فلسطینیوں نے فلم ’فرحہ‘ پر اسرائیلی اعتراضات مسترد کر دیے

اردن کی اس فلم میں 1948 میں فلسطینیوں کی نسل کشی کو دکھایا گیا، جو نکبت کے نام سے مشہور ہے۔

1948 میں ہونے والے واقعات کی عکاسی کرنے والی فلم ’فرح‘ کے خلاف اسرائیلی ردعمل کے بعد فلسطینی اس کا دفاع کر رہے ہیں۔

عرب نیوز کے مطابق یہ فلم نشر کرنے پر او ٹی ٹی پلیٹ فارم نیٹ فلکس کو تنقید کا سامنا ہے، فلسطین کی حمایت کرنے والے کارکن اس کو نشر کرنے کی حمایت کر رہے ہیں۔

اردن کی اس فلم میں 1948 میں فلسطینیوں کی نسل کشی کو دکھایا گیا، جو نکبت کے نام سے مشہور ہے۔

فلم کی سکریننگ سے اسرائیل میں غصہ پیدا ہوا اور نیٹ فلکس کی رکنیت منسوخ کرنے کی دھمکیاں دی گئیں۔

اسرائیلی وزرا اور حکام نے فلم کے تخلیق کاروں پر جھوٹے بیانیے کو فروغ دینے اور اسرائیلی فوجیوں کے خلاف تشدد بھڑکانے کا الزام عائد کیا ہے۔

فلسطینی نژاد اردنی خاتون دارین سلام کی ہدایت کاری میں بننے والی اس فلم میں ایک 14 سالہ فلسطینی لڑکی کی کہانی دکھائی گئی ہے جو ایک نوزائیدہ بچے سمیت اپنے پورے خاندان کا اس وقت ہوتا ہوا قتل دیکھتی ہے، جب اسرائیلی ملیشیا نے اس کے گاؤں پر قبضہ کر لیا اور نکبت کے دوران عام شہریوں کو قتل کیا۔

لڑکی اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لیے اپنے فلسطینی گاؤں سے شہر جانے کا خواب دیکھتی ہے۔

گاؤں کو حملے کے خطرے کی وجہ سے والد نے اس لڑکی کو ایک چھوٹے سے کمرے میں بند کر دیا اور کچھ ہی دنوں میں اس لڑکی زندگی ڈرامائی طور پر تبدیل ہوگئی۔

حقیقی واقعات سے متاثر ہوکر بنائی گئی اس فلم کو 2021 میں ٹورنٹو انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں دکھایا گیا تھا۔

ورلڈ پریمیئر فلم ایونٹ کے اگلے ایڈیشن کے دوران بہترین غیر ملکی فلم کے آسکر ایوارڈ کے لیے اردن نے’فرحہ‘ کا انتخاب کیا۔

یہ فلم یکم دسمبر2022 کو نیٹ فلکس پر ریلیز کی گئی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کے مطابق اردن کی مصنفہ و ہدایت کار دارین سلام کی یہ فلم  سفاک قسم کے مستقبل کی کہانی ہے۔

یہ فلم فرحہ (کرم طاہر) کے گرد گھومتی ہے، جوصنفی روایات کے خلاف ایک 14 سالہ بہادر لڑکی ہیں۔

وہ گاؤں کے سربراہ اپنے والد (اشرف بارہوم) سے درخواست کرتی ہے کہ وہ اسے اپنی بہترین دوست، فریدہ (تلہ گموہ) کے ساتھ شہر کے سکول جانے کی اجازت دیں۔

جدید ذہنیت رکھنے والے والد بالآخر مان جاتے ہیں، لیکن فرحہ کی خوشی زیادہ دیر نہیں رہ پاتی۔

فرحہ کے نوعمر لڑکی کے نقطہ نظرسے، زندگی لڑکوں کو گھور رہی ہے اور شہری تفریحات کے بارے میں دن میں خواب دیکھ رہی ہے۔ لہٰذا جب فائرنگ شروع ہوتی ہے اور گاؤں افراتفری کا شکار ہو جاتا ہے، تو یہ سب دھندلا جاتا ہے۔

خطرات کو نہ سمجھتے ہوئے فرحہ اپنے والد کو پیچھے چھوڑنے سے انکار کرتے ہوئے، جذباتی طور پر اپنے خاندان کی گاڑی سے چھلانگ لگادیتی ہے۔

فرحہ کے والد اس کی حفاظت کے لیے فوری طور پر اسے تہہ خانے میں پھینک کر تالا لگا دیتے ہیں۔

وہ وہاں غیر معینہ مدت تک رہتی ہے، اشیا ذخیرہ کرنے والی جگہیں کھنگالتی ہے، بارش کا پانی جمع کرتی ہے، سوراخوں سے باہر جھانکتی ہے۔

اسے اناج کی بوری میں چھپائی گئی ایک ایک بندوق ملتی ہے۔

کیا ہر وقت خطرہ موجود تھا؟

ایک دن، چھوٹی سی کھڑکی کے سامنے انتہائی بربریت کا ایک منظر پیش کیا جاتا ہے، جس میں کیمرے کے سامنے فرحہ پشت دکھائی گئی ہے۔

تاہم باقی فلم زیادہ تر وقت کیمرا فرحہ کے چہرے پر رہتا ہے۔

فرحہ انتظار کے علاوہ زیادہ کچھ نہیں کرتی، پھر بھی، ہم صرف اس نوجوان لڑکی کو دیکھتے ہوئے ایک تباہ کن تبدیلی کا مشاہدہ کرتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی فلم