چین: کتاب میں ’بدصورت اور جنسی‘ تصاویر کی وجہ سے27 افراد کوسزا

وزارت تعلیم کے ورکنگ گروپ کی جانب سے کئی ماہ تک جاری رہنے والی تحقیقات سے پتا چلا کہ یہ کتابیں ’خوبصورت‘ نہیں تھیں اور کچھ تصاویر ’کافی بدصورت‘ تھیں۔

ان تصاویر کو چین کی بدنامی اور’ثقافتی تباہی‘ سمجھ کر تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ (تصویر: وٹس آن ویبو)

چین میں حکومت نے 27 افراد کو اس لیے سزا دی کہ انہوں نے سکولز کی نصابی کتابوں کی متعدد ڈرائنگز میں ’بدصورت‘ اور اداس طلبا دکھائے تھے۔

رپورٹس کے مطابق کچھ تصاویر کو جنسی بھی سمجھا گیا۔

پیر کو چینی وزارت تعلیم نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ سرکاری ملکیت پیپلز ایجوکیشن پریس کی جانب سے شائع کردہ ریاضی کی نصابی کتابوں کی تصاویر پر چینی معاشرے کی جانب سے ’بڑے پیمانے پر‘ ردعمل سامنے آیا ہے۔

وزارت تعلیم کے ورکنگ گروپ کی جانب سے کئی ماہ تک جاری رہنے والی تحقیقات سے پتا چلا کہ یہ کتابیں ’خوبصورت‘ نہیں تھیں اور کچھ تصاویر ’کافی بدصورت‘ تھیں۔

یہ کتابیں تقریبا ایک دہائی قبل شائع ہوئی تھیں۔ مئی میں شنگھائی کے ایک چنگپو ضلعی سکول کے ایک استاد نے کئی تصاویر آن لائن پوسٹ کیں اور کہا کہ یہ تصاویر ’چینی بچوں کی معصومیت، خود ترغیبی اور چمک دمک ‘ کا اظہار کرنے میں ناکام رہی ہیں۔

بیان کے مطابق پبلی کیشن کے ایڈیٹر ان چیف اور شعبہ ریاضی کے سربراہ سمیت 27 افراد نے ’اپنے فرائض اور ذمہ داریوں سے غفلت برتی‘۔

ان ڈرائنگز کو ’نسل پرستانہ‘ بھی قرار دیا گیا تھا کیونکہ ان میں مبینہ طور پر چینی طلبا کو چھوٹی آنکھوں کے ساتھ دکھایا گیا تھا۔ ایک مثال میں ایک لڑکی کا زیر جامہ نظر آنے کی بھی تھی جب وہ رسی پر کود رہی تھی۔

سوشل میڈیا صارفین نے یہ بھی بتایا کہ ان تصاویر میں لڑکوں کو لڑکیوں کے سکرٹ پکڑتے ہوئے دکھایا گیا ہے جبکہ ایک بچے کی ٹانگ پر ٹیٹو دیکھا جاسکتا ہے۔

ان تصاویر کو چین کی بدنامی اور’ثقافتی تباہی‘ سمجھ کر تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

جلد ہی چینی حکام نے اعلان کیا کہ وہ زیر بحث نصابی کتابوں کا جائزہ لیں گے تاکہ وہ ’صحیح سیاسی سمت اور اقدار کے مطابق ہوں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بیان میں یہ بھی کہا گیا:’ تصاویر کا مجموعی اندازعوام کے جمالیاتی ذوق سے مطابقت نہیں رکھتا۔ کچھ کردار بدصورت ہیں، کم جذبے اور برے انداز کا مظاہرہ کرتے ہیں اور ہماری قوم کے بچوں کی مثبت تصویر کی عکاسی نہیں کرتے۔‘

تحقیقات میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ اس میں کئی غلطیاں تھیں جن میں سے متعدد ’سائنسی اور معیاری مسائل‘ کے ساتھ تھیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پیپلز ایجوکیشن پریس نے نصابی تصاویر کے تعلیمی کام کو ’مکمل طور پر نہیں سمجھا‘ اور مصوروں کا انتخاب اچھی طرح نہیں کیا گیا ہے۔

دریں اثنا عوامی رعمل کی وجہ سے ناشر کو مجبوراَ عوامی معافی مانگنی پڑی۔

چینی حکام نے ناشر کو حکم دیا کہ آنے والے تعلیمی سال جو ستمبر میں شروع ہوگا کے لیے اپنی کتابوں کو دوبارہ ڈیزائن کرے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا