ترکی سویڈن اور فن لینڈ کی نیٹو میں شمولیت کے خلاف کیوں ہے؟

کسی بھی ملک کی نیٹو میں شمولیت کے لیے اس کے تمام 30 ارکان کی منظوری لازمی ہے لیکن ترکی کے صدر طیب اردوغان سویڈن اور فن لینڈ کو بلاک میں شامل کرنے پر اعتراض اٹھا چکے ہیں۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردگان 18 مئی 2022 کو انقرہ میں ترک گرینڈ نیشنل اسمبلی میں اپنی پارٹی کی گروپ میٹنگ کے دوران تقریر کر رہے ہیں (اے ایف پی)

روس کے یوکرین پر جارحانہ حملے نے مغرب کو ماسکو کے خلاف متحد کر دیا ہے۔ نیٹو کے رکن ممالک نے روسی حملے کے جواب میں یوکرین کو اسلحے کی فراہمی، جنگ سے فرار ہونے والے یوکرینی پناہ گزینوں کو اپنی سرزمین پر پناہ دینے اور روس پر سخت ترین معاشی پابندیوں جیسے اقدامات کیے ہیں۔

روسی صدر ولادی میر پوتن نے نیٹو میں توسیع کو اپنے ملک کی سلامتی کے لیے عظیم خطرے اور یوکرین پر حملے کے ایک جواز کے طور پر پیش کیا تھا۔ اس تناظر میں جب شمالی یورپ کے دو ممالک سویڈن اور فن لینڈ نے اپنی طویل فوجی غیرجانبداری کو ایک طرف رکھتے ہوئے نیٹو اتحاد میں شمولیت کا عندیہ دیا تو یہ خبر کریملن پر بجلی بن کر گری۔

عمومی طور پر نیٹو کے تمام ممالک نے اس پیش رفت کا خیر مقدم کیا ہے لیکن خاص طور پر بالٹک ریاستوں نے سٹاک ہوم اور ہلسنکی کی اتحاد میں شمولیت کی درخواست منظور کرنے کا اشارہ دیا ہے۔

کسی بھی ملک کی نیٹو میں شمولیت کے لیے اس کے تمام 30 ارکان کی منظوری لازمی ہے لیکن ترکی کے صدر طیب اردوغان سویڈن اور فن لینڈ کو بلاک میں شامل کرنے پر اعتراض اٹھا چکے ہیں۔

ترک صدر ان دو سکینڈینیوین ممالک کا ’دہشت گردوں کے گیسٹ ہاؤس‘ سے موازنہ کر چکے ہیں۔ کچھ عرصے سے انقرہ سویڈن پر باغی ترک مذہبی رہنما فتح اللہ گولن کو پناہ دینے کا الزام لگاتا آیا ہے۔ کچھ ناقدین فتح اللہ گولن پر صدر اردوغان کی حکومت کا تختہ الٹنے کی نیت سے فوجی بغاوت کو ہوا دینے کا الزام لگاتے ہیں جن کی انہوں نے ہمیشہ تردید کی ہے۔

انقرہ کا سٹاک ہوم کے ساتھ ایک اور مسٔلے پر بھی اختلاف ہے اور وہ سویڈن کی ترکی کو ہتھیاروں کی فروخت پر پابندی ہے۔ سویڈن نے 2019 میں ترکی کی شام پر ’جارحیت‘ کے بعد انقرہ کو اسلحے کی فروخت معطل کر دی تھی جو اب تک جاری ہے۔ انقرہ سٹاک ہوم پر یورپی یونین کی جانب سے دہشت گردوں کی فہرست میں شامل ’کرد ورکرز پارٹی‘ (پی کے کے) کے 33 مبینہ ارکان کو اپنے ملک سے بے دخل اور ترکی کے حوالے نہ کرنے کا بھی الزام لگاتا ہے۔

خطے کی بے چینی

اپنے داخلی ایجنڈے کی طرح ترکی عالمی سطح پر بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔ اس کو نیٹو اتحاد اور یوکرین کے ساتھ اپنے سٹریٹجک شراکت داری اور ماسکو کے ساتھ پیچیدہ مگر اہم تعلقات میں توازن قائم کرنا ہے۔ 

ترکی اور روس معاشی میدان اور خطے کے تعاون میں اہم شراکت دار ہیں خاص طور پر امریکہ، جارجیا اور آذربائیجان کے معاملے پر۔ لیکن خطے پر اجارہ داری قائم کرنے کے حوالے سے ان دو ممالک میں رقابت بھی پائی جاتی ہے مثال کے طور پر آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان کاراباغ خطے پر ہونے والی جنگ میں ماسکو اور انقرہ مخالف ممالک کی صفوں میں نظر آئے تھے۔

تاہم معاشی استحکام اور عسکری ٹکراؤ میں کمی روس اور ترکی دونوں کا مشترکہ مفاد ہو سکتا ہے یہی وجہ ہے کہ روس اور یوکرین کے تنازع میں ترکی نے خود کو ممکنہ ثالث کے طور پر پیش کیا ہے۔

ترکی نے روس کو کونسل آف یورپ سے نکالنے کی مخالفت کی ہے اور نیٹو ممالک کے برعکس  اقتصادی پابندیاں نہیں لگائیں۔ اسی دوران ترکی نے یوکرین کو اپنے دفاع کے لیے بھر پور مدد بھی فراہم کی ہے اور کریملن کی جانب سے کیئف کے خلاف ’سپیشل ملٹری آپریشن‘ کہلائی جانے والی جارحیت کو جنگ قرار دیا ہے۔

روس نے حالیہ سالوں میں اپنی قوت کا بے دریغ استعمال کیا ہے جس میں فروری 2014 میں کریمیا پر قبضہ اور شام میں جارحیت شامل ہے۔

انقرہ اور ماسکو کے درمیان تعلقات میں اس وقت سنگین تلخی دیکھی گئی جب ترکی نے مبینہ طور پر اپنی فضائی حدود میں داخل ہونے والے روسی لڑاکا طیارے SU-24 کو مار گرایا جس کے جواب میں روس نے ترکی پر پابندیاں عائد کر دیں تاہم بعد میں صدر اردوغان اور صدر پوتن نے ان کشیدہ تعلقات کو بحال کر لیا۔

ترکی کے روس کے ساتھ اہم معاشی تعلقات قائم ہیں جو بڑی حد تک روس سے درآمد کی جانے والی گیس پر انحصار کرتا ہے۔

’ترک سٹریم‘ نامی پائپ لائن جس نے 2020 میں کام شروع کیا تھا، بحیرہ اسود کے راستے روسی گیس کے لیے ایک متبادل برآمدی گزرگاہ ہے جو یوکرین کو بطور ایک ٹرانزٹ ملک بائی پاس کرتا ہے۔

 اس سے دونوں ممالک کے درمیان فوجی تعاون کو بھی فروغ ملا ہے۔ ترکی نے روس سے S-400 ایئر ڈیفنس سسٹم خریدا ہے اور انقرہ روسی فوجی طیارے خریدنے پر بھی غور کر رہا ہے۔

ترکی اور روس کے تعلقات کے اس پہلو نے صدر اردوغان کو نیٹو کے ساتھ تصادم کے راستے پر ڈال دیا اور روسی دفاعی نظام کے میزائلوں کی پہلی کھیپ پہنچنے کے بعد امریکہ نے ترکی پر پابندیاں عائد کی ہیں لیکن اس سب کے باوجود ترکی کی یوکرین سے بھی قربت ہے۔ روسی حملے کے بعد ترکی نے یوکرین کے ساتھ ایک آزاد تجارتی معاہدے پر دستخط کر کے خود کو کیئف کے ایک اہم شراکت دار کے طور پر پیش کیا ہے۔

ترکی یوکرین کے ساتھ اہم فوجی تعاون میں بھی مصروف ہے اور اس نے Ada-class  جنگی بحری جہاز، اینٹی سب میرین شپ اور طویل فاصلے تک مار گرانے والے ڈرونز کی تیاری کے لیے مشترکہ پیداواری اور تربیتی مرکز قائم کیا ہے۔

ترکی کے یہ اقدام یوکرین کو ایک اہم فوجی ٹیکنالوجی منتقل کرنے کے مترادف ہے۔ یہ جہاز یوکرین کی بحریہ میں ایک اہم اضافہ ہیں جبکہ ترک ڈرونز نے پہلے ہی میدان جنگ میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے جن کی مدد سے یوکرین نے روسی بکتر بند گاڑیوں کو بڑے پیمانے پر تباہ کیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ترکی نے شام میں اپنی فوجی کارروائیوں کے دوران روس کی آپریشنل لاجسٹکس یا رسد کی فراہمی میں رکاوٹ ڈالنے والے مختلف اقدامات بھی کیے جن میں بحیرہ اسود سے آبنائے باسفورس کے ذریعے روسی جنگی جہازوں کو گزرنے کی اجازت نہ دینا اور اپنی فضائی حدود کو محدود کرنا شامل ہے۔ ترکی نے یوکرین جنگ میں بھی دوبارہ ایسا ہی کیا ہے۔

دوسری جانب سویڈن اور فن لینڈ نے نیٹو کی رکنیت کے لیے ایک باضابطہ درخواست دی تو امریکہ اور نیٹو کے دیگر اراکین نے سکینڈینیوین ممالک کی بلاک میں شمولیت کے لیے کھل کر اپنی حمایت کا اظہار کیا ہے۔ یہاں تک کہ روس نے بھی اس معاملے پر اپنے پرانے سخت رویے میں نرمی برتی ہے جو اس سے قبل بلاک کی توسیع پر سنجیدہ دھمکیاں دیتا رہا ہے۔

امریکہ اور برطانیہ نے کہا ہے کہ جب تک رکنیت کے لیے درخواستیں زیر غور رییں گی سویڈن اور فن لینڈ کو سکیورٹی کی یقین دہانی کرائی جائے گی۔

اگرچہ صدر اردوغان نے پہلے دونوں ممالک کے وفود کی جانب سے مذاکرات کی خاطر ترکی کا دورہ کرنے کی درخواست کو مسترد کر دیا تھا لیکن اس کے باوجود سویڈن اور فن لینڈ پُرامید ہیں کیونکہ ترکی نے اشارہ دیا ہے کہ وہ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

اس بات کا امکان ہے کہ ترک صدر بحثیت موقع پرست اس معاملے پر نورڈک ممالک سے مراعات حاصل کرنے کے لیے استعمال کرنے کی امید کر رہے ہوں۔ اہم بات یہ ہے کہ سویڈن پہلے ہی اس بات کی تصدیق کر چکا ہے کہ وہ کرد علیحدگی پسند گروپ ’پی کے کے‘ کو ایک دہشت گرد تنظیم تسلیم کرتا ہے۔

لیکن اگر ترکی اس معاملے پر لچک نہیں دکھاتا ہے تو اسے خطرہ ہو سکتا ہے کہ سویڈن اور فن لینڈ کو اتحاد کا ڈی فیکٹو (سکیورٹی کی مکمل ضمانت کی چھتری تلے مستقل رکنیت کے بغیر) رکن بنا دیا جائے۔

اس کے علاوہ ترکی، جو کئی برسوں سے الگ ہونے کے خطرے سے دوچار ہے، نیٹو میں مزید الگ تھلگ ہو سکتا ہے اور یوکرین کے لیے کی گئی اپنی فوجی حمایت کے بدلے حاصل کیے گئے تمام سیاسی فوائد سے محروم ہو سکتا ہے۔


یہ تحریر اس سے قبل دا کانورسیشن میں شائع ہوچکی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا