ڈاکٹروں پر تشدد کے خلاف ریڈ کراس کی مہم

’بھروسہ کریں‘ کے نام سے چلائی گئی اس مہم کا مقصد  ہسپتالوں کے اندر  ہونے والے تشدد کے واقعات میں کمی لانا  اور طبی عملے اور طبی سہولیات کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

تین ماہ پر مشتمل  اِس مہم کی افتتاحی تقریب  اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں ہوئی جس میں حکومتی ذمہ داران،سول سوسائٹی کے نمائندگان اور میڈیا اہلکاروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی(بین الاقوامی ریڈکراس کمیٹی)۔

بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی نے آج اسلام آباد  میں منعقد ہونے والی ایک تقریب میں ’بھروسہ کریں‘ کے عنوان سے قومی آگاہی مہم کا آغاز کردیا ہے۔ اس مہم کا مقصد  ہسپتالوں کے اندر  ہونے والے تشدد کے واقعات میں کمی لانا  اور طبی عملے اور طبی سہولیات کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ تین ماہ پر مشتمل  اِس مہم کی افتتاحی تقریب  اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں ہوئی جس میں حکومتی ذمہ داران،سول سوسائٹی کے نمائندگان اور میڈیا اہلکاروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آئی سی آر سی پاکستان کی سربراہ دریگانہ کاجک نے کہا، ’طبی اہلکارو ں کے خلاف تشدد ایک  انسانی المیہ ہے جو طبی سہولیات کی فراہمی اور اُس تک رسائی میں مشکلات  پیدا کرتا ہے۔ صرف یہی نہیں ، بلکہ  یہ مسئلہ بیماریوں کی روک تھام اور خاتمے میں بھی  رکاوٹیں کھڑی کرتا ہے۔‘

طبی سہولیات اور عملہ جات کے خلاف جب تشدد ہوتا ہے تو اس سے میڈیکل سروس کا معیار ہی متاثر نہیں ہوتا بلکہ  طبی عملے اور ضرورت مند مریض کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہوجاتے ہیں۔  مہم کے ذریعے لوگوں کو اس بات کی آگاہی دی  جائے گی کہ ہسپتال میں جاری طبی عملے کی سرگرمیوں میں مداخلت کرنا نقصان دہ ہوسکتا ہے۔ تشدد کے بیشتر واقعات میں  طبی عملے کو مریض کے لواحقین کی جانب سے تشدد کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اِس مہم کا ایک بڑا ہدف مریضوں کے لواحقین اور تیمارداروں کے رویے میں مثبت تبدیلی لانا ہے۔

ہسپتالوں میں ہونے والے تشدد کے حوالے سے افادہ عامہ کے پیغامات ٹی وی، ریڈیو اور سوشل  میڈیا کے ذریعے نشر کیے جائیں گے۔ یہ پیغامات درپیش چلینجز کے حوالے سے ہونے والی تحقیق ، جائزہ رپورٹس اور آگہی کی دیگر سرگرمیوں کے عکاس ہوں گے۔

اِس ملک گیر مہم کے تحت ہونے والی سرگرمیوں کے بارے میں سوشل میڈیا پر  #BharosaKarein کے ہیش ٹیگ کے ذریعے آگاہی حاصل کی جاسکتی ہے۔

تقریب کے مہمان ِ خصوصی  اور وزیر صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’بدقسمتی سے طبی سہولیات فراہم کرنے والے اہلکارتیمارداروں سے خطرہ  محسوس کرنے لگے ہیں۔ یہ اب ہمارے ہاں ایک عام رجحان ہے جس میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ ہم نے وقتا فوقتا اس  چیلنج کا مشاہدہ کیا ہے مگر اس کے سدباب کے لیے ہم ابھی تک  خاطر خواہ  اقدامات نہیں کرپائے ہیں۔ میں آئی سی آرسی کو  خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ اس نے تشدد کے اِ س رجحان پر قابو پانے کے لیے سنجیدہ بنیادوں پر اقدامات کیے ہیں۔ میں  اِس مہم میں آئی سی آر سی کے شانہ بشانہ ہوں اور آگے بھی اس طرح کے اقدامات کے لیے بھرپور تعاون کا یقین دلاتا ہوں۔‘

ہلال احمرپاکستان کے چئیرمین ڈاکٹر سعید الہی نے شرکا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، آئی سی آر سی نے ’بھروسہ کریں‘ کے عنوان سے جس مہم کا آغاز کیا ہے یہ  موجودہ وقت کی ایک بہت بڑی ضرورت ہے ۔ کیونکہ  طبی اہلکاروں کے خلاف تشدد کے رجحان کی وجہ سے ہسپتالوں کے عملے میں عدمِ تحفظ کا احساس بڑھتا چلا جارہا ہے۔ ہلال احمر پاکستان نے پہلے بھی اس طرح کی شعور و آگہی پر مبنی سرگرمیوں کے لیے سرکاری اداروں، تعلیمی اداروں، میڈیا ہاوسز، دینی مدارس اور سول سوسائٹی کے ساتھ مل کر ملکی سطح پر اپنا کردار ادا کیا ہے۔  جس مہم کا آج آئی سی آر سی نے  آغاز کیا ہے اس میں بھی ہلال احمرنے اپنے  رضا کاروں کاایک  ملک گیر نیٹ ورک   تشکیل دیا ہے جو آئی سی آر سی کی مہم کے لیے ہرقدم سرگرم رہے گا۔  

ہیلتھ کئیراِن ڈینجر انیشیٹیوکے سربراہ ڈاکٹر میرویس خان نے مہم کے حوالے  سے  بریفنگ دیتے ہوئے کہا، ’طبی اہلکاروں کے خلاف تشدد کا معاملہ ایک  ہمہ جہت   توجہ کا تقاضہ کرتا ہے جس میں  درپیش چینلجز کا تجزیہ، قانون سازی اور اس کی ترویج، جدید خطوط پر استوار کچھ عملی اقدامات اور  ابلاغ   و آگہی شامل ہیں۔ لوگوں کے رویوں میں تبدیلی کے لیے آئی سی آر سی نے اپنے  شرکائے کار کے ساتھ مل کر مستحکم بنیادوں پر جو کوشش کی ہے وہ طبی اہلکاروں اور طبی سہولیات کے تحفظ کے لیے  ایک بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔‘

آئی سی آرسی پاکستان میں طبی عملے کے خلاف  پائے جانے والے تشدد کے رجحان میں کمی لانے کے لیے ہمہ جہت  منصوبہ بندی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔ ایسی متعدد سرگرمیاں  اب تک انجام دی جاچکی ہیں جن کے تحت طبی سہولیات اور عملہ جات کے تحفظ کے حوالے سے  شعور اجاگرکرنے کی کوشش کی گئی ہے۔    جس کی ایک بڑی مثال 2016-17  میں  ’راستہ دیں‘ اور ’پہلے زندگی‘ کے عنوان سے چلنے والی دو بڑی مہم ہیں جن کا مقصد لوگوں میں ایمبولینس کو راستہ دینے کے لیے حساسیت کی سطح کو بڑھانا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی صحت