بلوچستان: بارشوں اور سیلاب سے آثار قدیمہ بھی متاثر

حکومت بلوچستان کی ایک رپورٹ کے مطابق حالیہ بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے صوبے میں آثار قدیمہ کے کم از کم 36 مقامات کو نقصانات پہنچے ہیں۔

ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق بلوچستان کے ضلع کچھ میں واقع مہر گڑھ کے کھنڈرات موہن جوداڑو سے بھی پرانے ہیں۔ لیکن حفاظت نہ ہونے کے باعث ختم ہو رہے ہیں (وکی میڈیا) 

بلوچستان حکومت کے اندازے کے مطابق صوبے میں مون سون کی بارشوں اور تباہ کن سیلاب سے انسانی زندگی کے علاوہ صوبے میں موجود ہزاروں سال پرانے آثار بھی متاثر ہوئے ہیں۔

رقبے کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کے مختلف علاقوں میں کئی آثار قدیمہ اور تاریخی عمارتیں موجود ہیں۔

بلوچستان کے محکمہ ثقافت، سیاحت اور آثار قدیمہ نے سیلاب اور بارشوں سے متاثر ہونے والے آثار قدیمہ اور تاریخی عمارتوں کے حوالے سے ایک رپورٹ تیار کی ہے۔

ماہرآثار قدیمہ اور بلوچستان یونیورسٹی میں شعبہ آثار قدیمہ کے انچارج شاکر نصیر کے مطابق بلوچستان میں پائے جانے والے اکثر آثار قدیمہ دریاؤں کے قریب واقع ہیں، اور اس لیے بارشوں یا سیلاب کی صورت میں انہیں نقصان پہنچنے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں موجود آثار قدیمہ کو قدرتی آفات سے بچانے کے لیے حکومتی سطح پر اقدامات کی ضرورت ہے۔

متاثرہ آثار

بلوچستان کے محکمہ ثقافت، سیاحت اور آثار قدیمہ کی صدیوں پرانی نشانیوں کو پہنچنے والے نقصانات سے متعلق رپورٹ یونیسکو اور پاکستان میں موجود فرانسیسی آثار قدیمہ کے مشن کو بھیج دی گئی ہے۔

اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بلوچستان میں 36 ایسے مقامات ہیں، جنہیں سیلاب اور بارشوں نے نقصان پہنچایا ہے، اور متاثرہ آثار کو فوری طور پر محفوظ بنانے اور مزید نقصان سے بچانے کی ضرورت ہے۔  

رپورٹ کے مطابق جو آثار قدیمہ بارشوں اور سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں ان میں ضلع کچھی میں مہرگڑھ، نوشہرہ، سبی میں پیرک، ڈیرہ مراد جمالی میں جودر جو دارو، جھل مگسی میں موتی گہرام کا مقبرہ، التاز خان کا مقبرہ، میری آف خان قلات، پنجک دمب، مین قبرستان کے مقبرے، خان پور کا قلعہ شامل ہیں۔  

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ضلع خاران میں ہرے گوگ ، نوروز کا قلعہ، لسبیلہ میں ان ہارون کا مقبرہ، چوکنڈی قبرستان، لورالائی میں ڈبرکوٹ ، میری قلات ضلع کیچ، ضلع قلات میں میری قلات اور سید موریز، ضلع کیچ میں ہوشاب کے قدیم آثار، سیاہ دمب ضلع آواران جھاؤ، بوبند ، کرپاس ، نائی مردہ سنگ، بالاکوٹ وندر، عالم خان، کنارو کا دمب، سومر کادمب، مارکی ماس، مائی پیر، اور ضلع لسبیلہ بھی متاثرہ آثار قدیمہ میں شامل ہیں۔ 

مندرجہ بالا کے علاوہ رپورٹ نے ضلع مستونگ میں تورغنڈی، قلعہ عبداللہ میں سرہ قلعہ، سپینو غنڈی اور پیرانیو غنڈی کو بھی نقصان زدہ میں شامل کیا ہے۔

 ماہرین کے مطابق ریکارڈ پر موجود آثار قدیمہ کے علاوہ بلوچستان میں بہت سے ایسے قدیم مقبرے اور مقامات موجود ہیں، جن پر ابھی تک کام نہیں ہو پایا ہے، اور ایسے آثار بھی حالیہ بارشوں اور سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔ 

آثار قدیمہ کو نقصان کیسے پہنچتا ہے؟ 

شاکر نصیر سمجھتے ہیں کہ قدیم دور کے آثار کو نقصان پہنچنے کی وجوہات ایک سے زیادہ ہو سکتی ہیں، جن میں اہم انسان اور موسمی اثرات سرفہرست ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں اکثر آثار قدیمہ دریاؤں اور پانی کی گزرگاہوں کے قریب واقع ہیں۔

اس سلسلے میں انہوں نے مہر گڑھ کے آثار کی مثال پیش کی، جن کے عین درمیان میں سے دریائے بولان کا پانی گزرتا ہے۔

شاکر نصیر کا کہنا تھا کہ دریائے بولان کا پانی پہلے سے ہی مہر گڑھ کے کھنڈرات کو متاثر کر رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان کے علاقے پنجگور میں موجود بہت سے آثار قدیمہ جو دریاؤں کےقریب ہیں، کو پانی سے نقصان پہنچ چکا ہے، اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

بلوچستان یونیورسٹی کے استاد کا کہنا تھا کہ آثار قدیمہ کو موسمی حالات، سیلاب سمیت انسانی اور انسانی ہاتھوں سے پہنچنے والے خطرے کا سامنا رہتا ہے۔

آثار قدیمہ کو انسانی ہاتھوں سے پہنچنے والے نقصانات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خاران میں ایک قدیم آثار ہرے گوگ واقع ہیں جنہیں مکمل طور پر بلڈوز کرکے تباہ کر دیا جا چکا ہے۔

شاکر نصیر نے بتایا کہ آثار قدیمہ کی مناسب دیکھ بھال اور مرمت نہ ہونے سے بھی ان تاریخی خزانوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

اس سلسلے میں انہوں نے ضلع کچھی میں واقعہ زمانہ قدیم میں زمین کی سطح سے کافی بلندی پر تعمیر کیے گئے مقبروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ آثار حکومتی عدم توجہی کے باعث خستہ حالی اور تباہی کے دھانے پر پہنچ گئے ہیں۔ 

آثار قدیمہ کو محفوظ کیسے بنایا جا سکتا ہے؟

شاکر نصیر کا کہنا تھا بارشوں اور سیلاب سے متاثر ہونے والے آثار قدیمہ کی مفصل تحقیق اور اس کی رپورٹ موصول ہونے پر ہی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ صوبے میں ان تاریخی مقامات کس حد تک خراب ہوئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ تفصیلی تحقیق ہی سے اندازہ لگ سکے گا کہ متاثرہ آثار قدیمہ کو کون کون سے اقدامات اٹھا کر بحال کیا جا سکتا ہے۔

آثار قدیمہ کے ماہر نے بتایا کہ اس تاریخی ورثے کو بارش سے زیادہ نقصان سیلابی پانی پہنچاتا ہے، جس سے بچانے کے لیے بند باندھے جاتے ہیں۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ آثار قدیمہ کے لیے کھدائی کے نتیجے میں بننے والے گڑھوں کو بھرنا بھی ان تاریخی مقامات کے لیے حفاظتی قدم ہے۔

محکمہ آثار قدیمہ کی تیار کردہ رپورٹ نے بھی سیلاب اور دیگر خطرات کا سامنا کرنے والے آثار قدیمہ کی سائٹس کی حفاظت کے لیے فوری اقدامات کی تجویز دی ہے۔

بلوچستان کے آثار قدیمہ مختلف ہیں۔

شاکر نصیر کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں پائے جانے والے آثار قدیمہ اپنی بناوٹ، قدیم تاریخ اور ثقافت کی وجہ سے دوسرے صوبوں کی ایسی ہی نشانیوں سے بہت مختلف ہیں۔ 

انہوں نے بتایا کہ مہر گڑھ اور موہن جو دڑو کا تقابلی جائزہ دونوں تہذیبوں کے درمیان پانچ ہزار سال کا فاصلہ ثابت کرتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’موہن جو دڑو ساڑھے چار ہزار سال پرانی تہذیب جبکہ مہر گڑھ کی قدامت تقریبا دس ہزار سال پہلے کی ہے۔‘ 

تاہم انہوں نے وضاحت کی کہ موہن جو دڑو ایک میٹرو پولیٹن شہر تھا، جس میں نکاسی آب کے نظام کی موجودگی کے علاوہ اس کی بناوٹ میں پختہ اینٹ استعمال ہوئی تھی۔

’جبکہ موہن جو دڑو کے برعکس مہر گڑھ ایک چھوٹی سی بستی تھی، اس کی بناوٹ میں مٹی استعمال کی گئی تھی۔‘

شاکر نصیر کا کہنا تھا کہ ایک نیولیتھک سیٹلمنٹ تھا، اور مٹی کا بنا ہونے کے باعث اسے پانی اور سیلابوں سے بہت نقصان پہنچایا۔

انہوں نے کہا کہ موہن جو دڑو پر بہت زیادہ کام ہوا ہے، اور اس کی سائٹ کی کھدائی کر کے اس کا مکمل ڈھانچہ برآمد کیا گیا۔

’کھدائی کے نتیجے میں سامنے آنے والے موہن جو دڑو کے نکاسی آب کے نظام کو دوبارہ بنایا گیا۔‘

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مہر گڑھ پر اس طرح کا زیادہ کام نہیں ہوا، جبکہ اس کی آخری مرتبہ کھدائی 22 سال قبل فرانسیسیوں نے کی تھی۔

’وہ جو فرانسیسیوں کی کھدائی کے نتیجے میں جو کچھ دریافت ہوا تھا، اس کے آثار بھی زیادہ عرصہ گزرنے کے باعث ختم ہو چکے ہیں۔‘

مہر گڑھ پر پہلی مرتبہ کام پاکستان کے وجود میں آنے سے قبل 1918 میں ہوا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان