ترکی: روسی فوجی شام لے جانے والے طیاروں کے لیے فضائی حدود بند

ترکی میں سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ ترکی نے اپنے فضائی حدود روس سے شام جانے والے فوجی اور سویلین طیاروں کے لیے بند کر دی ہے۔

ترکی کے ساتھ شام کی شمال مشرق سرحد پر چار فروری 2021 کو روسی فوجی گشت کر رہے ہیں۔ ترکی نے روسی فوجیوں کی پروازوں کے لیے فضائی حدود بند کر دی ہیں (اے ایف پی)

ترکی میں سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ ماسکو کے ساتھ مشاورت کے بعد ترکی نے اپنے فضائی حدود روس سے شام جانے والے فوجی اور سویلین طیاروں کے لیے بند کر دی ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سرکاری میڈیا نے وزیر خارجہ میولود چاوش اولو کے اس حوالے سے ایک بیان کا حوالہ دیا۔

نیٹو کے رکن ترکی کے روس اور یوکرین دونوں کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور اس نے دونوں کے درمیان جنگ میں ثالثی کی کوشش بھی کی ہے۔

ترک میڈیا کے مطابق چاوش اولو نے یوراگوئے جاتے ہوئے ایک طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہا: ’ہم نے روس کے فوجی اور یہاں تک کہ  فوجیوں کو شام لے جانے والے سویلین طیاروں کے لیے بھی فضائی حدود بند کر دی ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا کہ اپریل تک تین ماہ  کے لیے اجازت دی گئی تھی اور پھر پروازیں رک گئیں۔

الجزیرہ کے مطابق ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ انہوں نے اس فیصلے سے اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاوروف کو آگاہ کیا جنہوں نے یہ فیصلہ صدر ولادی میر پوتن کو پہنچایا۔

چاوش اولو نے کہا کہ ایک یا دو دن بعد انہوں نے بتایا: ’ولادی میر پوتن نے حکم جاری کر دیا ہے، ہم مزید پرواز نہیں کریں گے۔‘

ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ روس اور یوکرین کے درمیان بات چیت جاری ہے اور فریقین مشترکہ اعلامیے کے مسودے پر کام کر رہے ہیں۔

چاوش اولو نے کہا کہ اگر مذاکرات میں پیش رفت ہوئی تو روسی صدر ولاد ی میر پوتن اور یوکرین کے صدر وولودی میر زیلنسکی نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ ترکی میں ایک اجلاس منعقد کیا جا سکتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا