’مولا جٹ‘ کا 50 کروڑ کا بزنس لیکن بعض سینیما فلم کیوں نہیں چلا رہے؟

بعض سینیماؤں کے فلم ’لیجنڈ آف مولا جٹ‘ کی نمائش نہ کرنے کے باوجود اس کا بزنس 50 کروڑ روپے کا ہوگیا ہے۔

فواد خان نے فلم مولا جٹ کا مرکزی کردار ادا کیا ہے (پبلسٹی پوسٹر)

پاکستان کی فلم انڈسٹری میں عرصہ دراز کے بعد ان دنوں پرانی شہرہ آفاق پنجابی فلم مولا جٹ کی طرز پر بننے والی ’دی لیجنڈ آف مولاجٹ‘ نے سینیماؤں میں دھوم مچا رکھی ہے۔

اگرچہ پنجابی کلچر کے مطابق برس ہا برس اداکاری کرنے والے سلطان راہی یا مصطفیٰ قریشی جیسے اداکار اس میں شامل نہیں مگر پھر بھی یہ فلم ’رش‘ لے رہی ہے۔

فلم پروڈیسر عمارہ حکمت کے مطابق دی لیجنڈ آف مولا جٹ نے پانچ روز میں 50 کروڑ کا بزنس کرلیا ہے۔

فلم کی باکس آفس پر دھوم مچی ہوئی ہے اور یہ پاکستان سمیت اب تک دنیا بھر میں دو کروڑ 30 لاکھ ڈالر اور پاکستانی 50 کروڑ روپے سے زائد کا بزنس کرچکی ہے، تاہم بعض سینیما اس فلم کو نہیں چلا رہے۔

اس حوالے سے فلمساز و نمائش کار ندیم مانڈوی والا کہتے ہیں کہ ’بعض سینیما مالکان فلم کی نمائش سے متعلق جھوٹا پروپیگنڈہ کر رہے ہیں، جس کا جلد تفصیلی جواب دیں گے۔‘

فلم کا بزنس اور سینما مالکان کا تعاون

عمارہ حکمت نے بتایا کہ ’دی لیجنڈ آف مولا جٹ‘ کو دنیا بھر میں 25 ممالک میں 500 سے زائد سکرینز پر ریلیز کیا گیا ہے۔ یہ کسی بھی پاکستانی یا پنجابی فلم کے لیے اب تک کی سب سے زیادہ اور وسیع ترین ریلیز ہے۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ ’برطانیہ میں اپنے پہلے ویک اینڈ (چار دن) میں اس فلم نے 79 مقامات سے تین لاکھ 15 ہزار پاؤنڈز کمائے ہیں۔ یہ برطانیہ میں کسی بھی پاکستانی یا پنجابی زبان کی فلم کے لیے اب تک کا سب سے زیادہ اوپننگ ویک اینڈ کلیکشن ہے، جو کہ یوکے باکس آفس کے ٹاپ 10 میں نویں پوزیشن پر ہے۔‘

بقول عمارہ حکمت: ’کینیڈا میں دی لیجنڈ آف مولا جٹ نے باکس آفس پر تین لاکھ 24 ہزار کینیڈین ڈالر کا بزنس کیا اور اس نے رینکنگ نمبر چھ کی کمائی کی۔ شمالی امریکہ کے لیے کل مجموعہ چھ لاکھ امریکی ڈالر سے زیادہ ہے۔‘

متحدہ عرب امارات میں بھی ’دی لیجنڈ آف مولا جٹ‘ نے چار دنوں میں پانچ لاکھ 15 ہزار سے زیادہ کی کمائی کی جبکہ دیگر ممالک میں آسٹریلیا، ناروے، جرمنی، نیدرلینڈز، سپین اور جنوب مشرقی ایشیا میں فلم کا بزنس ڈھائی لاکھ ڈالر سے زیادہ کا ہے۔

فلم کے ڈائریکٹر بلال لاشاری نے ایک بیان میں کہا: ’میں فلم کو دنیا بھر میں شائقین اور ناقدین کی طرف سے ملنے والی محبت سے بے حد متاثر ہوں۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ دی لیجنڈ آف مولا جٹ نے پاکستانی سینیما کو عالمی نقشے پر لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے کیوں کہ یہ دنیا بھر کے سینیما گھروں میں دل جیت رہا ہے۔‘

فلم پروڈیوسر عمارہ حکمت نے کہا کہ ’دی لیجنڈ آف مولا جٹ کئی سالوں سے ہم سب کی محنت ہے۔ ہمیں بہت خوشی ہے کہ ہماری فلم نے پچھلے ریکارڈ توڑ دیے ہیں اور پاکستانی سینیما کے لیے ایک نیا معیار قائم کیا ہے، جسے نہ صرف اندرون ملک بلکہ عالمی سطح پر ناظرین اور ناقدین نے پسند کیا اور سراہا ہے۔‘

دوسری جانب فلم کے ڈسٹری بیوٹر ندیم مانڈوی والا نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’ملک کے 50 فیصد سے زیادہ سینیما گھروں پر مشتمل تین سب سے بڑی سینیما چینز نے پاکستان کی سب سے مہنگی فلم کو سپورٹ نہیں کیا، پھر بھی ہر روز باکس آفس کی پوزیشن اچھی جا رہی ہے اور پاکستان کی فلمی صنعت کی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ میں نے اپنے 42 سالوں میں کبھی کسی فلم کو اس پیمانے پر پرفارم کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔‘

ندیم کے بقول فل ’دی لیجنڈ آف مولا جٹ‘ 13 اکتوبر 2022 کو دنیا بھر کے سینیما گھروں میں ریلیز ہوئی ہے۔ فلم کی کاسٹ میں فواد خان، ماہرہ خان، حمزہ علی عباسی، حمائمہ ملک، گوہر رشید، راحیلہ آغا، راشد محمود، وسیم علی، نیئر اعجاز، فارس شفیع اور علی عظمت شامل ہیں۔

سینیما مالکان کو اعتراض کیوں؟

لاہور کے سینیما انڈسٹری کے رہنما اعجاز کامران نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’جدید ترین ٹیکنالوجی سے بنی دی لیجنڈ آف مولا جٹ تمام جدید سینیماؤں میں چل رہی ہے۔ جس نے شرائط پوری کیں انہیں فلم مل گئی ہے، مگر کراچی اور سندھ کے بعض سینما مالکان اعتراض کر رہے ہیں کہ یہ پنجابی فلم ہے اور لوگوں کو سمجھ نہیں آرہی اس لیے پروموٹ نہیں کر رہے۔‘

اعجاز کامران کے مطابق جو پرانے روایتی سرکٹ سینیما ہیں وہ اپ گریڈ نہ ہونے کی وجہ سے فلم نہیں چلا پائے، البتہ لاہور کے بیشتر سینما گھروں میں فلم مولا جٹ کی نمائش جاری ہے۔

ندیم مانڈوی والا کہتے ہیں کہ بیشتر سینیما مالکان فلم کی کامیابی میں تعاون کر رہے ہیں لیکن بعض بلاوجہ اعتراض کر رہے ہیں۔

بقول ندیم مانڈوی والا: ’عرصہ دراز کے بعد انڈسٹری کو فروغ ملنے لگا ہے تو اعتراض کیوں؟ جن کو یہ مسئلہ ہے کہ زبان پنجابی ہے تو فلم میں انگریزی اور اردو ٹرانسکرپٹ بھی دیا گیا ہے، لہذا یہ اعتراض بلا جواز ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ فلم پوری دنیا میں پزیرائی حاصل کر رہی ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی فلم