امریکہ سے ہار کے بعد مبینہ جشن پر ایرانی شہری قتل

ہلاک ہونے والا شخص ایرانی فٹ بالر سعید ایزاتولاہی کے بچپن کا دوست تھا، وہ قطر میں ہونے والے ورلڈ کپ کے میچ میں شریک تھے ۔

ایران کے فارورڈ کریم انصاریفرد اور مڈ فیلڈر سعید ایزا تولاہی قطر ورلڈ کپ 2022 کے میچ میں 29 نومبر 2022 کو امریکہ سے شکست کے بعد رو رہے ہیں (اے ایف پی)

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ قطر ورلڈ کپ سے اپنے ملک کے باہر ہوجانے کا مبینہ طور پر جشن منانے والے ایرانی شہری کو سکیورٹی فورسز نے گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے۔

سرگرم کارکنان کے مطابق مہران سماک کو تحران کے شمال مغرب میں واقع شہر بندرانزلی میں اپنی کار کا ہارن بجانے کے بعد ہلاک کیا گیا۔

ایک عجیب موڑ پر بعد میں یہ بات سامنے آئی کہ ہلاک ہونے والا شخص ایرانی فٹ بالر سعید ایزاتولاہی کے بچپن کا دوست تھا، وہ قطر میں ہونے والے ورلڈ کپ کے اس میچ میں شریک تھے جس میں منگل کو امریکہ سے شکست ہوئی جس کی وجہ سے ایران کے ٹورنامنٹ سے باہر ہونا یقینی ہوا۔

اوسلو میں قائم ایران کے انسانی حقوق کے گروپ نے جمعرات کو ٹوئٹر پر ایک بیان میں سماک کی موت کی تصدیق کی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’ان کا نام مہران سماک تھا۔ گذشتہ رات بندر انزلی میں فیفا ورلڈ کپ 2022 میں اسلامی جمہوریہ ایران کی شکست کا دوسروں کی طرح جشن منانے کے لیے نکلے تو ریاستی فورسز نے ان کے سر میں گولی مار دی۔ ان کی عمر صرف 27 سال تھی۔‘

سماک کی موت کی اطلاع انسانی حقوق کے ایک اور گروپ سینٹر فار ہیومن رائٹس ان ایران نے بھی دی تھی۔

اس گروپ نے ایک ٹویٹ میں، ان کی تدفین کی ایک ویڈیو پوسٹ کی اور کہا کہ سماک کو ’مبینہ طور پر 29 نومبر کو صوبہ گیلان کے شہر بندر انزالی میں سکیورٹی فورسز نے اس وقت گولی مار دی جب وہ امریکہ سے ایران کی شکست کا جشن منانے کے لیے گاڑی چلا رہے تھے / ہارن بجا رہے تھے۔‘

ایران کی قومی ٹیم کو منگل کی رات امریکہ سے سخت مقابلے کے بعد ہار گئی تھی اور اس طرح وہ ورلڈ کپ سے باہر ہو گئی۔

اس کے بعد ایرانی شہری قومی ٹیم کی شکست کا جشن منانے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے، جس کو بہت سے لوگ اس علما کی حکومت کا آلہ کار سمجھتے ہیں۔

سماک کی موت کی خبروں کے بعد، سعید ایزاتولاہی نے کہا کہ وہ انہیں ایک لڑکے کے طور پر جانتے ہیں اور انہوں نے اپنے انسٹاگرام پر ان کی تصویر سٹوری کے طور پر پوسٹ کی ہے۔

انہوں نے لکھا: ’کاش ہم اسی عمر میں ہمیشہ کے لیے رہ سکتے۔ جدوجہد کے بغیر، نفرت کے بغیر، حسد کے بغیر۔‘

’کل رات کی کڑوی شکست کے بعد آپ کے انتقال کی خبر نے میرے دل میں آگ لگا دی ہے۔‘

ترجمہ کے مطابق اس مڈفیلڈر نے کہا: ’حتٰی کہ اس وقت بھی، جب میں یہ سٹوری لکھ رہا ہوں، میں ابھی تک سویا نہیں ہوں۔ لیکن پرانے دوست، آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ دن بہ دن اس دنیا میں انسانیت کم ہوتی جا رہی ہے۔ یہ وہ نہیں جس کے ہمارے نوجوان مستحق ہیں۔ یہ وہ نہیں جس کی ہماری قوم مستحق ہے۔‘

مڈفیلڈر نے سماک کی موت کے حالات کی وضاحت نہیں کی، لیکن لکھا کہ ’جس دن یہ ماسک اتریں گے، ان لوگوں کے بارے میں سچائی سامنے آئے گی، اس دن انہیں آپ کے اہل خانہ اور آپ کی والدہ کے درد کا جواب دینا پڑے گا۔‘

امریکہ سے شکست کے بعد روتے ہوئے ایزاتولاہی کو پچ پر امریکی کھلاڑیوں نے تسلی دی تھی۔

ایران کی فٹ بال ٹیم پر ورلڈ کپ کے دوران ہونے والے مظاہروں کی حمایت کرنے کے لیے شدید دباؤ تھا۔

انگلینڈ کے خلاف میچ سے قبل ٹیم نے ظاہری طورپر یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنا قومی ترانہ نہیں گایا اور خاموشی سے کھڑے رہی۔ میچ کے دوران انہوں نے ٹیم کے دو گولز کا جشن بھی نہیں منایا۔

تاہم ، ٹیم نے ویلز کا سامنا کرنے سے قبل اپنے دوسرے میچ میں ترانہ پڑھا تھا۔

16 ستمبر کو 22 سالہ مہسا امینی کی موت کے بعد سے ایران بھر میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔

حجاب کے قوانین پرعمل نہ کرنے پر ایران کی ’اخلاقی پولیس‘ نے انہیں حراست میں لیا تھا۔

مہسا امینی کی موت پر ایران میں شروع ہونے والے مظاہرے ملک میں مبلغین کی حکمرانی کو ختم کرنے کے مطالبات میں تبدیل ہوگئے ہیں۔

حکومت کی جانب سے مظاہروں کو روکنے کے لیے اقدامات کے نتیجے میں اب تک 400 سے زائد مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا