تحریک عدم اعتماد ناکام: کیا اپوزیشن اتنی متحد نہیں جتنی نظر آرہی ہے؟

متحدہ حزب اختلاف کے مستقبل، اس میں پائے جانے والے مبینہ اختلافات اور صادق سنجرانی کی جیت کے پیچھے حکومتی وسائل کے استعمال سے متعلق بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔

اب اپوزیشن جماعتیں ایک دوسرے پر اس ناکامی کا الزام لگائیں گی اور اس طرح ان کے اندر موجود اختلافات بڑھ سکتے ہیں (اے ایف پی)

پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کے چیئرمین محمد صادق سنجرانی اور ڈپٹی چیئرمین سلیم مانڈی والا اپنے خلاف الگ الگ تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کے نتیجے میں نا اہل ہونے سے بچ گئے ہیں۔

چیئرمین صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد متحدہ اپوزیشن کی طرف سے جمع کی گئی تھی جبکہ ڈپٹی چیئرمین سلیم مانڈی والا پر حکومت اور اس کے اتحادیوں نے عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا۔

صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ہونے والی ووٹنگ کے نتائج نے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

سینیٹ میں تحریک انصاف اور اس کے اتحادیوں کی 35 نشستیں ہیں۔ اس کے برعکس صادق سنجرانی کو 45 ووٹ ملے جبکہ حیرت انگیز طور پر پانچ سینیٹرز نے بیلٹ پیپرز پر غلط طریقے سے مہر لگائی اور ان کے ووٹ مسترد قرار پائے۔

دوسری طرف ایوان میں مجموعی طور پر 64 سینیٹرز کی موجودگی میں حزب اختلاف کی جماعتیں صرف 50 ووٹ حاصل کر پائیں۔

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اپوزیشن کی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے کم از کم 14 سینیٹرز نے صادق سنجرانی کو ہٹانے کے جماعتی فیصلوں کے خلاف ووٹ دیے۔

سیاسی مبصرین اس سلسلے میں کئی سوالات اٹھا رہے ہیں۔ جن میں متحدہ حزب اختلاف کا مستقبل، اس میں پائے جانے والے مبینہ اختلافات اور صادق سنجرانی کی جیت کے پیچھے حکومتی وسائل کے استعمال سے متعلق بحثیں شامل ہیں۔

حزب اختلاف کے لیے بڑا دھچکا

اسلام آباد میں سیاسی تجزیہ کار محمد ضیاالدین کا کہنا تھا کہ صادق سنجرانی کا بحیثیت چیئرمین سینیٹ بچ جانا اپوزیشن کے لیے بہت بڑا دھچکا ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے کے بعد متحدہ حزب اختلاف بہر حال کمزور ہو گی۔

محمد ضیاالدین نے کہا کہ اپوزیشن حکومت کی طاقت کو آزما رہی تھی۔ اور سینیٹ میں اس کا ٹریلر پیش کیا گیا لیکن انہیں بہت بڑی ناکامی ہوئی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تجزیہ کار اور اینکر پرسن عاصمہ شیرازی نے ایک نجی ٹی وی چینل کو بتایا کہ اس شکست نے حزب اختلاف کو پچھلے قدم پر جانے پر مجبور کر دیا ہے۔

پشاور سے تعلق رکھنے والے سینیئر صحافی اور تجزیہ کار رحیم اللہ یوسفزئی کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ صادق سنجرانی کی کامیابی اپوزیشن جماعتوں کے لیے بہت بڑی شرمندگی کا باعث بنی ہے۔

حزب اختلاف میں اختلافات

تجزیہ کاروں کے خیال میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی غیر متوقع اور حیرت انگیز کامیابی نے حزب اختلاف کے اتحاد سے متعلق بھی شک و شبہات کھڑے کر دیے ہیں۔

سینئیر صحافی اور اینکر پرسن کامران خان نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ چیئرمین سینیٹ کا بچ جانا حکومت کے لیے ایک ذو معنی کامیابی ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اپوزیشن اتنی متحد نہیں جتنی نظر آرہی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ واضح ہو گیا ہے کہ لوگ اندر سے ملے ہوئے ہیں اور اپوزیشن رہنما حکومت سے کسی قسم کے جوڑتوڑ میں ملوث ہیں۔

رحیم اللہ یوسفزئی سمجھتے ہیں کہ ان نتائج سے بڑی حد تک ثابت ہوتا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کے سنیٹرز بھی اپنے رہنماوں کے فیصلوں کے حق میں نہیں تھے۔ انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ شاید میر حاصل خان بزنجو کی چیئرمین سینیٹ کے امیدوار کی حیثیت سے نامزدگی پر بھی بعض سینیٹرز ناخوش تھے۔

محمد ضیاالدین کے مطابق اب اپوزیشن جماعتیں ایک دوسرے پر اس ناکامی کا الزام لگائیں گی اور اس طرح ان کے اندر موجود اختلافات بڑھ سکتے ہیں۔

تاہم اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے سینیئر صحافی ذیشان حیدر حزب اختلاف میں اختلافات کی موجودگی سے اتفاق نہیں کرتے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسا ہوتا تو عدم اعتماد کی تحریک پر رائے شماری کروانے کے لیے اپوزیشن کے 64 سینیٹرز ایوان میں کھڑے نہ ہوتے۔

ذیشان حیدر کا خیال تھا کہ سیاسی جماعتوں میں اختلافات کا اظہار عام طور پر اخباری بیانات کے ذریعے کیا جاتا ہے اور ماضی قریب میں ہم نے حزب اختلاف کے کسی اتحادی کی جانب سے کوئی ایسا اشارہ نہیں دیکھا۔

کیا کوئی پکڑا جائے گا؟

جمعرات کو سینیٹ میں ہونے والے واقعات کے فوراً بعد مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز نے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا: ’14 لوگوں نے دھوکہ دیا اور کمر میں چھرا گھونپا۔ انہیں شناخت، شرمندہ، اور دوسروں سے الگ کیا جانا چاہیے۔‘

جبکہ متحدہ اپوزیشن کے رہنماؤں شہباز شریف اور بلاول بھٹو نے میڈیا سے گفتگو میں دغا دینے والے سینیٹرز کو نہ چھوڑنے کا عندیہ دیا ہے۔

تاہم سیاسی مبصرین ان دعووں کی صحت اور انہیں ممکن بنانے سے متعلق شکوک کا اظہار کر رہے ہیں۔

ذیشان حیدر کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تاریخ میں ایسا کبھی ہوا نہیں کہ خفیہ رائے شماری میں دغا دینے والوں کی نشاندہی ہو سکی ہو۔

اس سلسلے میں انہوں نے 2017 میں ہونے والے سینیٹ انتخابات کی یاد دلائی۔ جب تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی جماعت کے اراکین خیبر پختون خوا اسمبلی نے ووٹ دوسری جماعت کے امیدوار کو دیے۔

ذیشان حیدر نے کہا کہ ویڈیو ثبوت رکھنے کا دعویٰ کرنے کے باوجود تحریک انصاف ان دو ایم پی ایز کے خلاف کچھ ثابت نہیں کر سکی۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

سینیٹ: ’تحریک عدم اعتماد زندگی اور موت کا مسئلہ ‘

چیئرمین سینیٹ کو ہٹانا بلوچستان کے حق میں ہے یا خلاف؟   

انہوں نے کہا کہ اب بھی ایسا کچھ ہونے نہیں جا رہا۔

رحیم اللہ یوسفزئی کہتے ہیں کہ یہ کیسے معلوم کریں گے کہ کس سینیٹر نے ووٹ جماعتی فیصلے کے خلاف استعمال کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہارس ٹریڈنگ کا کوئی ثبوت نہیں ہوتا۔ اسے ثابت کرنا بہت مشکل ہے۔ خصوصاً جب بات خفیہ رائے شماری کی ہو رہی ہو۔

عاصمہ شیرازی کے مطابق حزب اختلاف کی جماعتوں میں کھلبلی مچی ہوئی ہے کہ یہ 14 سینیٹرز کون ہیں۔

اس سلسلے میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کے بعض لوگوں کے نام لیے جا رہے ہیں۔

تاہم انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ان لوگوں کے خلاف کوئی کارروائی کی جا سکے گی؟ پیپلز پارٹی، نون لیگ اور مولانا فضل الرحمان سے کون پوچھے گا کہ دغا دینے والے کون تھے؟

کیا گھوڑے بکے؟

رحیم اللہ یوسفزئی کا کہنا تھا کہ اپوزیشن ہارس ٹریڈنگ کے الزامات تو لگائے گی جبکہ حکومت اسے ضمیر کی آواز کے مطابق ووٹ کا استعمال کہے گی۔

تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ سب ٹھیک نہیں لگ رہا۔ کچھ تو ہوا ہے۔ جو 64 میں سے صرف 50 فیصلے کی پاسداری کرتے ہیں اور 14 ایسا نہیں کرتے۔

محمد ضیا الدین نے کہا کہ لوگوں کی مجبوریاں بھی ہوتی ہیں اور احتساب کا عمل بھی زوروں پر ہے۔ ایسے میں بعض اوقات بڑا مشکل ہو جاتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب حکومت کو ’سیلیکٹ‘ کرنے والوں نے فیصلہ کیا کہ کوئی تبدیلی نہیں آنی اور سب کچھ ایسا ہی رہنا ہے تو ایسا تو ہونا ہی تھا۔

رحیم اللہ یوسفزئی کا کہنا تھا کہ حکومت کے پاس وسائل بے دریغ ہوتے ہیں اور ان کا استعمال بھی بے دریغ کیا جاتا ہے۔ خصوصاً ایسی صورت حال میں جبکہ ذیشان حیدر کے خیال میں جماعتی فیصلے نہ ماننے والے اپوزیشن کے سینیٹرز پر یقیناً دباؤ تھا۔ جس کے نتیجے میں انہوں نے ووٹ صادق سنجرانی کو بچانے کے لیے استعمال کیے۔

انہوں نے کہا کہ ایسا تو پاکستان میں ایک سے زیادہ مرتبہ ہو چکا ہے۔ یہ کوئی حیرانگی کی بات تو نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست