گرل فرینڈ کی خواہش پر بیلی ڈانسر بننے والے سری نگر کے تجمل

صنفی دقیانوسی تصورات کو توڑنے والے اس فنکار نے اب تک کئی ریاستوں کے علاوہ بیرون ملک بھی اپنے ڈانس کا جلوہ دکھا کر لوگوں سے داد حاصل کی ہے۔

بیلی ڈانس بنیادی طور پر خواتین کا رقص ہے، لیکن انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے دور دراز علاقے سے تعلق رکھنے والے پیر زادہ تجمل کشمیر کے ’واحد‘ مرد بیلی ڈانسر ہیں جو اس شعبے میں اپنا مستقبل بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

پیر زادہ تجمل ضلع کپواڑہ کے رنن قاضی آباد میں رہتے ہیں اور انہیں کشمیر کے ’پہلے‘ مرد بیلی ڈانسر ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ 24 سالہ نوجوان فنکار بیلی ڈانس میں مہارت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ بہت سے نوجوانوں کو بیلی ڈانس کی تربیت بھی دے رہے ہیں۔

ویسے تو پیر زادہ تجمل کو بچن سے ہی رقص و موسیقی کا شوق تھا مگر انہوں نے اپنی گرل فرینڈ کی موت کے بعد ان کی خواہش کو پورا کرنے کے لیے بیلی ڈانس سیکھا۔

انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے پیر زادہ تجمل کا کہنا تھا کہ ’آج سے کئی برس قبل مجھے ایک لڑکی سے پیار ہوا تھا۔ اب وہ اس دنیا میں نہیں رہی۔ وہ بیلی ڈانسر بننا چاہتی تھی لیکن والدین نے اجازت نہیں دی۔‘

’انہوں نے مرنے سے پہلے یہ خواہش ظاہر کی تھی کہ میں ان کا شوق پورا کروں۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ چوں کہ ’مجھے رقص اور موسیقی کا شوق تھا تو شروع میں بیلی ڈانس سیکھنے میں کافی مشکلات پیش آئیں۔ اس بارے میں کچھ معلومات تھیں، لیکن میں نے ہمت نہیں ہاری اور یوٹیوب کا سہارا لے کر اس فن میں مہارت حاصل کی۔‘

پیر زادہ تجمل کو شروعات میں والد کی سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا لیکن تجمل نے اس چیلنج کو قبول کیا اور ہمت اور حوصلے سے کام لے کر بیلی ڈانس سیکھنے میں نہ صرف کامیابی حاصل کی بلکہ کشمیر کے ’پہلے مرد‘ بیلی ڈانسر کے طور اپنی ایک الگ پہچان بنائی۔

وہ کہتے ہیں کہ ’روزانہ والد سے مار پڑتی تھی۔ پڑھائی کرنے کو بھی بولتے تھے لیکن اس کی اجازت نہیں تھی۔ لوگوں سے بھی گالیاں سننی پڑتی تھیں، مجھے ٹرانس جینڈر کہا جاتا تھا جبکہ کئی بار جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’اس وقت مجھے عجیب لگ رہا تھا اور میں روتا تھا۔ پتہ نہیں تھا کہ اس چیز کو لے کر میں آگے بڑھ پاؤں گا۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سب کچھ ٹھیک ہونے لگا۔ میری ویڈیوز وائرل ہوئیں اور لوگ مجھے مرد بیلی ڈانسر کے طور جاننے لگے اور میرے کام کو سراہا گیا۔ لوگوں کی جانب سے ملنے والی گالیاں تالیوں میں بدل گئیں۔‘

پیرزادہ کے بقول یہ بنیادی طور پر خواتین کا رقص ہے جس کی وجہ سے معاشرے میں بہت سی باتیں سننے کو ملتی تھیں، لیکن کسی کی بات سنے بغیر میں آگے بڑھ گیا اور آج سب ٹھیک ہے۔

’میں کشمیر کا پہلا بیلی ڈانسر ہوں اور آخر تک رہوں گا چاہے میرے بعد جتنے بھی آئیں۔‘

تجمل کو ہریانوی ڈانسر سپنا چودھری اور مراکشی نژاد کینیڈین ماڈل و رقاصہ نورا فتحی کا ڈانس بہت پسند ہے اور وہ ان فنکاراؤں کے چہرے کے تاثرات کی نقل کرنا پسند کرتے ہیں۔

وہ بتاتے ہیں کہ میں سپنا چودھری اور نورا فتحی کے ڈانس سے بےحد متاثر ہوں اور سپنا چودھری کی طرح ایک بہترین سٹیج ڈانسر بننا چاہتا ہوں۔

صنفی دقیانوسی تصورات کو توڑنے والے اس فنکار نے اب تک کئی ریاستوں کے علاوہ بیرون ملک بھی اپنے ڈانس کا جلوہ دکھا کر لوگوں سے داد حاصل کی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی فن