امریکی فٹ بال نے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ایرانی پرچم سے مخصوص نشان ہٹا دیا

امریکہ کی مینز فٹ بال ٹیم نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر اسلامی جمہوریہ کے مخصوص نشان کے بغیر ایران کا قومی پرچم دکھایا ہے۔

ایرانی مداح 25 نومبر، 2022 کو قطر میں جاری ورلڈ کپ کے ایک میچ میں ویلز کے خلاف ایران کی جیت پر جشن منا رہے ہیں (اے ایف پی)

امریکہ کی مردوں کی فٹ بال ٹیم نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر اسلامی جمہوریہ کے مخصوص نشان کے بغیر ایران کا قومی پرچم دکھایا ہے۔
اتوار کو امریکہ کی مینز فٹ بال ٹیم کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر  ورلڈ کپ کے گروپ مرحلے کے میچوں کے شیڈول کا ایک بینر آویزاں کیا گیا جس میں ایرانی پرچم صرف سبز، سفید اور سرخ رنگوں پر مشتمل تھا۔ 
یہی پرچم امریکی ٹیم کے فیس بک اور انسٹاگرام اکاؤنٹس پر پوسٹ میں دیکھا جا سکتا ہے۔
امریکی مینز ٹیم نے ایرانی پرچم کے حوالے سے جواب دینے کی درخواست کا فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔ 
ایرانی پرچم میں مخصوص نشان کی عدم موجودگی ایسے وقت میں سامنے آئی جب 16 ستمبر کو مہسا امینی نامی خاتون کی ہلاکت کے بعد تہران کو عوامی مظاہروں کا سامنا ہے۔
مہسا امینی کی ایران کی اخلاقی پولیس کی حراست کے دوران موت واقع ہوئی تھی۔
ایران کی حکومت کا کہنا ہے کہ مظاہروں کو امریکہ سمیت بیرون ملک موجود اس کے دشمنوں نے ہوا دی۔
ایران میں مظاہروں پر نظر رکھنے والے انسانی حقوق کے گروپ کے مطابق مظاہروں میں اب تک کم از کم 450 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ 18 ہزار سے زیادہ افراد گرفتار ہیں۔
ایران نے کئی ماہ سے ان ہلاکتوں یا گرفتاریوں کے اعداد و شمار جاری نہیں کیے ہیں۔

اقوام متحدہ میں ایران کے مشن اور اس کی فٹ بال فیڈریشن نے تبصرے کی درخواست کا فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔ 
ایرانی سرکاری میڈیا نے ابھی تک امریکہ کی مینز فٹ بال کی ٹیم کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پرایرانی قومی پرچم پر مخصوص نشان کی عدم موجودگی کو رپورٹ نہیں کیا حالانکہ اس حوالے سے آن لائن تبصروں کی بھرمار ہے۔
اسلامی جمہوریہ کا نشان 1980 میں تیار کیا گیا تھا۔ 
قطر میں ہونے والے فیفا فٹ بال ورلڈ کپ میں ایران کا جھنڈا تنازعے کا موضوع بن گیا ہے۔ حکومت کے حامیوں نے امینی کی موت پر مظاہرہ کرنے والوں کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے پرچم کو لہرایا۔ 
جبکہ ٹورنامنٹ کے میچوں میں دیگر افراد نے ایران کا شیر اور سورج کے نشان والا پرچم لہرایا جو ایران کے سابق حکمران محمد رضا پہلوی کے زمانے کا نشان ہے۔ 
ویلز کے خلاف میچ کے دوران ایران میں اضافی سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ ایرانی ٹیم کا اگلا مقابلہ منگل کو امریکہ سے ہوگا۔

(ایڈیٹنگ: بلال مظہر  | ترجمہ: علی رضا)

زیادہ پڑھی جانے والی فٹ بال