نیب نے پاکستان کو کیا دیا؟

نیب سے متعلق 10 سوال جو سپریم کورٹ نے مختلف اوقات میں اس کی کارکردگی، دیانت، شفافیت اور اہلیت کے بارے میں اٹھائے۔

کیا وجہ ہے کہ وزیراعظم کو بیوروکریسی کو یقین دلانا پڑا کہ نیب سے خوف زدہ نہ ہوں ان کا تحفظ کیا جائے گا اور پھر قانون سازی بھی کرنا پڑی(انڈپینڈنٹ اردو)

یہ تحریر کالم نگار کی زبانی سننے کے لیے کلک کیجیے

جان کی امان پاؤں تو پوچھوں کہ سر سے پیر تک احتساب کرنے والے ’نیب‘ نے آج تک پاکستان کو کیا دیا؟

عام آدمی کے دامن سے لپٹے سوالات کو چھوڑ دیجیے، کم از کم ان سوالات کا جواب تو دیجیے جو سپریم کورٹ نے مختلف اوقات میں نیب کی کارکردگی، دیانت، شفافیت اور اہلیت کے بارے میں اٹھا رکھے ہیں۔

پہلا سوال یہ ہے کہ نیب پر قومی خزانے سے اتنی بھاری رقم خرچ ہوتی ہے لیکن اس کی کارکردگی کیا ہے؟ اس نے آج تک کتنی ریکوری کی؟

پلی بار گین کے علاوہ اس نے کچھ کیا ہو تو بتا دیں؟ کوئی ایک کیس بتا دیں جس میں اس نے ریکوری کی ہو۔ یاد رہے کہ یہ سوالات میرے نہیں، سپریم کورٹ کے ہیں اور سابق چیف جسٹس جناب گلزار احمد خان نے دوران سماعت اٹھائے تھے۔

اس سے متصل ضمنی سوالات البتہ یہ ہو سکتے ہیں کہ آج تک نیب پر قومی خزانے سے کتنے اخراجات اٹھے۔ ان کے افسران کی تنخواہیں اور مراعات قوم کو کتنے میں پڑتی ہیں اور اس نے کتنی لوٹی ہوئی رقم قومی خزانے میں جمع کروائی؟ اس کی ریکوری اس کے معاوضے اور مراعات سے زیادہ ہے یا کم ہے؟

دوسرا سوال یہ کہ نیب کے قائم کردہ مقدمات میں آج تک کتنے طاقت ور لوگوں کو سزا ہوئی؟ کیا وجہ ہے کہ شہرت بھی نیب کے مقدمات کو ملتی ہے، میڈیا پر زیادہ شور اسی کے مقدمات کا ہوتا ہے، قومی سیاسی بیانیہ انہی مقدمات کے گرد گھومتا ہے لیکن سزا نہیں ہو پاتی؟

نیت کا معاملہ یا اہلیت کا؟ یاد رہے کہ نیت، اہلیت اور خلوص کا سوال میں نہیں اٹھا رہا یہ سوال سپریم کورٹ کے جسٹس مقبول باقر صاحب نے اٹھایا تھا۔

تیسرا سوال یہ ہے کہ نیب کا وہ قانون جس کے تحت یہ ادارہ قائم ہوا، ہمارے آئین سے کس حد تک مطابقت رکھتا ہے اور کس حد تک متصادم؟

الزام کی بنیاد پر ایک آدمی کو اٹھا لینا اور اس کو ضمانت کا حق بھی نہ دینا کیا آئین کی نظر میں درست قانون سازی ہے؟ یاد رہے کہ یہ سوال بھی میرا نہیں۔ یہ سوال سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری صاحب کا ہے اور اس کا جواب بھی اسفند یار ولی کیس میں سپریم کورٹ دے چکی۔

چوتھا سوال نیب کے قانون اور اس کے طریقہ نفاذ کے بارے میں ہے کہ اس ساری مشق کا مقصد کیا ہے اور نیب کے کرنے کا اصل کام کیا ہے؟

کرپٹ اور بد عنوان عناصر کے خلاف کارروائی کرنا یا سیاسی انجینیئرنگ کرنا، سیاسی مخالفین کے بازو مروڑنا، سیاسی وفاداریاں تبدیل کرانا اورسیاسی جماعتوں کو توڑنا اور بونوں کو چن چن کر جمع کرنا، ان کی سرپرستی کرنا اور انہیں اقتدار میں لانا؟

نیز ان قوانین اور ان کے اطلاق سے نیب نے قانون کی حکمرانی کو مستحکم کیا یا معاشرے میں افراتفری پیدا کی ہے؟ یہ سوال بھی میرا نہیں، سپریم کورٹ کا ہے، بلکہ سوال کی شکل تو میں نے دی ہے سپریم کورٹ نے تو سعد رفیق کیس میں اسے امر واقع کے طورپر بیان کیا ہے اور اس بیان کے بعد یہ سوال اٹھایا ہے کہ

ظلم رہے اور امن بھی ہو

کیا ممکن ہے تم ہی کہو

پانچواں سوال یہ کہ نیب کرپشن کے ہر ملزم پر گرفت کرتی ہے یا اس کے ہاں ایک اہتمام موجود ہے کہ سیاسی تقسیم کے لیے کھینچی گئی لکیر کے ایک جانب کھڑے لوگوں کی کرپشن کے بڑے بڑے معاملات سے صرف نظر کر لیا جاتا ہے اور لکیر کی دوسری جانب کھڑے لوگوں کو گرفتار بھی کر لیا جاتا ہے اور انہیں طویل عرصے کے لیے قید میں بھی ڈال دیا جاتا ہے؟ یہ سوال بھی میرا نہیں بلکہ سپریم کورٹ کا ہے۔

چھٹا سوال نیب کے قیدیوں کی حالت زار سے متعلق ہے۔ برطانوی نو آبادیاتی دور کے بنائے گئے قانون میں گرفتار شخص کے لیے جسمانی ریمانڈ کی کل مدت 15 دن تھی لیکن نیب کے قانون میں یہ مدت 90 دن قرار دی گئی (یہ حالیہ ترامیم سے پہلے کی بات ہے)۔

یعنی نیب کسی کو بھی گرفتار کر لیتی ہے اور وہ شخص محض الزام پر 90 دن کے لیے اپنی آزادیوں سے محروم ہو جاتا ہے۔ ضمانت کا حق تو دستیاب نہیں۔

 یہ حق بھی اعلیٰ عدالتوں نے آئینی درخواست پر ایک متبادل کی صورت دیا۔ نیب گرفتاری پہلے کر لیتی ہے، ریفرنس کا عمل بعد میں شروع ہوتا ہے۔

یہ بھی ہوتا ہے کہ نیب لوگوں کو گرفتار کر کے بھول جاتی ہے جیسے صدیق الفاروق کے مقدمے میں پراسیکیوٹر جنرل فاروق آدم نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے صدیق الفاروق کو ڈمپ کیا اور ہم انہیں بھول گئے۔

اب سوال یہ ہے کہ ریفرنس سے پہلے گرفتاری کی کیا جلدی ہوتی ہے اور ریفرنس سے پہلے لوگوں سے ان کی آزادی کیوں چھین لی جاتی ہے؟ مکرر عرض ہے کہ یہ سوال بھی میرا نہیں، سپریم کورٹ کے جسٹس مشر عالم صاحب کا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ساتواں سوال نیب کی ابتدائی پھرتیوں اور بعد کی تاخیر سے متعلق ہے۔ گرفتاری تو یہ فوری کر لیتی ہے، اس کے بعد اس کا کام سست روی کا شکار ہو جاتا ہے۔

نیب کے مقدمات میں اتنی تاخیر کیوں ہوتی ہے؟ یہ سوال سابق چیف جسٹس گلزار احمد خان اور جسٹس مشر عالم کا ہے۔

آٹھواں سوال یہ ہے کہ بعض مقدمات میں نیب بہت متحرک نظر آتی ہے اور کچھ مقدمات میں وہ کچھ بھی  پروا نہیں کرتی، اس کی کیا وجوہات ہیں؟  یہ سوال جسٹس قاضی فائز عیسیٰ صاحب کا ہے۔

نویں سوال کا تعلق پلی بارگین سے ہے۔ مشتاق رئیسانی سے نیب نے 650 ملین کیش اور تین کلو سے زیادہ سونا برآمد کیا اور بعد میں ان سے پلی بارگین کر لی۔

کیا کبھی ایسا بھی ہوا کہ رنگے ہاتھوں جو رقم پکڑی جا چکی ہو اس پر بھی پلی بار گین کر لی جائے؟ اس کی تو نیب قانون بھی اجازت نہیں دیتا پھر نیب نے یہ پلی بارگین کیسے کر لی؟ یہ سوال بھی سپریم کورٹ کے جسٹس  قاضی فائز عیسیٰ صاحب کا ہے۔

دسواں سوال یہ کہ نیب نے اس ملک میں کرپشن کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا ہے یا خوف کے فروغ میں؟

اس کی وجہ سے شفافیت پھیلی ہے یا اس کے خوف سے سرمایہ ملک سے باہر منتقل ہوا؟ یہ خوف صرف سرمایہ دار میں ہے یا اس خوف کا شکار بیوروکریسی بھی ہے؟

کہیں ملکی معیشت کی تباہی میں اس خوف نے بھی بنیادی کردار تو ادا نہیں کیا جو احتساب کے نام پر پھیلایا گیا؟

تاجر اور سرمایہ دار کو چھوڑیے کیا وجہ ہے کہ بیوروکریسی نے بھی ہاتھ کھڑے کر دیے؟

وزیراعظم کو بیوروکریسی کو یقین دلانا پڑا کہ نیب سے خوف زدہ نہ ہوں ان کا تحفظ کیا جائے گا اور پھر قانون سازی بھی کرنا پڑی؟ اس عمومی خوف کی نسبت شفافیت سے ہے یا یہ خود کرپشن کی ایک شکل ہے؟

سر سے پاؤں تک سوالات ہی سوالات ہیں۔

یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ