پاکستانی دفتر خارجہ نے قائم مقام افغان وزیر دفاع کی جانب سے پاکستانی فضائی حدود کے امریکی استعمال کے الزام کو قیاس آرائیوں پر مبنی اور افسوس ناک قرار دیا ہے۔
طالبان حکومت کے وزیر دفاع ملا محمد یعقوب نے اتوار کو پاکستان سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ افغانستان میں امریکی ڈرون کارروائیوں میں اپنی فضائی حدود کے استعمال سے گریز کرے، جس کے بعد پاکستان نے معاملے پر اپنا موقف پیش کیا۔
دفتر خارجہ نے اتوار کی شب ایک بیان میں افغان قائم مقام وزیر دفاع کے الزام پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق: ’بغیر کسی ثبوت کے، جس کا اعتراف وزیر دفاع نے بھی کیا، ایسے الزامات انتہائی افسوناک اور ذمہ دارانہ سفارتی طرز عمل کے منافی ہیں۔‘
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان تمام ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر یقین رکھتا ہے اور ’دہشت گردی کی اور اس کی تمام شکلوں کی مذمت کرتا ہے۔‘
پاکستان نے افغانستان کے الزام کے جواب میں یہ بھی مطالبہ کیا کہ افغان حکام بین الاقوامی وعدوں کی تکمیل کو یقینی بنائیں اور افغان حکام اپنی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔
افغان وزیر دفاع کا الزام
افغانستان میں طالبان حکومت کے وزیر دفاع ملا محمد یعقوب نے اتوار کو معمول کی ایک نیوز پریس کانفرنس میں پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغانستان میں امریکی ڈرون کارروائیوں میں اپنی فضائی حدود کے استعمال سے گریز کرے۔
پریس کانفرنس میں ملا محمد عمر کے صاحبزادے اور افغانستان کے وزیر دفاع ملا یعقوب نے کہا کہ گذشتہ سال افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے دوران امریکی فوجیوں نے افغانستان کا ریڈار کا نظام ناکارہ بنادیا تھا، لیکن ان کے پاس انٹیلی جنس کی ایسی خفیہ رپورٹس ہیں جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ امریکی ڈرون طیارے پاکستان کی جانب سے ان کے ملک کی حدود میں داخل ہوئے ہیں جوافغانستان میں کارروائیاں کرتے ہیں۔
جمعے کو افغانستان کے حکومتی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی ان خبروں کی تصدیق کی تھی، جن کے مطابق افغانستان کے مختلف حصوں پر امریکی ڈرون طیارے باقاعدہ پرواز کرتے دکھائی دیے تھے۔
افغان طالبان کے حکومتی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس امریکی اقدام کو افغانستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی قرار دیا تھا اور اس مسئلے کو اعلی امریکی حکام کے ساتھ زیر بحث بھی لاچکے ہیں۔
امارات اسلامی افغانستان کہلوانے والی طالبان حکومت نے افغان فضائی حدود میں امریکی ڈرون طیاروں کی پروازوں کو جلد از جلد بند کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
ذبیح اللہ مجاہد نے کہا تھا کہ افغان سرزمین سے متعلق اگر امریکی حکومت کو کچھ خدشات درپیش ہیں تو اس کو طالبان حکومت کے ساتھ زیر بحث لایا جائے۔
افغانستان کے صوبہ قندھارکے رہائشیوں کے مطابق، قندھار شہر کے اوپر کئی بار امریکی ڈرون طیاروں کو منڈلاتے ہوئے دیکھا اور سنا گیا ہے۔
صوبہ ہلمند اور دارالحکومت کابل میں بھی امریکی ڈرون طیاروں کے حملوں کی رپورٹس آچکی ہیں۔
افغانستان میں موجود پاکستانی طالبان کے ساتھ پاکستانی حکام کا امن مذاکرات کا سلسلہ ابھی جاری ہے۔ لہذا ایسے حالات میں ملا یعقوب کے اس بیان کو غیرمعمولی تصور کیا جاتا ہے۔
اگست کے پہلے ہفتے میں القاعدہ کے اہم ترین کمانڈر ایمن الظواہری کے کابل میں ڈرون حملے کے ذریعے قتل کے امریکی دعوے کے وقت بھی یہ سوالات عام ہوئے تھے کہ امریکی ڈرون طیارے پاکستانی فضائی حدود استعمال کرکے افغانستان میں داخل ہوئے تھے لیکن پاکستانی حکام ان خبروں کی تردید کرتے آئے ہیں۔
پانچ اگست کو افواج پاکستان کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے کہا تھا کہ ’ایمن الظواہری پر امریکی ڈرون حملے میں پاکستان کی حدود استعمال ہونے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔‘
پاکستانی ٹی وی چینل ہم نیوز سے بات کرتے ہوئے ترجمان آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ’اس تمام معاملے پر دفتر خارجہ واضح طور پر کہہ چکا ہے اور وزارت داخلہ نے بھی اس پر وضاحتی بیان جاری کیا ہے۔‘
ملا یعقوب کے حالیہ بیان پر پاکستانی حکام کی جانب سے ابھی تک کوئی سرکاری بیان ابھی تک سامنے نہیں آیا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
رواں مہینے کے پہلے ہفتے میں امریکی حکام کے مطابق، امریکی خفیہ ایجنسی سنٹر انٹیلی جنس (سی ائی اے) نے دعوی کیا تھا کہ ادارے نے افغان دارالحکومت کابل کے پوش علاقے ’وزیر اکبر خان‘ میں ایک امریکی ڈرون حملے سے ایمن الظواہری کو قتل کیا گیا ہے۔
افغان طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق ان کی حکومت اس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے اور ابھی تک طالبان حکومت اس علاقے میں ایمن الظواہری کی موجودگی اور ڈرون کے ذریعے ان کا مبینہ قتل ایک معمہ ہے جس کی تفتیش جاری ہے اور حتمی رپورٹ ابھی تیار نہیں ہوئی۔
افغانستان میں ایمن الظواہری کے ڈرون حملے میں مبینہ ہلاکت کے پانچ دن بعد سات اگست کو غزنی صوبے کے اندڑو علاقے میں ایک اور ڈرون حملے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی تھیں جس میں خارجی دہشتگرد کے مارے جانے کی اطلاعات تھیں۔
طالبان حکومت نے اس ڈرون حملے کی تصدیق کی تھی لیکن حملے کے شکار ’دہشتگرد‘ کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا تھا۔
گذشتہ بدھ 24 اگست کو شنگھائی کو آپریشن آرگنائزیشن (ایس سی او) کے دفاعی وزرا کے تاشقند میں ایک اجلاس کے دوران روس کے وزیر دفاع سرگے شوئیگو نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اس وقت پورے خطے کو افغانستان میں موجود داعش، القاعدہ اور دیگر انٹرنیشنل دہشتگرد تنظیموں سے خطرہ لاحق ہے۔