’روٹھے ہو تم‘ گانے والی نیئرہ نور خود دنیا سے روٹھ گئیں

نیئرہ نور کو 2006 میں پرائڈ آف پرفارمنس جبکہ 1973 میں فلم گھرانہ کے گانوں کے لیے بیسٹ پلے بیک فی میل سنگر کا نگار ایوارڈ ملا۔

نیئرہ نور 1950 میں انڈیا کی ریاست آسام میں پیدا ہوئیں (تصویر مندانہ زیدی)

یہ کوئی 80 اور 90 کی دہائی کے بیچ کی بات ہے جب پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) پر اکثر ایک گلوکورہ آتی تھیں جو دیگر گلوکاراؤں سے ذرا ہٹ کر دکھائی دیتیں۔

بالکل سادہ سی، ہلکا میک اپ، بالوں کی چٹیا اور کیمرے کی جانب بہت کم دیکھنا، مگر ان کی آواز انتہائی سریلی تھی۔

14 اگست کو یوم آزادی کے موقعے پر ان کا گایا ملی نغمہ ’وطن کی مٹی گواہ رہنا‘ دہائیوں پہلے بھی شوق اور جذبے سے سنا جاتا تھا اور آج بھی اس کی چاشنی میں کمی نہیں آئی۔ یہ گلوکارہ نیئرہ نور تھیں۔

پاکستان کی یہ مایہ ناز پلے بیک اور غزل سنگر ہفتے اور اتوار کی درمیانی رات کراچی میں انتقال کر گئیں۔ 

فیض احمد فیض کی بیٹی منیزہ ہاشمی نے اپنے ایک شو ’تم جو چاہو تو سنو‘ میں نیئرہ نور کا چند برس پہلے انٹرویو کیا تھا۔

منیزہ کا کہنا تھا کہ نیئرہ کو پی ٹی میں انہوں نے متعارف کروایا تھا کیونکہ فیض احمد فیض کی شاعری اور نیئرہ کی آواز دونوں میں ربط تھا۔

انہوں نے فیض کی نظم ’آج بازار میں پابجولاں چلو‘ کے علاوہ کئی اور نظمیں اور غزلیں گائیں۔ 

اس شو میں نیئرہ نے بتایا تھا کہ جب وہ نیشنل کالج آف آرٹس میں پڑھا کرتی تھیں تو اس وقت وہاں کانسرٹس ہوا کرتے تھے جہاں موسیقی کے بڑے بڑے استاد آیا کرتے تھے۔

انہوں نے بتایا: ’اسلامیہ کالج کے پروفیسر اسرار نے ایک کانسرٹ پر آنا تھا مگر انہیں پہنچنے میں کچھ دیر ہو گئی تو مجھے میرے کلاس فیلوز اور اساتذہ نے سٹیج پر بٹھا دیا کہ جب تک وہ نہیں آتے میں گانا گا لوں۔

’میں جب گانا گا کر سٹیج سے اتری تو پروفیسر اسرار سامنے کھڑے تھے انہوں نے مجھے روکا اور اپنا تعارف کروایا اور کہا کہ میں آپ کو یہ بتانے آیا ہوں کہ آپ بہت اچھا گاتی ہیں اس فن کو ضائع نہ کیجیے گا۔‘

نیئرہ نور نے بتایا کہ پروفیسر اسرار نے پھر ان کی بہت حوصلہ افزائی کی اور انہیں ریڈیو سٹیشن لے کر گئے جس کے بعد انہوں نے جو بھی پروگرام کیا اور غزل گائی وہ ریڈیو پر گائی۔

نیئرہ نے اس پروگرام میں یہ بھی بتایا کہ انہیں بچپن سے گانا گانے کا شوق نہیں تھا البتہ انہیں موسیقی سننے کا بہت شوق تھا اور وہ ہر وقت کوئی نہ کوئی گانا سنتی رہتی تھیں اور اسے کاپی کرنے کی کوشش کیا کرتی تھیں۔

’اس وقت میری دماغ میں یہ بات کبھی آئی ہی نہیں تھی کہ میں گانے گاؤں گی یا موسیقی کو آگے چل کر ایک پیشے کے طور پر اپناؤں گی۔‘

پروگرام میں نیئرہ نور نے اپنے بچپن کے حوالے سے بتایا کہ بچپن میں ان کو ایک احساس تھا کہ جیسے وہ کسی چیز کی تلاش میں ہیں۔

’جہاں کہیں کوئی صحیح سر میرے کان میں پڑ جایا کرتا تھا میں وہاں کھڑی ہو جایا کرتی تھی۔ اسی تلاش میں میرے اندر کی شوخی آہستہ آہستہ ختم ہو تی گئی اور میں سنجیدہ اور سوبر ہو گئی۔‘

انہوں نے بتایا کہ ان کے گھر میں اعلیٰ معیار کی موسیقی سنی جاتی تھی اور ایک پوری کلیکشن موجود تھی جسے سبھی گھر والے سنتے تھے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ شادی کے بعد جب بچے ہو گئے تو ان کے لیے ریاض کرنا بہت مشکل ہوتا تھا کیونکہ بچوں اور گھر کی ذمہ داریاں بھی ان کے ساتھ تھیں مگر پھر بھی وہ کوشش کر کے تھوڑا بہت ریاض کیا کرتی تھیں کیونکہ وہ جانتی تھیں کہ اگر انہوں نے ایسا نہیں کیا تو ان کی آواز کا معیار ٹھیک نہیں رہے گا۔

’وہ دنیا میں جو کرنے آئیں تھیں، کرچکیں‘

نیئرہ نور کے شوہر شہریار زیدی کی بھتیجی مندانہ زیدی نے، جو معروف آرٹسٹ شاہ نواز زیدی کی بیٹی بھی ہیں، انڈپینڈںٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ نیئرہ بہت محبت کرنے والی خاتون تھیں۔

’وہ کھانے بہت اچھے بناتی تھیں اور انہیں اپنی فیملی کے لیے کھانا بنانا بہت پسند تھا۔ موسیقی ایک ایسی چیز تھی جو انہوں نے بہت جذبے سے کی اور جب انہوں نے موسیقی چھوڑی تو انہیں معلوم تھا کہ انہوں نے جو کام کرنا تھا وہ کرلیا ہے۔‘

مندانہ کے خیال میں فیض کو جس طرح نیئرہ نے گایا ویسا کسی نے نہیں گایا اور انہوں نے جو کچھ بھی گایا وہ ایک یادگار ہے جس کے ذریعے نیئرہ نور کو بھی یاد کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ نیئرہ روحانی طور پر بھی بہت مضبوط خاتون تھیں۔ ’انہیں معلوم ہو چکا تھا کہ وہ دنیا میں جو کرنے آئیں تھیں وہ کر چکی تھیں۔ وہ بہت خیال کرنے والی، محتاط اور اعلیٰ خاتون تھیں۔‘

میاں یوسف صلاح الدین عرف میاں صلی نے نیرہ نور کے حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو کے ساتھ اپنی کچھ یادیں شئیر کیں۔ ان کا کہنا تھا: ’مجھے یاد پڑتا ہے کہ غالباً 1969 یا 1970 کی بات ہے میں گورنمنٹ کالج میں پڑھتا تھا۔ اس وقت آل پاکستان میوزیکل کانفرنس ہوا کرتی تھی اوپن ائیر تھیٹرجناح باغ میں۔ مجھے چونکہ بچپن سے ہی شوق تھا میوزک کا تو میں وہاں موجود تھا۔ بڑی زبردست محفل تھی۔ اس محفل میں نیرہ نور بھی آئیں اور میرے خیال میں یہ ان کی پبلک میں پہلی پرفارمنس تھی۔ انہوں نے آکر بیگم اختر کا گایا ہوا بڑا مشہور دادرا ’چھا رہی کالی گھٹا جیا مورا لہرائے‘ آ کر گایا۔ یقین کریں کہ ماحول ہی بدل گیا۔ سب دنگ رہ گئے کہ یہ چھوٹی سی پتلی باریک سی لڑکی کی کس قدر خوبصورت آواز ہے۔ اس کے بعد پھر سب لوگ کھڑے ہوگئے اور مطالبہ کیا کہ وہ کچھ اور گائیں لیکن انہوں نے نہیں گایا۔ پھر اس کے بعد نیرہ نورنے جو بھی کام کیا فیض پڑھا، اور دیگر کلام اور پھر خاص طور پر پاکستان ٹیلی ویژن کے ساتھ جو کام کیا وہ بہت مختلف ہوا۔ مجھے انتہائی دکھ ہوا اور مجھے معلوم ہے کہ اپنی آخری عمر میں وہ دنیاوی چیزوں سے بالکل الگ ہو گئیں تھیں اور روحانیت کی طرف ان کا رحجان بہت زیادہ ہو گیا تھا۔ نیرہ نور کے لیے ہم یہی دعا کر سکتے ہیں کہ اللہ ان پر رحم کرے کیونکہ وہ ایک ایسا ستارہ تھیں جسے کبھی بھلایا نہیں جا سکتا۔‘

زندگی کے اوائل

نیئرہ نور 1950 میں انڈیا کی ریاست آسام میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد آل انڈیا مسلم لیگ کے متحرک رکن تھے۔ نیئرہ اپنی والدہ اور بہن بھائیوں کے ساتھ  1957 اور 1958 کے بیچ ہجرت کر کے پاکستان آئیں اور کراچی میں رہنے لگیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

1968 میں پروفیسر اسرار احمد نے نیئرہ نور کو این سی اے میں گاتے سنا اور اس کے بعد انہیں ریڈیو پاکستان لے کر گئے جہاں سے انہوں نے گانے کا آغاز کیا۔

1971 میں نیئرہ نور نے باقاعدہ پی ٹی وی کے ڈرامہ سیریلز کے ساؤنڈ ٹریک گانے شروع کیے اور پھر فلموں کے گانے بھی گانے شروع کیے۔ 

انہوں نے فیض احمد فیض، غالب، احمد شمیم، ناصر کاظمی ابن انشا اور دیگر مشہور شعرا کا کلام ںظم اور غزل کی صورت میں گایا۔ 

احمد شمیم کی ایک  ںظم ’کبھی ہم خوبصورت تھے‘ کو بطور ساؤنڈ ٹریک ڈرامہ تیسرا کنارہ کے لیے گایا۔ اس کے علاوہ ان کی گائی گئی مشہور غزلوں اور نظموں میں اے جذبہ دل گر میں چاہوں، جلے تو جلاؤ گوری، پھر ساون رت کی پون چلی تم یاد آئے، اے عشق ہمیں برباد نہ کر، اور دیگر شامل ہیں۔

نیئرہ نے فلموں کے گانے بھی گائے جن میں فلم آئینہ کا گانا ’روٹھے ہو تم اور مجھے دل سے نہ بھلانا۔ فلم گھرانہ کا گانا تیرا سایہ جہاں بھی ہو سجنا، فلم فرض اور مامتا میں گایا گیا ملی نغمہ ’اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں‘ وغیرہ شامل ہیں۔

نیئرہ نور کو 2006 میں پرائڈ آف پرفارمنس ایوارڈ سے نوازا گیا جبکہ 1973 میں انہیں فلم گھرانہ کے گانوں کے لیے بیسٹ پلے بیک فی میل سنگر کے طور پر نگار ایوارڈ بھی دیا گیا۔ 

ان کی شادی شہریار زیدی سے ہوئی جو خود ایک ڈرامہ اداکار ہیں، ان کے دو بیٹے ہیں جعفر زیدی اور ناد علی ہیں۔ 

ان کے گانوں کے حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو نے ٹوئٹر پر ایک پول بھی شائع کیا جس میں صارفین سے پوچھا گیا کہ ان کے مطابق نیئرہ نور کا کون سا گانا ان کو بہت پسند ہے۔

 

زیادہ پڑھی جانے والی فن