پیمرا کا بول نیوز اور بول انٹرٹینمنٹ کی نشریات بند کرنے کا فیصلہ

پیمرا کے بیان کے مطابق لائسنسز کی منسوخی، وزارتِ داخلہ کی جانب سے سیکورٹی کلیئرنس جاری نہ کرنے کی وجہ سے کی گئی۔

بول نیوز نے پیمرا کی جانب سے لائسنسز منسوخ کرنے کو حق اور سج کی آواز کو دبانے وے تشبیہ دی ہے (تصویر: سکرین گریب لائیو سٹریم بول ٹی وی)

پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا کے نگراں ادارے (پیمرا) نے اعلان کیا ہے کہ وزارت داخلہ کی جانب سے سکیورٹی کلیئرنس جاری نہ کیے جانے کی وجہ سے دونوں چینلز کی نشریات بند کی جا رہی ہیں۔

پیمرا کے جاری کیے جانے والے بیان میں بتایا گی ہے کہ اس بات کا فیصلہ پیمرا کے پیر کو ہونے والے 174ویں اجلاس میں کیا گیا جو چیئرمین پیمرا محمد سلیم بیگ کی صدارت میں پیمرا مرکرزی دفتر میں منعقد ہوا۔

پیر کے اجلاس میں پیمرا نے بول نیوز اور بول انٹرٹینمنٹ کو جاری شدہ لائسنس سے متعلق امور کا جائزہ لیا۔

اتھارٹی کو بتایا گیا کہ لبیک پرائیویٹ لمیٹڈ کے جاری شدہ لائسنسز اتھارٹی نے 2017 میں 131ویں اجلاس میں منسوخ کر دیے تھے۔

پیمرا کے بیان کے مطابق لائسنسز کی منسوخی، وزارتِ داخلہ کی جانب سے سیکورٹی کلیئرنس جاری نہ کرنے کی وجہ سے کی گئی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بیان کے مطابق اس ضمن میں اتھارٹی کا حکم نامہ ادارے کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ میں زیرِ التوا رہا اور چینلزنے اپنی نشریات جاری رکھیں۔

سندھ ہائی کورٹ نے زیرِ التوا کیس کو 2021 میں نمٹا دیا تھا۔ دوران سماعت پیمرا کے وکیل نے واضح موقف اختیار کیا تھا کہ اگر وزارت داخلہ لبیک پرائیویٹ لمیٹڈ کی سکیورٹی کلیئرنس جاری نہیں کرتی تو پیمرا دونوں چینلز (بول نیوز اور بول انٹرٹینمنٹ) کی نشریات چلانے کی اجازت نہیں دے گا۔

اسی تناظر میں پیر کو ہونے والے اجلاس میں اتھارٹی نے تمام ریکارڈ عدالتی حکم نامہ اور وزارتِ داخلہ کی طرف سے جاری کردہ مراسلوں کا جائزہ لیتے ہوئے لبیک پرائیویٹ لمیٹڈ کو جاری لائسنسز (بول نیوز اور بول انٹرٹینمنٹ) کے چینلز کی نشریات فوری طور پر بند کرنے کا حکم دیا ہے۔

پیمرا کے بیان میں کہا گیا ہے کہ بول انٹرٹیمنٹ کے لائسنس کی 15 سالہ مدت دسمبر 2021 میں اختتام پذیر ہو گئی تھی اور ادارے نے لائسنس کی تجدید کے لیے اتھارٹی کو کوئی درخواست بھی جمع نہیں کرائی ہے۔

پیمرا کے اس اعلان کے کچھ ہی دیر بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر پیغام میں بول نیوز کی نشریات بند کرنے کے فیصلے کی مذمت کی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ٹی وی