آئی ایس آئی سربراہ جنرل فیض برطانوی حمایت کے حق دار

لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو اس وقت یہ اہم ترین ذمہ داری سونپی گئی ہے جب کئی لوگ یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن جنگ جیت چکا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا نام پاکستان فوج کی جانب سے 2015 میں دی رائل کالج آف ڈیفنس سٹڈیز میں بھیجے گئے برگیڈیئرز کی فہرست میں سب سے اوپر تھا

گذشتہ مہینے پاکستان کی حکومت نے اپنی پرائم انٹیلی جنس ایجنسی انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے نئے سربراہ کی تعیناتی کا اعلان کیا تھا۔

لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو اس وقت یہ اہم ترین ذمہ داری سونپی گئی ہے جب کئی لوگ یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن جنگ جیت چکا ہے۔
جنرل فیض کی اس تعیناتی پر کچھ مبصرین نے حسب توقع اور اکتاہت بھری تنقید بھی کی۔ جنرل فیض کو ویلن ثابت کرنے میں ناکامی کے بعد یہ مبصرین حقیقت کے برعکس اب نااہلیت کے طعنوں کے ساتھ میدان میں اتر آئے ہیں۔
گذشتہ دو برسوں کے دوران پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے اور یہی وجہ ہے کہ برٹش ائیرویز نے سکیورٹی کی صورتحال میں بہتری پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے تقریباً ایک دہائی بعد پاکستان کے لیے اپنی پروازیں بحال کر دی ہیں۔
اسی طرح اقوام متحدہ نے بھی حال ہی میں اسلام آباد کو محفوظ سٹیشن قرار دیتے ہوئے اپنے سفارت کاروں کو اہل خانہ کے ساتھ پاکستان میں قیام کی اجازت دینے کا اعلان کیا ہے۔  
ان سب کامیابیوں میں آئی ایس آئی نے اہم کردار ادا کیا ہے اور جو شخص اس کی اندورنی سکیورٹی کے معاملات کو چلا رہے تھے وہ کوئی اور نہیں بلکہ جنرل فیض ہی ہیں۔
اگر ہم روایتی تکبر کو مدنظر رکھیں تو یہ جاننا آسان ہے کہ مغرب کی آئی ایس آئی کو شک کی نظر سے دیکھنے کی کچھ زیادہ وجوہات نہیں ہیں۔ 
مجھے بی بی سی پر چلنے والی حیرت انگیز سیریز ’بلیکڈار گوز فورتھ‘ کے کئی مناظر یاد ہیں جن میں جنرل میلچیٹ برطانوی ایجنٹوں کو شاندار ساتھی اور بہادر ہیرو جیسے القابات سے نوازتے ہیں جبکہ جرمن ایجنٹوں کو گندے ’ہن نیولے‘ قرار دیتے ہیں جو ایک ناکام جنگ لڑ رہے تھے۔
ہم رچرڈ گرینیر کے اس قول پر دل و جان سے یقین رکھتے ہیں جس میں وہ کہتے ہیں ’ہم اپنے بستروں پر اس لیے سکون سے سو پاتے ہیں کیوں کہ ہمارے سخت جان سپاہی رات بھر ان پُرتشدد طاقتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں جو ہمیں نقصان پہنچا سکتے ہیں۔‘ ہمارے مغربی ساتھیوں کو بھی پاکستان کے بارے میں ایسا ہی سوچنا چاہیے۔
پاکستانی فوج کی اقدار ہماری اقدار سے مختلف ہو سکتی ہیں اور جنرل فیض ہمارے ’سخت جان سپاہی‘ کے برعکس پُرکشش، بااصول اور انتہائی عقل مند ہیں۔
یقینی طور پر ہم آئی ایس آئی کی اخلاقی حدود پر اپنی آنکھیں بند نہیں کر سکتے، وہ کچھ برے لوگوں کی حمایت ضرور کرتی ہے تاہم وہ اتنے زیادہ یا اس حد تک بھی برے نہیں ہیں جتنا اس کے ہمسائے اس پر الزام لگاتے ہیں، لیکن ہم بھی تو ایسا ہی کرتے ہیں۔ برطانوی فوج اور اس کی سکیورٹی کے لیے پاکستانی فوج اور اس کی انٹیلی جنس ایجنسی کی اہمیت کے بارے میں لکھنا درست اقدام ہے۔
گذشتہ ہفتے برطانوی ڈیفنس چیف آف سٹاف جنرل سر نِک کارٹر پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے ہمراہ کرکٹ ورلڈ کپ کا میچ دیکھنے سٹیڈیم گئے تھے۔
برطانیہ کے اہم ترین دفاعی تھنک ٹینک ’دی رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ‘ نے 2017 میں ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی تھی جس میں برطانوی اور پاکستانی افواج کے درمیان تاریخی اور سٹریٹجک تعلقات اور اس کی اہمیت پر روشنی ڈالی تھی۔ اس رپورٹ میں فیلڈ مارشل لارڈ گیتھری  کا بھی ذکر کیا گیا ہے جنہوں نے پاکستانی فوج کے ساتھ قریبی اور دوستانہ تعلقات استوار کیے جو آج تک قائم ہیں۔
دنیا کے سب سے معتبر ملٹری کالج ’دی رائل کالج آف ڈیفنس سٹڈیز‘ میں خطاب کرتے ہوئے فیلڈ مارشل لارڈ گیتھری کا کہنا تھا کہ ان کے دوست جنرل پرویز مشرف سے بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے کہ کیسے پاکستان کی فوج دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دورہ پاکستان کے دوران میں نے خیبر رائفلز کے شاندار میس کی دیواروں پر سر مائیکل جیکسن سمیت کئی برطانوی جنرلوں کی تصاویر دیکھی۔ یہ وہ عظیم اور قابل احترام جنرلز تھےجنہوں نے پاکستان سے تعلقات کی اہمیت کو سمجھا۔ لارڈ گیتھری اور پرویز مشرف دونوں دی رائل کالج آف ڈیفنس سٹڈیز سے فارغ التحصیل تھے اور ایک اور ممتاز پاکستانی جنرل راحیل شریف بھی۔

اسی طرح آئی ایس آئی کے نئے سربراہ جنرل فیض بھی دی رائل کالج آف ڈیفنس سٹڈیز سے گریجویٹ ہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس ادارے سے تعلیم و تربیت حاصل کرنے والے افسران کا شمار دنیا کے سب سے قابل ترین افسروں میں ہوتا ہے اور دنیا بھر سے آنے والے افسران بلآخر تھری اور فور سٹار جنرل تک ترقی پا جاتے ہیں۔

جنرل فیض نے اس طویل روایت کو جاری رکھا اور ان کا نام پاکستان فوج کی جانب سے 2015 میں دی رائل کالج آف ڈیفنس سٹڈیز میں بھیجے گئے برگیڈیئرز کی فہرست میں سب سے اوپر تھا۔
بطور فوجی، افغان جنگ کے دوران اپنے تجربے سے میں نے جو ایک مختصر لیکن اہم بات سیکھی وہ یہ تھی کہ برطانوی فوج اور سکیورٹی کے لیے پاکستان کا استحکام، افغانستان سے زیادہ نہیں تو اس کے برابر اہمیت کا حامل ہے۔ یہی بات کابل میں سابق برطانوی سفیر سر شیرہڈ کوپر کالز نے بھی اپنی یادداشت میں لکھی ہے۔
برطانوی اور پاکستانی سکیورٹی اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے درمیان تعاون سے ہر سال درجنوں حملوں کو ناکام بنایا گیا ہے۔ اس بات کا اعتراف برطانوی سپیشل فورسز کے سابق سربراہ جنرل جوناتھن شا نے بھی کئی موقعوں پر کیا، جن کا کہنا تھا کہ ’برطانیہ اور پاکستان کے درمیان قریبی فوجی رابطے قائم ہیں جس کا ثبوت یہ ہے کہ دی رائل کالج آف ڈیفنس سٹڈیز سے فارغ التحصیل چار افسران کو پاکستانی دفاعی اداروں کے سربراہ بننے کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔ مشترکہ سلامتی کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون اور گہرے تعلقات اہم ہیں جو ہماری مشترکہ تاریخ، آبادی اور موجودہ چیلنجوں کا ناگزیر نتیجہ ہیں۔‘
دونوں ملکوں کے درمیان فوجی تعاون کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مشترکہ فوجی تربیت، نظریاتی مشابہت اور ثقافتی مفاہمت کے باعث پاکستانی فوج واحد غیر مغربی فوج ہے جس کے پلاٹون کمانڈر رائل ملٹری اکیڈمی سینڈہارسٹ میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ 
ہمیں ان برطانوی فوجی افسران کے مستقبل پر بھروسہ ہے جن کو پاکستانی اساتذہ ہماری ہی سرزمین پر تربیت دے رہے ہیں۔ لہذا ہمیں آئی ایس آئی پر اعتماد بڑھانا چاہیے اور جنرل فیض حمید ان تعلقات کو مزید مضبوط کریں گے۔

نوٹ: یہ مضمون عرب نیوز کے پاکستان شمارے میں شائع ہو چکا ہے اور اسے اجازت کے ساتھ  یہاں پوسٹ کیا گیا۔

رابرٹ گیلی مور ایک سابق برطانوی فوجی، سکیورٹی مشیر اور وسطی ایشیا، مشرق وسطی اور افریقی امور کے ماہر ہیں۔ پاکستان فوج پر ان کی ایک کتاب کی اشاعت آئندہ سال متوقع ہے۔

             

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان