امیتابھ بچن کی تصویر، آواز اور نام کے بلا اجازت استعمال پر پابندی

امیتابھ بچن نے دہلی ہائی کورٹ میں ان کا نام، آواز اور تصاویر کے بلا اجازت استعمال کو روکنے کی غرض سے درخواست دائر کی تھی، جسے عدالت نے منظور کر لیا۔

امیتابھ بچن نے دہلی ہائی کورٹ میں ان کا نام، آواز اور تصاویر کے بلا اجازت استعمال کو روکنے کی غرض سے درخواست دائر کی تھی (فائل فوٹو/ اے ایف پی)

دہلی ہائی کورٹ نے اداکار امیتابھ بچن کی درخواست پر ایک حکم میں بالی ووڈ سٹار کی تصاویر، آواز اور نام کو  بلا اجازت استعمال کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

انڈین میڈیا کے مطابق جمعے کو ہائی کورٹ کے فیصلے میں الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت اور ٹیلی کام کمپنیوں کو بھی ایسا مواد ہٹانے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔

امیتابھ بچن نے دہلی ہائی کورٹ میں ان کا نام، آواز اور تصاویر کے بلا اجازت استعمال کو روکنے کی غرض سے درخواست دائر کی تھی، جس میں انہوں نے پبلشرز، ٹی شرٹ فروشوں اور دیگر کاروباری اداروں کے خلاف حکم  امتناعی کی درخواست بھی کی تھی۔

این ڈی ٹی وی کے مطابق امیتابھ بچن کی جانب سے عدالت میں پیش ہونے والے سینیئر وکیل ہریش سالوے نے دلیل دیتے ہوئے کہا: ’کوئی ان کی تصویر والی ٹی شرٹ بنا رہا ہے۔ کوئی ان کا پوسٹر بیچ رہا ہے۔ کسی نے جا کر ڈومین نام رجسٹر کرا رکھی ہے، یہی وجہ ہے کہ ہم یہاں آئے ہیں۔‘

دہلی ہائی کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ امیتابھ بچن ایک معروف شخصیت ہیں، اور مختلف اشتہارات میں آتے ہیں، اور مدعا علیہان کے ان کی مشہور شخصیت کو بلا اجازت مصنوعات اور خدمات کی تشہیر کے لیے استعمال کرنے سے پریشان ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دہلی ہائی کورٹ نے ایک مشہور شخصیت کے طور پر اداکار کے پبلسٹی رائٹس کو تسلیم کیا اور کہا کہ ان کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ عدالت نے نوٹ کیا کہ اگر امیتابھ بچن کو تحفظ نہ دیا گیا تو انہیں ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا امکان ہے اور کچھ سرگرمیاں ان کی بدنامی کا باعث بن سکتی ہیں۔

جسٹس نوین چاؤلہ نے کہا: ’اس میں کوئی شک نہیں کہ امیتابھ بچن ایک معروف شخصیت ہیں اور اگر اس موقع پر انہیں ریلیف نہ دیا گیا تو انہیں ناقابل تلافی نقصان اور بدنامی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘

عدالت نے ٹیلی کام حکام کو ہدایت کی کہ ایسی ویب سائٹس ہٹانے کے لیے کارروائی کی جائے جو امیتابھ بچن کے حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مواد فراہم کر رہی ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی فلم