’عافیہ صدیقی نے گرفتاری سے پہلے دن کہاں گزارے؟‘

ویسے تو عافیہ صدیقی کا کراچی سے غزنی تک کا سفر اب بھی پراسرار اور پوشیدہ ہے لیکن اتنی بات واضح ہوتی دکھائی دیتی ہے کہ وہ ایک غلط پتے پر پاکستانی شدت پسند رہنما کی تلاش میں تھیں۔

عافیہ صدیقی سے متعلق کئی سوالات اب بھی جواب طلب ہیں(السٹریشن: صابر نذر)

انڈپینڈنٹ اردو کو معلوم ہوا ہے کہ امریکہ میں قید پاکستانی ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے گرفتاری سے قبل افغانستان کے صوبے وردگ کے ضلع نرخ میں ایک امام مسجد کے مکان میں اپنے بیٹے کے ہمراہ تین راتیں بسر کی تھیں۔

وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکہ کے دوران عافیہ صدیقی کا موضوع دوبارہ زیر بحث آیا ہے اور عمران خان نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ وہ عافیہ صدیقی کے بدلے ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی پر بات کرنے کو تیار ہیں۔

ویسے تو عافیہ صدیقی کا کراچی سے غزنی تک کا سفر اب بھی پراسرار اور پوشیدہ ہے لیکن بات اتنی واضح ہوتی دکھائی دیتی ہے کہ وہ ایک غلط پتے پر پاکستانی شدت پسند رہنما کی تلاش میں تھیں۔

ڈاکٹر عافیہ صدیقی امریکی ریاست ٹیکسس میں واقع کارزویل جیل میں آج کل 86 سال کی قید کاٹ رہی ہیں۔

مذکورہ افغان امام مسجد کے بیٹے نے نام ظاہر نہ کرتے ہوئے انڈپینڈنٹ اردو کو اس بات کی تصدیق کی کہ ڈاکٹر عافیہ ان کے ہاں تین دن تک رہی تھیں۔ ’ڈاکٹر عافیہ اپنے بیٹے کے ہمراہ ایک شام ایک مسافر گاڑی میں کابل سے ضلع نرخ پہنچیں اور کسی کے دیے ہوئے پتہ کے بارے میں دریافت کر رہی تھیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نرخ کے صدر مقام سے روزانہ ایک مسافر گاڑی صبح کابل کے لیے روانہ ہوا کرتی تھی جبکہ شام کو دوسری واپس لوٹا کرتی تھی۔ 

اس امام مسجد کو بعد میں امریکیوں نے تحقیقات کے لیے گرفتار بھی کیا تھا۔ اب وہ انتقال کرچکے ہیں۔ 

امام مسجد کے بیٹے نے بتایا کہ کاغذ پر ہاتھ سے لکھا ہوا وہ پتہ غلط تھا۔ ’بازار میں موجود لوگوں کو تشویش ہوئی کہ اب اس عورت کو بچے کے ساتھ کہاں رکھا جائے۔ فیصلہ ہوا کہ جب تک ان کی واپسی کا کوئی بندوبست نہیں ہوتا اس وقت تک مقامی امام مسجد کا گھر اس خاتون کا عارضی مسکن ہو سکتا ہے۔‘

افغان شخص نے بتایا کہ وہ حیران تھے کہ یہ عورت بغیر کسی مرد محرم کے اس علاقے میں کیا کر رہی ہے۔ ’ماں کے مقابلے میں ان کا بیٹا صحت میں کافی اچھا تھا۔ ہمیں انہوں نے بتایا کہ ان کے والد لاپتہ ہیں اور وہ انہیں بھی تلاش کر رہے ہیں۔‘

انہوں نے مزید بتایا: ’وہ ہمارے مکان میں تین راتیں رہیں۔ ایک ہی بڑا کمرہ تھا تو درمیان میں بڑی سی چادر لٹکا کر پردے کا انتظام کیا گیا۔ وہ پشتو نہیں جانتی تھیں اور ہم اردو۔ کچھ عربی جانتی تھیں تو اسی کے ذریعے ان سے میں تھوڑی بہت بات کر لیتا تھا۔‘

یہ بھی پڑھیں:’عافیہ صدیقی اپنی رہائی کی اپیل دائر کرنے کے لیے تیار‘

’اکثر رات کو وہ تلاوت کیا کرتیں اور رویا بہت کرتی تھیں۔ وہ بظاہر شدید ذہنی دباؤ میں دکھائی دے رہی تھیں۔‘

اس افغان کے بقول ڈاکٹر عافیہ کوئٹہ سے چند روز قبل قندہار اور پھر کابل پہنچی تھیں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ ’ڈاکٹر عافیہ کو دراصل پاکستانی طالبان کی کالعدم تحریک کے اُس وقت کے سربراہ بیت اللہ محسود کی تلاش تھی اور وہ ان سے ملنا چاہتی تھیں۔ ان کے پاس چند بیگ تھے اور جاتے ہوئے چند دستاویزات بھی پیچھے چھوڑ گئی تھیں۔ ان کے پاس ہم نے قندہار سے کابل کا بس ٹکٹ بھی دیکھا تھا۔‘  

بعد میں انہیں برقع میں واپس بس پر بٹھا کر غزنی روانہ کر دیا گیا، جس کے اگلے ہی روز ان کی امریکی فوجیوں کے ہاتھوں گرفتاری کی خبر سامنے آ گئی۔ یہ گرفتاری 17 جولائی 2008 کو افغانستان میں رپورٹ ہوئی تھی۔ ان کے خاندان والوں کا دعویٰ ہے کہ وہ اُس وقت سے پانچ برس پہلے کی لاپتہ ہیں۔

امریکیوں کا کہنا تھا کہ عافیہ سے جو انگریزی اور اردو میں دستاویزات ملیں وہ بم بنانے کے نسخے تھے۔

مزید پڑھیں: عافیہ صدیقی پاکستان نہیں آنا چاہتیں: دفتر خارجہ

پاکستان کے موجودہ وزیرِ اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ وہ پہلے پاکستانی سیاستدان ہیں جنہوں نے ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لیے آواز اٹھائی۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ پاکستان حکام نے انہیں تین بچوں سمیت امریکہ کے حوالے کیا تھا۔

پاکستان کی جانب سے ڈاکٹر شکیل آفریدی کے بدلے ڈاکٹر عافیہ کی واپسی پر رضامندی سے ابھی تک یہ واضح نہیں کہ یہ تبادلہ کب ممکن ہو پاتا ہے لیکن کئی لوگوں کے خیال میں ان کا 2003 میں کراچی سے نکلنا اور 2008 میں گرفتاری کے درمیان کا عرصہ معلوم کرنا نہ صرف ایک دلچسپ چیلنج ہے بلکہ ان کی کہانی کسی فلمی کہانی سے کم نہیں۔

ان کی رہائی کی مہم چلانے والے ان کے حامیوں کا دعویٰ ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کو دراصل امریکیوں نے 2003 میں گرفتار کیا تھا جبکہ امریکی حکام اس کی تردید کرتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان