کہاں گئے وہ ووٹ، کیا ہوئی وہ اکثریت؟

ایوان کی کارروائی کے آغاز پر 64 اراکین نے کھڑے ہوکر چیئرمین صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی حمایت کی لیکن جب بات خفیہ رائے شماری تک آئی تو واضح اکثریت ہوا ہو گئی۔

 کیا اپوزیشن  سینیٹ کے اندر اپنی صفوں میں موجود ’غداروں‘ تک پہنچ سکے گی؟ (اے پی پی)

پاکستان میں حزب اختلاف پر برے دن پہلے بھی بہت آئے ہیں لیکن آج ایک مرتبہ پھر ایوان بالا یا سینٹ میں اس کا جو حال ہوا اس سے ماہرین کے مطابق جمہوریت کی بنیادیں ایک مرتبہ پھر ہل گئی ہیں۔ ووٹ، نمبرز اور اکثریت کا کوئی مطلب نہیں رہا۔

ایوان کی کارروائی کے آغاز پر 64 اراکین نے کھڑے ہوکر چیئرمین صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی حمایت کی لیکن جب بات خفیہ رائے شماری تک آئی تو واضح اکثریت ہوا ہو گئی۔ آدھے گھنٹے کے اندر اندر ایسا کیا ماجرا ہو گیا؟ اس مرتبہ تو پیپلز پارٹی نے بھی بظاہر ڈبل گیم نہیں کھیلی تو پھر اچھی بھلی عددی اکثریت کو زمین کھا گئی یا آسمان؟

کسی نے لکھا کہ سینیٹ میں ’جادو‘ ہو گیا، اکثریت رکھنے والی اپوزیشن اپنے 64 میں سے 50 ووٹ حاصل کر سکی۔ پانچ ووٹ مسترد بھی ہوئے تو اتنے پڑھے لکھے تجربہ کار سیاست دانوں کے ایوان میں انہیں آج تک کیا ووٹ کاسٹ کرنا نہیں آیا؟ غلطی سے زیادہ یہ جان بوجھ کر ایسا کرنے کی کوشش سمجھ آتی ہے۔ پانچ پانچ ووٹوں کی ہیرا پھیری کچھ ایسے ہی ہوئی ہے۔

حزب اختلاف کی بڑی جماعتوں کے اندر کون سے اراکین تھے جنہوں نے ہاتھ دکھایا ہے؟ اور کیا اپوزیشن کبھی اپنی صفوں میں موجود ’غداروں‘ تک پہنچ سکے گی؟ اور اگر پہنچ بھی گئی تو ان کے خلاف کیا کارروائی کی جائے گی؟

وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ ’چور دروازے سے سینیٹ پر حملہ کرنے والوں کو منہ کی کھانی پڑی اور آج عمران خان کا بیانیہ جیت گیا۔‘ اب اگر عمران خان کا بیانیہ ووٹ اور ایوان کی اکثریت کی نفی ہے تو پھر یقیناً ایسا ہی ہوا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تحریک انصاف کے سینیٹر فیصل جاوید کا کہنا تھا کہ حزب اختلاف کے بعض اراکین نے ضمیر کی آواز پر ووٹ دیا۔  

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ اپوزیشن کی صفوں میں بغاوت ہو گئی ہے لہٰذا اپوزیشن کے بیانیے سے ان کے اپنے سینیٹروں نے لاتعلقی کا اعلان کر دیا ہے۔ اگر تو یہ رضامندی سے اراکین نے کیا تو اور بات ہے لیکن اگر یہ کسی نادیدہ قوتوں کے دباؤ سے ہوا تو پھر جمہوریت کا کچھ نہیں کیا جا سکتا۔ ایوان کو چھوڑ کر اپوزیشن کو کوئی اور کام کرنا چاہیے۔ یہ ان کی بس کی بات اب رہی نہیں۔ فاتح حکومتی اارکین ایک ایک کر کے باہر آتے رہے اور صحافیوں سے گفتگو میں کامیابی کی وجوہات بیان کرتے رہے، لیکن حزب اختلاف کے اراکین غائب رہے۔

دینی جماعت جماعت اسلامی نے آغاز سے ہی الگ روش اختیار کی اور ان کے دو ووٹ اپوزیشن کے تو کام نہیں آئے لیکن ووٹنگ میں حصہ نہ لے کر انہوں نے سرکاری بینچوں کی غیر اعلانیہ مدد کر دی۔

مسلم لیگ ن کے راجہ ظفر الحق کا کہنا تھا کہ جو بھی ہوا افسوسناک ہے۔ ’ہمیں اندازہ ہے کس نے ووٹ نہیں دیے۔ زیادہ تر ایک پارٹی کے لوگوں نے گڑ بڑ کی، جو فورسز چیئرمین سینیٹ کو بچانا چاہتی تھی وہ کامیاب ہو گئیں۔‘ تاہم انہوں نے بھی وضاحت نہیں کی یہ یہ ایک جماعت کون سی تھی۔ اب حزب اختلاف نے دوبارہ کل جماعتی کانفرنس میں مل بیٹھنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اپنے اندر موجود کالی بھیڑوں کی قسمت کا فیصلہ کیا جائے۔ شہباز شریف نے ان ’ضمیر فروشوں‘ کو بے نقاب کرنے کا وعدہ عوام سے کیا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ یہ وعدہ وفا ہوتا ہے یا نہیں۔

جو بھی ہو صادق سنجرانی قسمت کے زبردست دھنی ثابت ہوئے۔ دو مرتبہ انتہائی نامساعد حالات میں آزاد حیثیت میں سینیٹ چیئرمین کی کرسی برقرار رکھی۔ شاباش سنجرانی اور۔۔۔۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست