیا: ’ہم آتشزدگی کے المناک واقعے کے نتیجے مرنے والوں کے لواحقین سے گہری ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کرتے ہیں۔‘

بیان میں مزید کہا گیا کہ ’پاکستان دکھ کی اس گھڑی میں مصر کے عوام اور حکومت کے ساتھ کھڑا ہے۔‘

اس سے قبل مصری حکام نے بتایا کہ اتوار کو گریٹر قاہرہ میں واقع ایک چرچ میں آگ لگنے سے 40 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے۔

حکام کے مطابق یہ آگ بجلی کی خرابی کی وجہ سے لگی۔ جبکہ عینی شاہدین نے خوفناک مناظر بیان کیے جب لوگ پھنسے ہوئے عبادت گزاروں کو بچانے کے لیے کثیر المنزلہ عبادت گاہ میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے لیکن وہ جلد ہی حدت اور دھوئیں سے مغلوب ہو گئے۔

مصری قبطی چرچ اور وزارت صحت نے آگ میں 41 افراد کے ہلاک اور 14 کے زخمی ہونے کی اطلاع دی ہے۔

دوسری جانب ایمرجنسی سروس نے کہا ہے کہ انہوں نے آگ پر قابو پالیا گیا ہے۔

مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے اس واقعے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔

اپنے فیس بک پیج پر مصری صدر نے لکھا کہ ’میں نے تمام ریاستی محکموں کو متحرک کر دیا ہے تاکہ تمام ضروری امدادی اقدامات کو یقینی بنایا جا سکے۔‘

بعد میں انہوں نے کہا کہ انہوں نے پوپ تاواڈروس دوم کو فون کے ذریعے اپنی تعزیت کا اظہار کیا۔

گیزا کے گورنر نے مرنے والوں کے لواحقین کے لیے 50 ہزار مصری پاؤنڈ کی فوری امداد اور زخمیوں کے لیے 10 ہزار پاؤنڈز امداد کا اعلان کیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مصر کے سب سے بڑے مسلم ادارے الازہر کے سربراہ نے بھی اس افسوس ناک حادثے پر تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کے علاج کے لیے الازہر کے ہسپتالوں کی خدمات پیش کرنے کا اعلان کیا۔

دوسری جانب وزارت داخلہ نے کہا کہ ’فارنزک شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ آگ چرچ کی عمارت کی دوسری منزل پر واقع ایئر کنڈیشننگ یونٹ میں لگی جہاں سماجی خدمات کا دفتر بھی موجود ہے۔‘

قریبی چرچ کے فادر فرید فہمی نے اے ایف پی کو بتایا کہ آگ شارٹ سرکٹ کی وجہ سے لگی۔

انہوں نے کہا کہ ’بجلی بند تھی اور وہ جنریٹر استعمال کر رہے تھے لیکن جب بجلی واپس آئی تو اس سے اوورلوڈ ہوا۔‘

قاہرہ کے وسیع مضافاتی علاقوں میں حادثاتی آگ لگنا معمول کی بات ہے جہاں لاکھوں لوگ غیر منظم بستیوں میں رہتے ہیں۔

ایک عینی شاہد نے اے ایف پی کو بتایا کہ آگ بجھانے والے عملے کو اس حقیقت کی وجہ سے رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑا کہ چرچ انتہائی تنگ گلی میں واقع ہے جہاں عمارتیں بمشکل چند میٹر کے فاصلے پر کھڑی ہیں اور فائر انجن بمشکل ہی گلی سے گزر سکتے ہیں۔

مصر میں اکثر خستہ حال اور ناقص ڈھانچے کے باعث حالیہ برسوں میں مہلک آتشزدگی کے کئی واقعات پیش آ چکے ہیں۔

مارچ 2021 میں قاہرہ کے ایک مشرقی مضافاتی علاقے میں ایک ٹیکسٹائل فیکٹری میں آگ لگنے سے کم از کم 20 افراد ہلاک ہو گئے۔

2020 میں دو ہسپتالوں میں آگ لگنے سے 14 کرونا کے مریضوں کی جانیں گئی تھیں۔

گذشتہ پیر کو مشرقی قاہرہ میں ایک اور چرچ میں آگ لگ گئی تاہم اس واقعے میں کوئی ہلاکت یا زخمی نہیں ہوا۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا