دو ماہ گزرنے کے باوجود فضائی کمپنی وہیل چیئر نہیں دلا سکی

متاثرہ خاتون جین وارین نے جو اس وقت امید سے ہیں اور چھٹی پر ہیں ، انہیں نہ چاہتے ہوئے بھی اپنے لیے تقریباً ایک ہزار پاؤنڈ کی نئی وہیل چیئرخریدنی پڑی ہے کیونکہ وہ فضائی کمپنی کی جانب سے کسی جواب کے بغیر انشورنس کا دعویٰ نہیں کر سکتیں۔

برطانوی خاتون کی وہیل چیئر کو اس وقت نقصان پہنچا جب وہ براستہ دبئی ماریشس سے برمنگھم جا رہی تھیں (جین وارن)۔

برطانیہ کی معذور خاتون فضائی مسافراپنے ساتھ ہونے والے ’اذیت ناک‘ سلوک پر متحدہ عرب امارات کی فضائی کمپنی ایمرٹس کے خلاف پھٹ پڑیں۔ فضائی کمپنی نے ان کی وہیل چیئرتوڑ دی تھی اور تین ماہ سے اس ضمن کوئی جواب دینے میں بھی ناکام رہی ہے۔ 

جین وارین طب کے شعبے سے وابستہ ہیں اوروہ مریضوں کو آپریشن کے لیے بے ہوش کرنے والے شعبے سے وابستہ ہیں۔ دو بچوں کی والدہ، جین کا تعلق برطانیہ کے مغربی مڈ لینڈز کے علاقے رگبی سے ہے۔ خاتون نے کہا ہے کہ فضائی کمپنی نے 24 اپریل کو ان کی پرواز کے بعد سے انہیں مصیبت میں چھوڑ کر واقعی بہت پریشان کر دیا ہے۔

خاتون نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا : ’ انہوں نے میرے ساتھ بہت برا سلوک کیا۔ انہوں نے نہ صرف میری وہیل چیئرتوڑ دی بلکہ انہیں اس حوالے سے کوئی پرواہ بھی نہیں ہے۔ ‘

برطانوی خاتون کی وہیل چیئر کو اس وقت نقصان پہنچا جب وہ براستہ دبئی ماریشس سے برمنگھم جا رہی تھیں۔

جین وارین نے پرواز میں ساتھ آنے والا سامان حاصل کرنے والے ہال میں جونہی اپنی وہیل  چیئر کو دیکھا کو انہیں گڑبڑ کا پتہ چلا۔ خاتون نے کہا : ’ میں وہیل چیئر کو سیدھا بالکل نہیں چلا سکتی۔ عام طور پر میں ایک سال پہلے خریدی گئی وہیل چیئر کو خود دھکیلتی ہوں جبکہ میرے خاوند سامان سنبھالتے ہیں لیکن اب میں وہیل چیئر کو نہیں چلا سکتی۔ ‘

انہوں نے وہیل چیئر کو پہنچنے والے نقصان کی اطلاع ہوائی اڈے پر ہی بیکیج کمپنی کے ٹو گلوبل کو کر دی تھی جس نے وہیل چیئر کو فوری طور پر تحویل میں لینے کی پیش کش کی تاکہ اس کی مرمت کرائی جا سکے۔ انہوں نے خاتون سے یہ بھی کہا وہ چاہیں تو اپنے طور پر اس کی مرمت کرا لیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جین وارین نے اپنے طور وہیل چیئر کی مرمت کرانے کا فیصلہ کیا کیونکہ وہ طویل عرصے تک وہیل چیئر کی سہولت سے محروم رہیں۔

وہیل چیئر مرمت کرانے کی کوشش کی کئی بار ناکامی کے بعد وہ نئی وہیل چیئرخریدنے پر مجبور ہو گئیں۔

خاتون نے بیگیج کمپنی کے ٹو سے رابطہ کرکے اسے نئی وہیل چیئر خرید کر دینے کے لیے کہا جس پر انہیں بتایا گیا کہ اس حوالے سے معلومات فضائی کمپنی ایمرٹس تک پہنچا دی گئی ہیں۔

تاہم ایک ماہ بعد بھی فضائی کمپنی نے انہیں کچھ نہیں بتایا۔ انہوں نے جون میں کے ٹو گلوبل کمپنی سے دوبارہ رابطہ کیا جس نے انہیں یقین دلایا کہ ان کی وہیل چیئرکے معاملے میں ’ ارجنٹ ‘ کے عنوان کے ساتھ کئی ای میلز ایمرٹس کو کی گئی ہیں۔

جین وارین کہتی ہیں : ’ میں جانتی ہوں کہ ایسے کاموں میں وقت لگتا ہے لیکن جب آپ ایسی  وہیل چیئر کو استعمال کرنے کی کوشش کرتے جو صرف ایک سمت میں چلتی ہے اورآپ کو بچوں کو سکول سے لانا لے جانا بھی ہوتا ہے تو صورت حال بے حد اذیت ناک ہو جاتی ہے۔ ‘

وہ مزید کہتی ہیں : ’ مجھے وہیل چیئر زیادہ استعمال کرنی پڑتی ہے۔ مجھے گھر سے باہر نکلنا بہت پسند ہے۔ اگر مجھے پتہ ہوتا کہ اس میں اتنا زیادہ وقت لگے گا تو میں سیدھا سیدھا نئی وہیل چیئر خرید لیتی۔ ‘

خاتون  کا کہنا تھا : ’ اگر آپ کسی سے اس کی کار کی چابیاں یا جوتے لے لیں تو انہیں پتہ چلا کہ ایسی صورت میں کس قدر مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ‘

18 جولائی کو دی انڈپینڈنٹ سے پہلی مرتبہ بات کرنے کے وقت تک جین وارین کو فضائی کمپنی کی جانب سے وہیل چیئرکے معاملے میں باضابطہ طور پر کچھ نہیں بتایا گیا تھا۔

ایمرٹس کے ساتھ سوشل میڈیا کے ذریعے خط وکتابت کا خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلا۔ فضائی کمپنی کے نمائندوں نے خاتون کو کچھ نہیں بتایا کہ انہیں کب جواب دیا جائے گا ؟

فضائی کمپنی کے مختلف ملازمین نے لکھا : ’ ہم اب بھی کسٹمرز ریلیشن ٹیم کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ ‘ حالانکہ وہیل چیئرکا معاملہ فضائی کمپنی کے ساتھ اٹھائے ہوئے دو ماہ گزر چکے ہیں۔

جین وارین نے جو اس وقت امید سے ہیں اور چھٹی پر ہیں ، انہیں نہ چاہتے ہوئے بھی اپنے لیے تقریباً ایک ہزار پاؤنڈ کی نئی وہیل چیئرخریدنی پڑی ہے کیونکہ وہ فضائی کمپنی کی جانب سے کسی جواب کے بغیر انشورنس کا دعویٰ نہیں کر سکتیں۔

خاتون نے کہا : ’ غیریقینی کی وجہ صورت حال اور بھی خراب ہو جاتی ہے۔ میں خوش قسمت ہوں کہ میں ڈاکٹر ہوں اور نئی وہیل چیئر خریدنے کے قابل ہوں لیکن میں ایسے کئی لوگوں کو جانتی ہوں جو ایسا نہیں کر سکتے۔ ‘

’ لوگوں کو وہیل چیئر کی قیمت کا علم ہی نہیں ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ آپ شیلف پر رکھی کسی چیز کی وہیل چیئر بھی اٹھا لیں گے یا آسانی سے دوسری خرید لیں گے – لیکن آپ ایسا نہیں کر سکتے۔ وہیل چیئرکا درست سائز تلاش کرنے میں وقت لگتا ہے۔ وہیل چیئر میں ضرورت کے مطابق تبدیلی لانا بھی آسان نہیں ہوتا۔ ‘

جین وارین نئی وہیل چیئر کی خریداری پر اٹھنے والے اخراجات کے مقابلے میں فضائی کمپنی کی جانب سے کوئی جواب نہ ملنے سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں۔

خاتون کہتی ہیں : ’ میں چاہتی ہوں کہ انہیں احساس ہو کہ انہوں نے مجھ سے تین ماہ کے لیے نقل و حرکت کا بڑا ذریعہ چھین لیا۔ مجھے مایوسی ہوئی ہے کہ وہ کسی اتنی دیر تک نظرانداز کر سکتے ہیں۔ ‘

’ انہوں نے رابطہ نہ کرکے مجھے واقعی پریشان کیا ہے۔ ‘

’ میں چاہتی ہوں کہ وہ اپنی پالیسی پر نظر ثانی کریں کہ اس قسم کے معاملات سے کس طرح نمٹنا ہے۔ ‘

جین وارین کے مطابق حادثات ہوتے رہتے ہیں لیکن اہم بات یہ ہے کہ ان سے نمٹا کیسے جائے ؟

خاتون کا مزید کہنا ہے : ’ یہ کوئی خاص طور پر پیچیدہ معاملہ نہیں ہے جسے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ انہیں چند ہفتے میں آپ کو پیش کش کرنی چاہیے اور کوئی فیصلہ کرکے نئی چیز دے دینی چاہیے۔ ‘

انہوں نے مزید کہا : ’ مجھے یقین ہے کہ اگر ایمرٹس کا کوئی ایک طیارہ کھڑا رہے اور فضائی کمپنی کی انتظامیہ سے کہا جائے ’ ہم اس تاخیر پر معذرت خواہ ہیں اور ہم معاملے کو دیکھ رہے ہیں ‘  تو یہ صورت حال قبول نہیں کی جائے گی۔ ‘

 دی انڈپینڈنٹ کے خاتون سے رابطہ کے بعد ایمرٹس نے بالآخر جین وارین کو ای میل کی ہے جس میں  نئی وہیل چیئر کی خریداری کے حوالے سے چھ سو 50 پاؤنڈز کی پیش کش کی گئی ہے۔

فضائی کمپنی کے ترجمان نے کہا : ’ ایمرٹس وہیل چیئر استعمال کرنے والے اپنے مسافروں کی ضروریات کا سنجیدگی سے خیال رکھنے کی ذمہ داری لیتی ہے اور ہم وہیل چیئرکے معاملے کو نمٹانے میں ہونے والی تاخیر پر معذرت خواہ ہیں۔ ہم مسافر سے براہ راست رابطے میں ہیں اور 18 جولائی کو انہیں پیش کش کر چکے ہیں۔ ‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی یورپ