کیا اس مرتبہ صدر ٹرمپ تاریخ بدلنے والے ہیں؟

پاکستان امریکہ تعلقات کی ستر سالہ تاریخ اس حقیقت کی آئینہ دار ہے کہ امریکہ نے ہمیشہ خود غرضی کا مظاہرہ کیا۔ کشمیر کے مسئلے اور پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام پر امریکی رویہ اس امر کا کھلا ثبوت ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات میں کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کی۔ (اے ایف پی)

پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کی تاریخ کو دوستی، اندیشوں، خدشات، تحفظات، شاطرانہ اتحادوں، وعدہ خلافیوں بے وفائیوں، پابندیوں اور سفارتی فن کاری کی تاریخ ہی کہا جاسکتا ہے۔

پوری دنیا کی نظریں وائٹ ہاوس میں وزیراعظم پاکستان عمران خان اور امریکی صدر ٹرمپ ملاقات پر لگی ہوئی تھیں۔ ٹرمپ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان دیرینہ مسئلہ کشمیر کو حل کروانے میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کا کہا ہے۔ مسئلہ کشمیر پر امریکہ نے ماضی میں مصلحت سے کام لیا۔ کئی ایسے مواقع آئے جب امریکہ بھارت پر دباؤ ڈال کر اس مسئلے کو ہمیشہ کے لیے ختم کر سکتا تھا۔

اس نے ہمیشہ پاکستان پر دباؤ ڈالا اور جب بھی بھارت مشکل صورتحال میں گرفتار ہوا امریکہ اس کی مدد کو آیا۔ امریکہ کی ہر حکومت نے پاکستان کو کشمیر کا مسئلہ حل کرانے کی یقین دہانی کروائی مگر جب امریکہ اپنا مفاد حاصل کر لیتا ہے تو وہ کشمیر پر موثر اور فعال کردار ادا کرنے سے انکار کر دیتا ہے۔ آج امریکہ افغانستان سے باعزت واپسی چاہتا ہے اس لیے ایک بار پھر پاکستان کو مسئلہ کشمیر پر ثالثی ادا کرنے کی یقین دہانی کروائی جا رہی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جی ڈبلیو چوہدری اپنی کتاب ’انڈیا پاکستان اینڈ مجیر پاور‘ میں لکھتے ہیں کہ امریکہ آزادی فارمولا کے مطابق 1948 میں انصاف اور قانون کا ساتھ دیتے ہوئے بھارت پر دباؤ ڈالتا تو کشمیر کا مسئلہ حل ہو جاتا مگر امریکہ نے مصلحت سے کام لیا۔

امریکہ کے سابق صدر آئزن ہاور نے 16 اپریل 1963 کو اپنے تاریخی خطاب میں کہا: ’ہر بندوق جو تیار کی جاتی ہے۔ ہر جنگی جہاز جس کو پانی میں اتارا جاتا ہے، راکٹ جو فائر کیا جاتا ہے، آخر کار ظاہر کرتا ہے کہ ہم ان لوگوں سے نظریں چرا رہے ہیں جو بھوکے ہیں اور ان کے پاس کھانے کو کچھ نہیں ہے۔ جو سردی میں ٹھٹھر رہے ہیں اور ان کے پاس کپڑے نہیں ہیں۔ دنیا اسلحہ بنانے کے لیے صرف دولت خرچ ہی نہیں کر رہی یہ اپنے مزدورں کا پسینہ خرچ کر رہی ہے اور اپنے سائنس دانوں کی ذہانت اور اپنے بچوں کی امیدیں خرچ کر رہی ہے۔‘ 

پاکستان امریکہ تعلقات کی 70 سالہ تاریخ اس حقیقت کی آئینہ دار ہے کہ امریکہ نے ہمیشہ خود غرضی کا مظاہرہ کیا۔ کشمیر کے مسئلے اور پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام پر امریکی رویہ اس امر کا کھلا ثبوت ہے۔

سٹفین کوہن کے مطابق امریکہ نے شارٹ ٹرم فائدے کے لیے لانگ ٹرم اندیشوں کو نظر انداز کیا۔ اس پالیسی سے انتہائی مہلک اثرات مرتب ہوئے۔ پاکستان کی عوام امریکہ کے سابق ریکارڈ کی روشنی میں اس پر کسی صورت اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں پاکستان کی عوام سمجھتی ہے کہ امریکہ پاکستان کو اپنے مفاد میں استعمال کرنے کے بعد چھوڑ دیتا ہے۔ کیا اس مرتبہ صدر ٹرمپ تاریخ بدلنے والے ہیں؟

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ