کیا سپریم کورٹ تاحیات نااہلی کی اپنی ہی تشریح پر نظرثانی کر سکتی ہے؟

سیاستدانوں کی نااہلی سے متعلق مدت کے تعین کا فیصلہ جسٹس عمر عطا بندیال نے خود ہی تحریر کیا تھا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس نے 4 اکتوبر 2022 کو ریمارکس میں کہا ہے کہ ’تاحیات نااہلی یعنی آرٹیکل 62 ون ایف سفاک قانون ہے۔‘

پاکستان میں پیر کو سیاست دانوں کو تاحیات نا اہل قرار دیے جانے سے متعلق مختلف قانونی اور ذاتی آرا سوشل میڈیا اور نجی محفلوں میں موضوع گفتگو رہیں جن میں یہ سوالات کیے جاتے رہے کہ کیا تاحیات نااہلی سے متعلق سپریم کورٹ اپنی ہی تشریح پر نظر ثانی کر سکتی ہے اور یہ سزا ختم ہو سکتی ہے۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے منگل کو اپنے ریمارکس میں کہا تھا کہ تا حیات نا اہلی سے متعلق قانون دراصل ’ظالمانہ قانون‘ ہے۔

تاحیات نا اہلی سے متعلق یہ ریمارکس اُس وقت سامنے آئے جب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما فیصل واوڈا کی تاحیات نااہلی سے متعلق کیس سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی عدالت میں سماعت کے لیے مقرر ہوا۔

چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال نے کیس کی نوعیت پر ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ کیس کو محتاط ہو کر سنیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’تاحیات نااہلی یعنی آرٹیکل 62 ون ایف ظالمانہ قانون ہے۔‘

چیف جسٹس کے اس ریمارکس کے بعد ایک نئی بحث شروع ہو گئی کیوں کہ 62 ون ایف یعنی سیاست دانوں کی نا اہلی سے متعلق مدت کا تعین تب کیا گیا جب اس آرٹیکل کی تشریح کی گئی تھی اور یہ تشریح سابق چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار کی سربراہی میں پانچ میں رکنی لارجر بینچ نے کی تھی جس کا فیصلہ جسٹس عمر عطا بندیال نے خود ہی تحریر کیا تھا کیوں کہ وہ بھی اس بینچ کا حصہ تھے۔

62 ون ایف کی تشریح میں یہ واضح کیا گیا تھا کہ سیاستدانوں کی نااہلی 5 یا 10 سال کے لیے نہیں بلکہ تاحیات ہو گی۔ اب ساڑھے چار سال بعد جسٹس عمر عطا بندیال نے اپنے ہی لکھے فیصلے پر ریمارک دیا کہ یہ ایک ڈریکونین لا (Draconian law) ہے۔

آئین پاکستان کی شق 62 ون ایف کے مطابق ’کوئی شخص مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کا رکن منتخب ہونے یا چنے جانے کا اہل نہیں ہو گا اگر وہ سمجھدار، پارسا نہ ہو اور فاسق ہو اور ایماندار اور امین نہ ہو، عدالت نے اس کے برعکس قرار نہ دیا ہو۔‘

ڈریکونین لا یعنی ظالمانہ قانون کیا ہے؟

سپریم کورٹ بار کے وکیل احسن بھون نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ڈریکونین قانون وہ ہوتا ہے جس سے بنیادی انسانی حقوق سفاکانہ طریقے سے مجروح ہوں۔

پی ٹی آئی کے ترجمان فواد چوہدری نے سپریم کورٹ میں ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ پہلے ہی کہہ چکی ہے پارلیمنٹ اس معاملے پر قانون سازی کرے۔

انہوں نے کہا جب نئی پارلیمنٹ آئے گی تو تاحیات نااہلی کے معاملے پر قانون سازی کی جائے گی۔

فواد چوہدری نے کہا ’بطور وکیل میں سمجھتا ہوں کہ یہ بلکل درست قانون نہیں ہے اور اس میں کوئی شُبہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون کبھی بھی وہ نہیں ہونا چاہیے جس کی تشریح کا علم ہی نہ ہو۔‘

ان کے مطابق آئین کو ترامیم کی ضرورت ہے اور آرٹیکل 62 اس میں شامل ہے۔

تاحیات نااہلی کا نقصان کس سیاست دان کو ہوا؟

2016 میں پانامہ پیپرز کا معاملہ سامنے آیا تو پاکستانی سیاست میں ہلچل اس وقت مچی جب سپریم کورٹ میں اس وقت کے وزیراعظم کے خلاف درخواست دائر ہوئی۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے مقدمے کی سماعت کی اور جولائی 2017 میں سپریم کورٹ نے پاکستان مسلم لیگ ن کے بانی میاں محمد نواز شریف کو نااہل قرار دے دیا۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ’نواز شریف نے اپنے کاغذات نامزدگی میں کیپیٹل ایف زیڈ ای سے متعلق حقائق چھپائے، نواز شریف عوامی نمائندگی ایکٹ کی شق 12 کی ذیلی شق ٹو ایف اور آرٹیکل 62 کی شق ون ایف کے تحت صادق نہیں رہے، نواز شریف کو رکن مجلس شوریٰ کے رکن کے طور پر نااہل قرار دیتے ہیں، الیکشن کمیشن نواز شریف کی نااہلی کا نوٹیفکیشن فوری طور پر جاری کرے۔‘

دوسری جانب ن لیگ کے رہنما حنیف عباسی کی سپریم کورٹ میں درخواست تھی جس میں انہوں نے عمران خان اور جہانگیر ترین پر اثاثے چھپانے اور آف شور کمپنیاں رکھنے کا الزام لگایا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سپریم کورٹ نے دسمبر 2017 میں عمران خان کو صادق جبکہ جہانگیر ترین کے بارے میں فیصلہ دیا تھا کہ انہوں نے اثاثے چھپائے لہٰذا انہیں ایماندار قرار نہیں دیا جا سکتا اس لیے انہیں 62 ون ایف کے تحت نااہل کیا جاتا ہے۔

نواز شریف اور جہانگیر ترین کی نااہلی کی مدت کا تعین نہیں کیا گیا تھا کیوں کہ 62 ون ایف میں مدت کا ذکر نہیں تھا جس کے لیے آئین کی تشریح کی ضرورت تھی۔

2018 میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ بنا جس نے 62 ون ایف کی تشریح کے لیے سماعت کی۔

اس کیس میں عاصمہ جہانگیر نے دلائل دیتے ہوئے عدالت کو کہا تھا کہ نااہلی کی مدت زیادہ سے زیادہ پانچ سال یا صرف آئندہ انتخابات تک کے لیے ہو سکتی ہے۔ تاحیات نااہلی نہیں ہو سکتی، ووٹر کا حق نہیں چھینا جا سکتا کہ اُن کے لیڈر کو مقابلے کی دوڑ سے الگ کر دیا جائے۔

انہوں نے مزید کہا تھا کہ جو تبدیلی پارلیمنٹ نے نہیں کی وہ عدالت کو بھی نہیں کرنی چاہیے۔

عدالت نے 13 اپریل کو فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ اگر عدالت کسی کو صادق و امین قرار نہیں دیتی اور نااہل کرتی ہے تو یہ نااہلی تاحیات ہوگی۔ پانچ رکنی بینچ نے یہ فیصلہ ایک، چار کی نسبت سے سنایا تھا۔

قانونی ماہرین کی رائے: ’50 سے زیادہ ارکان کو فائدہ ہو سکتا ہے‘

احسن بھون نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ بار نے اسی لیے رواں برس جنوری میں تاحیات نااہلی کے خلاف درخواست دائر کی تھی کہ عدالت اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری درخواست ابھی تک سماعت کے لیے مقرر نہیں کی گئی، ہم عدالت سے دوبارہ درخواست کریں گے کہ ہماری درخواست مقرر کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ ’جسٹس عمر عطا بندیال کے ریمارکس سے تاثر ابھرتا ہے کہ فیصلے پہ نظرثانی ہو سکتی ہے اور اس میں کوئی حرج بھی نہیں ہے، اگر جج کا ذہن تبدیل ہوتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ اس کا فیصلہ درست نہیں تھا اور اس پر نظر ثانی کی جائے تو یہ حوصلہ افزا بات ہے۔‘

احسن بھون نے کہا کہ تاحیات نااہلی ختم ہونے کا فائدہ صرف نواز شریف یا جہانگیر ترین کو نہیں ہو گا بلکہ 50 اور ایسے اراکین اسمبلی ہیں جنہیں میں جانتا ہوں جو ابھی نااہل ہو چکے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر تاحیات نااہلی ختم ہوتی ہے تو عمران خان کو بھی فائدہ ہو گا کیوں کہ سیاست میں کیسز کھلنے کا پتہ نہیں چلتا اس لیے کوئی بھی اس شکنجے میں آ سکتا ہے۔

سینیئر وکیل و سابق جج شاہ خاور نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ آئین میں ’صادق و امین‘ کے الفاظ تھے ہی نہیب بلکہ جب آٹھویں ترمیم جنرل ضیا کے دور میں ہوئی تھی تو انہوں نے یہ شامل کرایا تھا کہ جو بھی رکن پارلیمنٹ ہو گا اس کا صادق و امین ہونا شرط ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’پھر بھی 62 ون ایف رکن پارلیمنٹ کی کوالیفکیشن یا اہلیت سے متعلق ہے اس میں یہ کہیں نہیں لکھا کہ صادق و امین نہ ہونے پر 10 سال یا تاحیات نااہل کر دیا جائے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’جب ایک سزا آئین میں لکھی ہی نہیں وہ دی بھی نہیں جا سکتی اور اور اگر آئین تبدیل کرنا ہے تو اس کے لیے پارلیمنٹ کے ذریعے قانون سازی کی جاتی ہے۔‘

شاہ خاور نے مزید کہا کہ ’اگر اب عدالت اپنے فیصلے پہ نظر ثانی کرنا چاہتی ہے تو دائر کی گئی درخواستوں کو سات یا نو رکنی بینچ کے سامنے لگایا جائے اور دی گئی تشریح پر نظر ثانی کی جا سکتی ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان