کراچی کی بارش کا پانی کالا باغ ڈیم کیسے لے جائیں گے؟ مراد علی شاہ

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ سندھ میں سیلابی پانی دریا سے نہیں بلکہ بارشوں سے آیا ہے تو کالا باغ ڈیم کی تعمیر کا سوال نہیں بنتا۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بتایا کہ سندھ میں 30 لاکھ سے زائد کچے مکانات سیلاب کے بعد مکمل طور پر تباہ ہوگئے ہیں (انڈپینڈنٹ اردو/ سکرین گریب)

پاکستان میں مون سون بارشوں سے سیلاب کے بعد کئی حلقوں میں کالا باغ ڈیم کی تعمیر پر پھر سے بحث چھڑ گئی ہے، تاہم وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ سندھ میں سیلابی پانی دریا سے نہیں بلکہ بارشوں سے آیا ہے تو ڈیم کی تعمیر کا سوال نہیں بنتا۔

انڈپینڈنٹ اردو کو ایک خصوصی انٹرویو میں وزیراعلیٰ سندھ نے  محکمہ موسمیات کے اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سال مون سون میں سندھ کے شہر پڈعیدن میں 1700 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، کراچی میں 1100 ملی میٹر اور موہن جو دڑو میں تقریباً 100 ملی میٹر۔

انہوں نے سوال کیا: ’اس پانی کو کالا باغ ڈیم میں کیسے لے جائیں گے؟ دریا سے تو پانی آیا نہیں۔ دریائے سندھ میں زیادہ سے زیادہ چھ لاکھ کیوسک پانی آیا۔ اتنے پانی پر کالا باغ ڈیم نہیں بنتا۔‘

انہوں نے بتایا کہ سندھ میں 30 لاکھ سے زائد کچے مکانات سیلاب کے بعد مکمل طور پر تباہ ہوگئے ہیں، مگر ان کو تعمیر کرنا سندھ حکومت کے بس میں نہیں ہے۔  

انہوں نے کہا: ’اگر ایک گھر کی قیمت تین لاکھ روپے بھی رکھی جائے تو اتنے گھروں کی تعمیر کے لیے 900 ارب روپے درکار ہوں گے۔ اس لیے عالمی اداروں سے ساتھ منصوبہ  بنائیں گے۔‘

مراد علی شاہ کے مطابق سیلاب متاثرین کو سرکاری عمارتوں میں پناہ دے گئی ہے اور انہیں صحت کی سہولیات بھی فراہم کر رہے ہیں کیونکہ  پانی کے ٹھہراو سے گیسٹرو، ڈینگی  اور دیگر بیماریاں جنم لے رہی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا کہ اس وقت سندھ کو 10 لاکھ خیموں کی ضرورت ہے۔ بارشیں ختم ہوگئی ہیں لیکن اس کی تباہ کاریاں جاری ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ بلوچستان کے پہاڑیوں سے آنے والے سیلابی ریلوں نے نکاسی کے نظام کو پوری طرح تباہ کر دیا ہے۔ منچھر جھیل کو کٹ لگائے گئے ہیں لیکن پھر بھی پانی کم نہیں ہو رہا اور دریا میں بھی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ سیلابی صورت حال  سے 523  افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 8332 زخمی ہیں۔ 

پانی کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے حال ہی میں منچھر جھیل کو کٹ لگاتے ہوئے سندھ حکومت نے کہا تھا کہ اس پانی سے پانچ یونین کونسلوں کے ایک لاکھ 25 ہزار افراد متاثر ہوں گے۔

ان سے ان لوگوں کے حوالے سے سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا: ’یہ لوگ کٹ سے پہلے ہی اپنے رشیداروں کے پاس چلے گئی ہیں۔ جو دیہات زمین سے اوپر ہیں وہاں لوگ محفوظ ہیں۔ ان کو کشتیوں سے کھانا فراہم کیا جا رہا ہے۔‘  

نہروں اور جھیلوں میں سیلابی پانی بھرنے کے بعد ان کو لگائے جانے والے کٹ پر پوچھے گئے سوال پر مراد علی شاہ نے کہا کہ یہ کٹ سیاسی بنیاد پر نہیں لگائے جاتے بلکہ محکمہ آبپاشی کے ماہر فیصلہ کرتے ہیں کہ کہاں کٹ لگایا جائے۔  

مراد علی شاہ کے مطابق: ’اگر یہ نہروں میں شگاف یا کٹ سیاسی بنیادوں پر ہوتا تو میں کبھی اجازت نہیں دیتا۔ کیوں کہ منچھر جھیل کو کٹ لگانے سے میرے دونوں آبائی گاؤں زیر آب آگئے ہیں ہیں۔ یہ خالص ٹیکنیکل قسم کے کٹ ہوتے ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان