’مستقبل کے ستارے،‘ عرب فلمی دنیا کی پانچ روشن شخصیات

’عرب سٹاز آف ٹو مارو‘ میں ایسے ابھرتے ہوئے اداکار، مصنف اور ہدایت کار شامل کیے گئے ہیں جو بین الاقوامی صنعت میں اپنی شناخت بنانے کے لیے تیار ہیں

اس سال کا انتخاب سکرین انٹرنیشنل اور صحافی و فیسٹیول پروگرامر کلیم آفتاب نے مشترکہ طور پر کیا تھا (سکرین انٹرنیشنل ٹوئٹر اکاؤنٹ)

برطانوی جریدے سکرین انٹرنیشنل نے عرب ممالک سے تعلق رکھنے والے اداکاری اور ہدایت کاری کی دنیا کے ابھرتے ہوئے ستاروں کا چھٹا ایڈیشن جاری کر دیا ہے جس میں رواں سال مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے پانچ ابھرتے ہوئے ستارے شامل ہیں۔

’عرب سٹاز آف ٹو مارو‘ کے نام سے پہچانے بنانے والا ایڈیشن ایسے ابھرتے ہوئے اداکاروں، مصنفین اور ہدایت کاروں کو اجاگر کرتا ہے جو بین الاقوامی صنعت میں اپنی شناخت بنانے کے لیے تیار ہیں۔

اس سال کا انتخاب سکرین انٹرنیشنل اور صحافی و فیسٹیول پروگرامر کلیم آفتاب نے مشترکہ طور پر کیا تھا۔

یہ سکرین انٹرنیشنل کا چھٹا ایڈیشن ہے جس میں  اس سال کے انتخاب میں سعودی مصنف و ہدایت کار محمد السلمان، مراکش کی مصنفہ و ہدایت کارہ صوفیہ علوی، لبنانی مصنفہ و ہدایت کار دانیہ بدیر، تیونس کے اداکار آدم بیسہ اور لبنانی اداکار زیاد جلاد شامل ہیں۔

چھٹے ایڈیشن کی فہرست کی رونمائی کا اہتمام پہلی بار ریڈ سی انٹرنیشنل فلم فیسٹیول کے تعاون سے کیا گیا ہے۔ سعودی عرب کے شہر جدہ میں تیسرا سالانہ ریڈ سی انٹرنیشنل فلم فیسٹیول ہو رہا ہے جو 15 دسمبر تک جاری رہے گا۔

ریڈ سی انٹرنیشنل فلم فیسٹیول کا آغاز 2019 میں جدہ سے کیا گیا۔ اس فیسٹیول میں نئے فنکاروں کی حوصلہ افزائی بھی کی جاتی ہے۔


السلمان کا اس موقعے پر کہنا تھا، ’یہ ایک بہت ہی دلچسپ دور ہے۔ میرے بہت سے ساتھی اپنی پہلی فیچر فلمیں بنا رہے ہیں اس لیے میں سعودی عرب میں بننے والی فلموں کی تعداد میں ایک نئے ریکارڈ کی توقع کر رہا ہوں۔ میں نے پہلے کبھی یہاں ایسا کچھ نہیں دیکھا۔‘

سعودی ہدایت کار نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ ’ہم بہت ساری ایسی کہانیاں دیکھنے جا رہے ہیں جو پہلے کبھی نہیں سنائی گئی ہوں گی اور اس خطے میں تنوع اور ثقافت کی وجہ سے کہانی سنانے کے مختلف انداز ہوں گے۔‘

لبنانی مصنفہ و ہدایت کار دانیہ بدیر کی مختصر فلم ’ورشہ‘ نے رواں سال کے آغاز میں ’انٹرنیشنل فکشن‘ ایوارڈ جیتا تھا، ان کا کہنا تھا کہ ’میری پہلی فیچر فلم کا نام ’کبوتر کی لڑائیاں‘ (Pigeon Wars) ہو گا اور یہ بیروت میں ایک نوجوان طالبہ کے بارے میں ہے جو کبوتر کی لڑائیوں کی زیر زمین دنیا کو دریافت کرتی ہے۔‘

بدیر کا کہنا تھا کہ فلم کے سکرپٹ کا پہلا مسودہ اکتوبر میں مکمل ہو گیا تھا۔

 

پیرس میں مقیم تیونس کے اداکار بیسا کو ڈراما فلم ’حرقہ‘ میں کردار پر رواں سال کین فلمی میلے میں بہترین کارکردگی کا ایوارڈ ملا تھا۔ بیسہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے نیٹ فلکس کی کرس ہیمس ورتھ سٹارر ایکسٹریکشن کے سیکوئل میں سپاہی یاز کاہن کے کردار کو دوبارہ ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’مجھے اس فلم پر بہت فخر ہے۔‘
لبنانی اداکار جلاد بھی ایوارڈ یافتہ اداکار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں کامیڈی اور ڈرامے پسند ہیں اور وہ ایسے کرداروں کو پسند کرتے ہیں جو انہیں متحرک کرتے ہوں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جلاد کا کہنا تھا کہ ’میں واقعی میں اس بات سے پریشان نہیں ہوں کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔ صحیح موقع صحیح وقت پر آئے گا۔‘

مراکش کی مصنفہ وہدایت کار صوفیہ علوی کو بھی مختصر دورانیے کی فلم پر 2020 میں سن ڈانس فلمی میلے میں ایوارڈ مل چکا ہے۔ علوی ریڈ سی فیسٹیول میں شرکت نہیں کر سکیں۔ 

ریڈ سی انٹرنیشنل فلم فیسٹیول کے سی ای او محمد الترکی کا ’عرب اسٹارز آف ٹومارو‘ کے بارے میں کہنا تھا کہ ’یہ نوجوان ستارے ہمارے خطے کے لیے ایک موثر آواز کے ساتھ بات کرتے ہیں جو ان کی نسل کی مستقبل کی امیدوں اور ہماری عرب فلمی صنعت میں تخلیقی صلاحیتوں کی لہر کی نمائندگی کرتی ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی فلم