پارٹی ویڈیو پر تنقید کے بعد فن لینڈ کی وزیراعظم کا جواب

سنا مارین نے منشیات استعمال کرنے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے صرف شراب پی تھی اور لطف لینے والے انداز میں پارٹی میں شرکت کی تھی۔

فن لینڈ کی وزیراعظم سنا مارین ان دنوں شدید تنقید کی زد میں ہیں، جس کی وجہ ان کا ایک پارٹی میں شریک ہونا ہے جب کہ اپنے ردعمل میں سنا مارین نے اسے اپنی ’نجی زندگی کا حصہ‘ قرار دیا ہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں 36 سالہ سنا مارین کو اپنے دوستوں کے ساتھ پارٹی کرتے اور رقص کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ ان کے دوستوں میں معروف شخصیات، گلوکار اور ریپرز بھی شامل تھے۔

یہ ویڈیو سامنے آنے کے بعد ٹوئٹر صارفین دو گروہوں میں تقسیم ہو گئے، جن میں سے ایک نے انہیں ’سب سے بہترین رہنما‘ قرار دے دیا جبکہ کچھ افراد نے اس طرز عمل پر تنقید کرتے ہوئے انہیں برطانوی وزیراعظم بورس جانسن سے تشبیہ دی ہے۔

بورس جانسن کو کرونا وبا کے دنوں میں لاک ڈاؤن کے دوران پارٹی منعقد کرنے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس پر انہوں نے معافی بھی مانگی تھی، تاہم فن لینڈ کے تجزیہ کار اور صحافی رابرٹ سنڈمین کے مطابق سنا مارین کی پارٹی کی ویڈیو سامنے آنے سے ’ان کی یا ان کی جماعت کی مقبولیت پر کوئی اثر نہیں پڑا۔‘

دوسری جانب کئی صارفین نے سنا مارین کے رقص کرنے کو ’بہادری‘ بھی قرار دیا ہے۔

کئی افراد نے، جن میں مارین کے ساتھی سیاست دان بھی شامل ہیں، ان کے اس طرز عمل کو ’وزیراعظم کے لیے غیر مناسب‘ قرار دیا ہے جبکہ کچھ صارفین نے ان کی ویڈیو کا موازنہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے کیا ہے جنہوں نے 2020 میں صدارتی مہم کے دوران ایک گانے پر رقص کیا تھا، لیکن ان کا مذاق اڑایا گیا تھا۔

فن لینڈ کی قدامت پسند جماعت کے رہنما آتو پوئستو نے ٹوئٹر پر لکھا کہ سنا مارین کا یہ رویہ ’حد سے بڑھ کر‘ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے دفتر کا احترام کیا جانا چاہیے اور اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وزیراعظم کے عہدے پر فائز فرد کی صنف کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا: ’میرے خیال میں لوگ وزیراعظم کے پارٹی کرنے کی ویڈیو پر ایک جیسی رائے کا اظہار کریں گے، کیونکہ یہ صنف کا معاملہ نہیں ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ماہر معیشت سارپ لیف لینڈر کا کہنا ہے کہ ’مارین خود تو پارٹی کر رہی ہیں لیکن وہ عوام کو اگلے موسم سرما میں توانائی کی بندش کے لیے تیار کر رہی ہیں۔‘

سوشل میڈیا پر سخت تنقید کے بعد فن لینڈ کی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اپنا طرز عمل بدلنے کی کوئی ٹھوس وجہ نہیں تھی۔

دوسری جانب حزب مخالف سے تعلق رکھنے والے سیاست دانوں نے ان پر منشیات کے استعمال کا الزام عائد کرتے ہوئے ان کے طبی جائزے کا مطالبہ کیا ہے۔

لیکن سنا مارین نے منشیات استعمال کرنے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ’صرف شراب پی تھی اور لطف لینے والے انداز میں پارٹی میں شرکت کی تھی۔‘

ان کا کہنا تھا: ’میری ایک نجی زندگی ہے۔ میں کام کرتی ہوں اور اپنے دوستوں کے ساتھ وقت گزارنے کے لیے میرے پاس وقت ہوتا ہے جیسے میری عمر کے تمام لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ میں اب تک جیسی ہوں میں ویسی ہی رہوں گی اور مجھے امید ہے کہ اسے قبول کیا جائے گا۔‘

سنا مارین نے جب دسمبر 2019 میں فن لینڈ میں وزارت اعظمیٰ کا حلف اٹھایا تو وہ اس وقت دنیا کی کم عمر ترین وزیراعظم تھیں۔

ان کا تعلق متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے ایک خاندان سے ہے۔ انہوں نے یونیورسٹی آف ٹیمپرے سے تعلیم مکمل کی، جس کے بعد وہ 205 میں صرف 29 سال کی عمر میں فن لینڈ کی پارلیمنٹ کا حصہ بنیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی دفتر