کرتارپور راہداری: 80 فیصد معاملات پر اتفاق رائے

ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ معاہدے کے بعد مخصوص تفصیلات کا عوام کے ساتھ تبادلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ راہداری کھولنے کا مقصد امن کا قیام ہے۔

پاکستان اور بھارت کرتارپور راہداری منصوبے پر تیزی سے کام جاری رکھنے کی یقین دہانیاں کروا رہے ہیں۔ (اے ایف پی)

پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا ہے کہ اتوارکو پاکستان اور بھارت کے درمیان کرتار پور راہداری سے متعلق 80 فیصد معاملات پر اتفاق رائے ہوگیا ہے۔

انہوں نے آج واہگہ میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ باقی معاملات بھی مستقبل میں ہونے والی بات چیت کے دوران حل کر لیے جائیں گے۔ انہوں نے کہ اجلاس میں کرتارپور راہداری کے بارے میں بات چیت میں مثبت پیشرفت ہوئی ہے۔

ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ معاہدے کے بعد مخصوص تفصیلات کا عوام کے ساتھ تبادلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ راہداری کھولنے کا مقصد امن کا قیام ہے۔

اس سے پہلے ڈاکٹر محمد فیصل نے مذاکرات کے آغاز سے قبل کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت اور وعدے کے مطابق پاکستان بابا گورونانک دیوجی کے 550 ویں جنم دن تک کرتار پور راہداری کو عملی شکل دینے کیلئے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی حدود میں کام تیزی سے جاری ہے اور گوردوارہ کمپلیکس، ٹرمینل کی عمارت اور سڑک کا ستر فیصد سے زائد کام مکمل کرلیاگیا ہے۔

 

کرتار پور راہداری کے بارے میں پہلا اجلاس اس سال 14 مارچ کو ہوا تھا۔

پاکستان حکام کے مطابق اس کی سرحد میں کرتار پور راہداری پر بھرپور انداز میں کام جاری ہے۔ گوردوارہ کی عمارت کا 70 فیصد کام مکمل کرلیاگیا ہے جبکہ پاکستان نے سرحدی ٹرمینل اور شاہراہ کی تعمیر کا کام بھی مکمل کرلیا ہے۔

کرتارپور راہداری پر کام کا باقاعدہ آغاز گذشتہ برس دسمبر میں کر دیا گیا تھا جس کے پہلے مرحلے میں دریائے راوی پر 800 میٹر طویل پل اور اطراف میں دفاعی بند تعمیر کیے جانے تھے۔ متروکہ وقف املاک بورڈ کے حکام کے مطابق کرتار پور راہداری کی تعمیر کا ٹھیکہ نجی کمپنی کو دیا گیا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کرتار پور وہ مقام ہے جہاں سکھوں کے پہلے گرو نانک دیو جی نے اپنی زندگی کے آخری ایام گزارے تھے۔ یہیں ان کی ایک سمادھی اور قبر بھی ہے جو سکھوں اور مسلمانوں کے لیے ایک مقدس مقام کی حیثیت رکھتے ہیں۔

مذاکرات کے تازہ دور سے چند روز قبل بھارتی حکام نے ان خبروں کی تردید کی تھی کہ ان کی جانب تعمیراتی کام سست روی کا شکار ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار کا کہنا تھا کہ بھارت اس منصوبے کو جلد از جلد مکمل کرنا چاہتا ہے۔

بھارت کا کہنا ہے کہ وہ بھی مسافروں کے ٹرمینل اور کرتارپور تک دو رویہ سڑک کی تعمیر مقررہ وقت میں مکمل کر لے گا۔ ’پہلا کام اس سال ستمبر جبکہ سڑک اکتوبر تک مکمل کر لی جائے گی۔‘

خیال ہے کہ کرتارپور یاتریوں کے لیے اس کے بعد کھولا جائے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان