’پاک امریکہ تعلقات سکیورٹی پر محدود پالیسی سے آگے بڑھ رہے ہیں`

امریکہ کے پاکستان میں سفیر ڈیوڈ بلوم کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں (امریکی سفارت خانہ)

سینیٹر مشاہد حسین نے کہا ہے کہ انہیں خوشی ہے کہ امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات گذشتہ دو دہائیوں سے جاری سکیورٹی پر مبنی محدود پالیسیوں سے آگے بڑھ رہے ہیں۔

انہوں نے یہ بات  قائد اعظم یونیورسٹی میں ایک کانفرنس سے مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کے دوران کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے لوگوں کے درمیان بھی باہمی تعلقات  فروغ  پا رہے ہیں اور تعلیم کو مرکزی حیثیت حاصل ہو رہی ہے۔

امریکی سفارت خانہ اسلام آباد اور قائد اعظم یونیورسٹی کے ایریا سٹڈی سینٹر برائے افریقہ، شمالی و جنوبی ایشیا نے مشترکہ طور پر ’امریکہ - پاکستان تعلقات کے پچہتر سال‘ کے عنوان سے دو روزہ کانفرنس کا انعقاد  کیا، جس کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان پچہتر برسوں پر مُحیط باہمی تعلقات کو اجاگر کرنا تھا۔

امیکی سفارت خانے کے جاری بیان کے مطابق نفرنس کے شرکا نے تجارت، ماحولیاتی تبدیلی، توانائی اور تعلیمی تبادلہ کے شعبوں میں تعاون کی نئی راہیں تلاش کرتے ہوئے باہمی تعلقات کو مزید گہرا کرنے اور انھیں وسعت دینے پر تبادلہ خیال کیا۔

قائد اعظم یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمّد علی نے یونیورسٹی اور امریکی سفارت خانے کے درمیان جاری شراکت کو سراہتے ہوئے کہا کہ کانفرنس کے انعقاد کے نتیجہ میں پاکستان اور امریکہ کے دانشوروں کو باہمی تعلقات پر تفصیلی غور و فکر کا موقع میسر آیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایریا سٹڈی سینٹر کی جانب سے  کانفرنس کا انعقاد بروقت اقدام ہے کیونکہ موجودہ حالات میں پاک-امریکہ تعلقات تبدیلی کے مراحل سے گزر رہے ہیں جبکہ بین الاقوامی تعلقات کی دنیا میں بھی انسانی جان کے تحفظ کو مرکزی حیثیت حاصل ہونے کی حقیقت کا ادراک کیا جا رہا ہے۔

اس موقع پر امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم نے کہا کہ قائد اعظم یونیورسٹی میں امریکن سٹڈیز کے موضوع کو فروغ دینے کی کاوش میں شرکت اور دونوں ممالک کے درمیان پچہتر برس کے تعلقات پر گفتگو کو اپنے لیے باعث فخر قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور پاکستان  کےدرمیان کئی دہائیوں سے باہمی حمایت، معاشی روابط اور عوامی سطح پر تعلقات پر مبنی وسیع اور مضبوط شراکت قائم ہے۔

تقریب کے مہمانِ خصوصی وفاقی وزیر برائے تربیتی اُمور رانا تنویر حسین نے اعترا ف کیا کہ امریکہ ہمیشہ سے پاکستانیوں کو شاندار تعلیمی قابلیت سے مالامال کرنے کی کوششوں میں مصروف عمل رہا ہے اور تعلیمی تبادلہ پروگرام نہایت ہی زیادہ اہمیت کے حامل ہوتے ہیں  جبکہ فل برائٹ پروگرام پہلے ہی خواتین اور نوجوانوں کو مواقع کی فراہمی میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تاہم انہوں نے کہا کہ امریکہ اور پاکستان کو باہمی تعاون کے دیگر امکانات بھی تلاش کرنے چاہیں۔

کانفرنس میں خصوصی اور مجموعی نشستیں اور دو ورکنگ گروپ شامل تھے اور اس میں پاکستانی اور امریکی دانشوروں اور ماہرین نے دو طرفہ تجارتی تعلقات، تعلیمی تبادلوں اور دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعلقات کو مستحکم کرنے میں نوجوانوں، خواتین اور  تارکین وطن کے  کردار کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

اس کانفرنس میں قائد اعظم یونیورسٹی کے  طالب علم، اساتذہ، تحقیقی اداروں کے ارکان، خارجہ، تجارت اور  موسمیاتی تبدیلی کی وزارتوں کے  نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

ایریا سٹڈی سنٹر کی ڈائریکٹر اور کانفرنس کی آرگنائیزر ڈاکٹر سعدیہ سلیمان نے اختتامی سیشن کی صدارت کی جس میں شرکا نے امریکہ اور پاکستان کے درمیان تعلقات کے ممکنہ مستقبل کے بارے میں اپنی سفارشات پیش کیں۔

قائداعظم یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی اور امریکی سفارت خانے کی ڈپٹی قونصلر فار پبلک آفیئرز جیکلین ڈیلی نے اپنے اختتامی کلمات میں شرکا کا شکریہ ادا کیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی کیمپس