پاکستان کی بنگلہ دیش کو شکست: ’رضوان کا وظیفہ ہر جگہ چلتا ہے‘

پاکستان نے پہلے کھیلتے ہوئے پانچ وکٹوں کے نقصان پر167 رنز بنائے، ہدف کے تعاقب میں بنگلہ دیش کی ٹیم آٹھ وکٹوں کے نقصان پر 146 رنز بنا سکی۔

پاکستانی اننگز کی خاص بات بلے بازوں کا سٹرائیک ریٹ تھا۔ کپتان بابر اعظم کے علاوہ تمام بلے بازوں نے 100 یا اس سے زائد سٹرائیک ریٹ کے ساتھ رنز بنائے(اے ایف پی)

نیوزی لینڈ میں ہونے والے سہہ فریقی ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ کے پہلے میچ میں جمعے کو پاکستان نے بنگلہ دیش کو 21 رنز سے شکست دے دی۔

کرائسٹ چرچ کے ہیگلے اوول میدان میں کھیلے جانے والے سیریز کے پہلے میچ میں پاکستان نے پہلے کھیلتے ہوئے پانچ وکٹوں کے نقصان پر167 رنز بنائے۔ ہدف کے تعاقب میں بنگلہ دیش کی ٹیم آٹھ وکٹوں کے نقصان پر 146 رنز بنا سکی۔

بنگلہ دیش نے ٹاس جیت کر پاکستان کو پہلے کھیلنے کی دعوت دی تو پاکستانی کپتان بابر اعظم اور محمد رضوان نے پہلی وکٹ کی شراکت میں پاکستان کو اچھا آغاز فراہم کیا۔

سوئنگ ہوتی گیندوں پر پاکستانی بلے بازوں کو شروع میں کچھ مشکلات تو ضرور آئیں لیکن پھر سنبھل گئے، تاہم رننگ کے دوران دونوں کھلاڑی پھسلتے رہے، جس سے میچ کے ابتدائی اوورز میں رن ریٹ کچھ سست سا رہا۔

پاور پلے کے چھ اوورز میں پاکستانی ٹیم 43 رنز بنا سکی لیکن دونوں بلے بازوں کے سیٹ ہونے کے بعد جونہی رنز بنانے کی رفتار میں اضافہ ہوا، عین اسی وقت کپتان بابر اعظم سویپ شاٹ کھیلتے ہوئے مہدی حسن مرزا کی گیند پر مستفیض الرحمٰن کو کیچ پکڑا بیٹھے۔

بابر اعظم 25 گیندوں پر 22 رنز بنا سکے۔ ان کے آؤٹ ہونے کے بعد شان مسعود بیٹنگ کرنے آئے تو وہ بھی ملی جلی رفتار سے کھیلتے ہوئے 22 گیندوں پر 31 رنز بنا کر نسوم احمد کی گیند پر حسن محمود کو کیچ تھما گئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جس کے بعد محمد رضوان کا ساتھ دینے کو حیدر علی آن پہنچے لیکن تسکین احمد کی ایک شاٹ پچ گیند پر چھکا مارنے کی کوشش میں ٹھیک باؤنڈری لائن پر یاسر علی نے ان کا مشکل کیچ پکڑ کر انہیں بھی پویلین کی راہ دکھا دی۔

حیدر علی کے بعد باری آئی افتخار احمد کی۔ امید تھی کہ وہ نیوزی لینڈ کے نسبتاً چھوٹے گراؤنڈ میں چھکے مار کر ورلڈ کپ کی شاندار تیاری شروع کریں گے لیکن ان کی ایک اڑتی ہوئی شاٹ باؤنڈی کے کافی اندر ہی فیلڈر کے ہاتھ میں جا پہنچی۔

جہاں ایک جانب وکٹیں مسلسل گرتی جا رہی تھیں، وہیں پاکستان کے لیے میدان سے صرف ایک ہی اچھی خبر آ رہی تھی اور وہ تھی محمد رضوان کی کریز پر موجودگی۔

رضوان نے 38 گیندوں پر ایک بار پھر 50 رنز بنا کر نمبر ون ٹی ٹوئنٹی بلے باز ہونے کا حق ادا کیا اور پاکستان کے سکور کو مسلسل بڑھاتے رہے، تاہم رنز کے ساتھ ساتھ رضوان کی فٹنس کے حوالے سے چہ مگوئیاں بھی بڑھتی رہیں۔ رننگ کے دوران وہ مسلسل مسائل کا شکار نظر آئے۔

اگرچہ یہ میچ پاکستانی وقت کے مطابق صبح میں کھیلا جا رہا تھا لیکن اس کے باوجود سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر محمد رضوان، شاہنواز دھانی، شان مسعود اور پاکستان بمقابلہ بنگلہ دیش کے ٹیگز ٹرینڈ کرتے رہے اور صارفین ان پر بڑی تعداد میں ٹویٹس کر رہے تھے۔

رضوان کی شاندار فارم کو دیکھتے ہوئے ایک صارف سامعہ نے ٹویٹ کیا: ’رضوان کا وظیفہ ہر جگہ چلتا ہے۔‘

رضوان نے آج کے میچ میں 50 رنز بنا کر مزید کئی ریکارڈ توڑ ڈالے، جن میں مسلسل دو سال ٹی ٹوئنٹی میں 1500 یا اس سے زیاد رنز اور بطور وکٹ کیپر ٹی ٹوئنٹی میں سب سے زیادہ رنز بنانے کے ریکارڈ شامل ہیں۔

انہوں نے انگلینڈ کے کپتان جوز بٹلر کا بطور وکٹ کیپر سب سے زیادہ ٹی ٹوئنٹی رنز بنانے کا ریکارڈ بھی توڑ ڈالا۔

انگلینڈ کے ساتھ حالیہ سیریز میں پاکستانی بلے بازوں کی شاٹ پچ گیندوں پر سامنے آنے والی کمزوری نے یہاں بھی ان کا پیچھا نہیں چھوڑا اور بنگلہ دیش کے تیز رفتار بولر تسکین احمد نے اسی حکمت عملی کو استعمال کرتے ہوئے حیدر علی کے بعد آصف علی کو بھی چلتا کر دیا۔

اگلے آنے والے بلے باز تھے محمد نواز اور تسکین احمد نے انہیں بھی ایک شاٹ پچ گیند کرتے ہوئے آؤٹ کرنے کوشش کی لیکن نواز ان کی اس کوشش سے محفوظ رہے۔ انہوں نے آخری اوور میں ایکسٹرا کوور کے اوپر سے ایک شاندار چھکا بھی لگایا۔

محمد رضوان 50 گیندوں پر 78 رنز بنا کر ٹاپ سکورر رہے جبکہ بنگلہ دیش کی جانب سے تسکین احمد نے چار اوورز میں 25  رنز کے عوض دو وکٹیں حاصل کیں۔

گذشتہ آٹھ اننگز میں یہ چھٹا موقع تھا جب انہوں نے 50 رنز بنائے۔

پاکستانی اننگز کی خاص بات بلے بازوں کا سٹرائیک ریٹ تھا۔ کپتان بابر اعظم کے علاوہ تمام بلے بازوں نے 100 یا اس سے زائد سٹرائیک ریٹ کے ساتھ رنز بنائے۔

پاکستان کی اننگز کے جواب میں بنگلہ دیش نے ہدف کا تعاقب شروع کیا تو اس کا آغاز کچھ زیادہ اچھا نہیں تھا اور پاور پلے کے دوران ہی 25 کے سکور پر مہدی حسن مرزا اور پھر 37 رنز پر صابر رحمٰن پویلین واپس چل دیے۔

جس کے بعد لٹن داس اور عفیف حسین نے بنگلہ دیش کے سکور کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری لی اور سکور کو 87 تک پہنچا دیا۔ یہاں بنگلہ دیش کو دو مزید نقصان اس وقت اٹھانے پڑے جب محمد نواز کی بولنگ پر لٹن داس 35 اور مصدق حسین بغیر کوئی رنز بنائے آؤٹ ہو گئے۔

سکور تھوڑا ہی بڑھا تھا کہ عفیف حسین بھی 25 رنز بنا کر شاہنواز دہانی کی گیند پر محمد وسیم کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئے۔

عفیف حسین اور لٹن داس کے علاوہ بنگہ دیش کا کوئی بلے باز ٹک کر بیٹنگ نہ کر سکا اور وقفے وقفے سے بنگلہ دیش کے کھلاڑی آؤٹ ہوتے رہے۔ بنگلہ دیش کی ٹیم مقررہ 20 اوورز میں 146 رنز بنا سکی۔

پاکستان کی جانب سے محمد وسیم نے تین جبکہ محمد نواز نے دو وکٹیں حاصل کیں۔

کرکٹ ویب سائٹ ’کرک بز‘ کے مطابق 1886 میں بننے والے اس گراؤنڈ میں ٹی ٹوئنٹی کی پہلی اننگز کا اوسط سکور 168 جبکہ دوسری اننگز کا اوسط سکور 142 رنز ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ