پہلے گرمی، پھر سیلاب سے مرچوں کی فصل ’تباہ‘

مرچوں کا گڑھ کہلانے والے قصبے کنری میں مرچ کے کاشت کار مشکل صورتِ حال سے دوچار ہیں۔

جنوبی پاکستان کے قصبے کنری کو سرخ مرچوں کے گڑھ کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اس قصبے کے قریب 40 سالہ کسان لیمن راج سرخ مرچوں سوکھے ہوئے پودوں میں سے گزرتے ہیں۔

انہیں بڑی حد تک تباہ شدہ فصل میں چمکدار سرخ مرچوں کی تلاش ہے جو شاید بچ گئی ہوں۔

ہاتھ میں سرخ مرچ کے سوکھے اور گلے سڑے پودے لیے راج کہتے ہیں کہ ’میری فصلوں کو گرمی سے شدید نقصان پہنچا، پھر بارشیں شروع ہوئیں اور موسم بالکل بدل گیا۔ اب موسلادھار بارشوں کی وجہ سے ہماری فصلوں کو سخت نقصان پہنچا ہے اور یہی کچھ مرچوں کے ساتھ ہوا۔ پوری فصل گل سڑ گئی۔‘

کئی سال سے زیادہ درجہ حرارت کے نتیجے میں اس سال اگست اور ستمبر میں پاکستان بھر میں تباہی مچانے والے سیلاب نے مرچ کے کاشت کاروں کو صورت حال سے نمٹنے کے لیے ہاتھ پیر مارنے پر مجبور کر دیا ہے۔

کاشت کاروں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ زراعت پر بہت زیادہ انحصار کرنے والے ملک پاکستان میں شدید ترین موسمی حالات دیہی معیشت کو بری طرح متاثر کر رہے ہیں۔ تبدیل ہوتے موسم سے جنوبی ایشیا کی آبادی کی کمزوری نمایاں ہو رہی ہے۔ حکام پہلے تخمینہ لگا چکے ہیں کہ حالیہ سیلاب سے 40 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوا۔

پاکستان مرچ کی پیداوار کے لحاظ سے دنیا میں چوتھے نمبر پر ہے۔ ملک میں ڈیڑھ لاکھ ایکڑ (60700 ہیکٹر) رقبے پر مشتمل فارمز سالانہ 143000 ٹن مرچ پیدا کرتے ہیں۔ زراعت پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی ہے جسے موسمیاتی تبدیلیوں سے خطرہ لاحق ہے۔ سیلاب سے پہلے زیادسہ درجہ حرارت نے مرچیں اگانا مشکل بنا دیا۔ مرچ کاشت کرنے کے لیے زیادہ معتدل موسم کی ضرورت ہوتی ہے۔

راج کہتے ہیں کہ ’جب میں بچہ تھا تو گرمی کبھی اتنی شدید نہیں ہوتی تھی۔ ہمارے ہاں فصل بہت ہوتی تھی۔ اب اتنی گرمی پڑ گئی ہے اور بارشیں اتنی کم ہیں کہ ہماری پیداوار کم ہو گئی ہے۔‘

پاکستان کی زرعی تحقیق کونسل کے ایرڈ زون ریسرچ سینٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عطا اللہ خان نے روئٹرز کو بتایا کہ گذشتہ تین سالوں میں ہیٹ ویوز نے علاقے میں مرچوں کی فصل کو متاثر کیا ہے۔ پودو ں کو بیماری لگ گئیں جن سے اس کے پتے جھڑ جاتے ہیں اور ان کی نشوونما رک جاتی ہے۔ اب سیلاب نے نئی مشکلیں کھڑی کر دی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’موسمیاتی تبدیلی کی طرف آئیں تو ہم اس مسئلے پر کیسے قابو پا سکتے ہیں؟ بہت بڑے پیمانے پر منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ چار آبی گزرگاہیں جوفالتو پانی سمندر میں لے جاتی تھیں، ان کو بحال کرنا ہو گا۔ اس کے لیے ہمیں کچھ سخت فیصلے کرنے ہوں گے لیکن ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بہت سے کاشت کاروں کا کہنا ہے کہ وہ پہلے ہی بہت سے سخت فیصلوں کا سامنا کر چکے ہیں۔ چند ماہ قبل جب سیلاب نے کنری کے کسان فیصل گِل کے کھیت کو ڈبو د یا تو انہوں نے مرچ کو بچانے کے لیے اپنی کپاس کی فصل کو قربان کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ ہم نے کپاس کے کھیتوں کے ارد گرد پشتے بنائے اور پمپ لگائے اور مرچ کے کھیتوں میں خندقیں کھودیں تا کہ پانی جمع کر کے اسے کپاس کی فصل کے کھیتوں میں کی طرف لے جائیں۔ دونوں فصلیں ساتھ ساتھ لگائی جاتی ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ کپاس کو تباہ کرنے سے وہ اپنی مرچوں کی فصل کا صرف 30 فیصد بچا پائے لیکن یہ کچھ بھی نہ ہونے سے بہتر تھا۔ کنری کی مصروف ہول سیل مرچ منڈی میں بھی اس کا اثر دیکھا جا رہا ہے۔ اگرچہ مارکیٹ میں سرخ مرچ کے ڈھیر موجود ہیں لیکن تاجروں کا کہنا ہے کہ پچھلے سالوں کے مقابلے میں پیداوار میں بہت زیادہ کمی آئی ہے۔

تاجر راجہ دائم کے بقول: ’گذشتہ اس وقت منڈی میں مرچوں کی تقریباً آٹھ سے 10 ہزار بوریاں موجود ہوتی تھیں۔ اس آپ دیکھ سکتے ہیں کہ بمشکل دو ہزار بوریاں ہیں اور یہ ہفتے کا پہلا دن ہے۔ کل اور پرسوں تک یہ تعداد مزید کم ہو جائے گی۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات