افغان طالبان میں ’اختلافات‘ پاکستان پر اثر انداز ہوں گے؟

سراج الدین حقانی نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’اپنی رائے اور فکر کو عوام پر مسلط نہیں کرنا چاہیے۔ سارے نظام کو (ایسے فیصلوں کی وجہ سے) چیلنج کرنا، حدف بنانا اور قید کرنا درست نہیں ہے۔

افغانستان کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے لیے پانچ ہزار بستروں پر مشتمل کیمپ کے اففتاح کے موقع پر حکم فروری 2023 کو کابل میں خطاب کر رہے ہیں (اے ایف پی)

افغانستان میں طالبان کی نگران حکومت کے مابین اختلافات کی باتیں گردش کر رہی ہیں اور اس کی بنیادی وجہ گذشتہ روز افغان طالبان کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کا ایک بیان ہے جس میں کہا گیا ہے کہ حکومت میں موجود ذمہ داروں کو ڈکٹیٹرشپ جیسا رویہ نہیں اپنانا چاہیے۔

سراج الدین حقانی نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’اپنی رائے اور فکر کو عوام پر مسلط نہیں کرنا چاہیے۔ سارے نظام کو (ایسے فیصلوں کی وجہ سے) چیلنج کرنا، حدف بنانا اور قید کرنا درست نہیں ہے۔ عوام جتنا بدنام ہوجائے اور دین سے دور ہو لیکن عوام کو قریب لانا چاہیے۔ ہمیں عوام کی کمیوں کو اصلاح کی نظر سے دیکھنا ہوگا جو حالات ہیں وہ برداشت سے باہر ہیں۔‘

بظاہر اسی بیان پر رد عمل دیتے ہوئے افغان طالبان کے سربراہ ملا ہبت اللہ اخندذادہ کے قریب سمجھے جانے والے قندہار کے گورنر مولی وفا درانی نے افغانسان میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے 20 سال قربانی دی ہے، تو اب بھی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔‘

انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ’سربراہ کی جانب سے جو بھی حکم ہوتا ہے تو وہ سر آنکھوں پر قبول ہے اور ہمیں ماننے میں آسانی ہو یا سختی، ہمیں اس کو قبول کرنا ہوگا۔‘

مبصرین سمجھتے ہیں کہ ان بیانات سے بظاہر یہی لگا رہا ہے کہ افغان طالبان کے مابین دو نظریاتی گروپس (قندہاری طالبان جس کی سربراہی ملا ہبت اللہ اخونذادہ جبکہ دوسری جانب حقانی نیٹ ورک، جس کی سربراہی سراج الدین حقانی کر رہے ہیں) کے مابین نظریاتی اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں۔

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد ان تمام اختلافات کی تردید کرتے ہیں۔ انہوں نے بی بی سی پشتو کو ایک انٹرویو میں بتایا ہیں کہ ’طالبان کے مابین کوئی اختلافات نہیں اور جن بیانات کی باتیں ہورہی ہیں، تو اس کو محض مشورے سمجھنا چاہیے۔‘

انہوں نے بتایا: ’ افغان طالبان میں ہر کوئی اپنے سربراہ کو مشورے دے سکتا ہے اور ہم نے تمام ذمہ داروں کو یہ تلقین کی ہے کہ اختلافات سے دور رہیں۔‘

ذبیح اللہ مجاہد نے بتایا کہ ’کچھ میڈیا ادارے بیانات سے غلط مطلب لیتے ہیں۔ حقانی سوچ رکھنے والے سب رہبر کو مانتے ہیں اور مشورے دینا ہر کسی کا حق ہے۔ حقانی نے یہ کہا ہے کہ کسی کی ڈکٹیٹرشپ نہیں ہونی چاہیے تو یہ بات انہوں نے اپنے آپ کے لیے بھی کی ہے کہ کسی بھی ادارے میں ڈکٹیڑ شپ نہیں ہونی چاہیے۔‘

ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق: ’یہ تو شرعی حکم ہے کہ اگر سربراہ غیر شرعی حکم دے تو اس کی اطاعت نہیں کرنی چاہیے۔‘

ذبیح اللہ مجاہد نے بتایا: ’یہ بعض میڈیا اداروں کا کام ہے کہ وہ بیانات کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں اور افغان طالبان کے مابین اختلافات کی فضا کو ہوا دیتے ہے۔ میڈیا میں حقانی نیٹ ورک کا نام چلتا ہے لیکن سراج الدین حقانی نے ایسی کسی قسم کی تنظیم کی وجود سے انکار کیا ہے۔ لیکن میڈیا والے یہی تبلیغ کرتے ہے کہ حقانی نیٹ ورک موجود ہے۔‘

اس صورتحال پر انڈپینڈنٹ اردو نے بعض مبصرین سے بات کی ہے اور یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ افغان طالبان کے مابین نظریاتی اختلافات کیا ہیں اور ابھی جو بیانات سامنے آئے ہیں، اس سے اگر اختلافات بڑھتے ہیں تو اس کا پاکستان پر کیا اثر پڑے گا؟

طالبان قیادت میں اختلافات کی تاریخ پرانی ہے

عبدالسید سویڈن میں مقیم محقق ہیں اور شدت پسند تنظیموں کے معامالت پر گہری نظر رکھتے ہیں اور اس موضوع پر مختلف تحقیقی مقاملے بھی لکھ چکے ہیں۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ افغان طالبان میں شروع سے اہم معاملات پر فیصلوں پر اعلیٰ قیادت کے مابین اختلافات موجود رہے ہیں اور اس کی امریکہ میں نائن الیون حملوں سے قبل افغان طالبان کے افغانستان میں اقتدار کے دوران کی مختلف مثالیں موجود ہیں۔

عبدالسید نے بتایا: ’ان اختلافات پر تنظیم کے اس وقت کے سربراہ نے اس وقت مختلف اہم کمانڈروں کو معزول بھی کیا تھا اور گھروں میں بٹھایا تھا۔‘

انہوں نے بتایا کہ اس وقت اہل تشیع کے مسئلے پر ملا عمر نے سب سے بااثر کمانڈر ملا داد اللہ کو معزول کیا تھا، تاہم ماضی میں ایسا کوئی وقت نہیں آیا ہے کہ یہ اختلافات شدت اختیار کر گئے ہوں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عبدالسید نے بتایا: ’حال ہی میں افغان طالبان کے سرکردہ رہنماوں نے خواتین کی تعلیم کے مسئلے پر عالمی برادری کے دباو اور مشکلات کی وجہ سے کافی ناراضگی کا اظہار کیا ہے لیکن میں نہیں سمجھتا کہ یہ اختلافات کسی لڑائی  کا سبب بن سکے گا اور خصوصی طور پر اس سلسلے میں افغان طالبان کے نائب سربراہ اور عبوری وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کا نام لیا جارہا ہے مگر حقانی خاندان کی افغان جہادی تنظیموں میں باہمی جنگوں سے دامن بچا رکھنے کی ایک تاریخ ہے۔

’طالبان سمیت بیرونی حلقوں اور خواتین کی تعلیم کے حقوق پر سراج حقانی سے ایک فیصلہ کن کرداد کی توقع کی جارہی مگر یہ مستقبل قریب میں واضح ہوگا کہ وہ تنظیم کو انتشار سے بچانے کی کوشش کے ساتھ اس کا حل کیسے نکالتے ہیں۔‘

عبدالسید سے پوچھا گیا کہ اس بظاہر اختلافات سے پاکستان پر کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’جب تک افغان طالبان کے مابین خانہ جنگی شروع نہیں ہوتی، تو میری نظر میں یہ افغان طالبان کا اندرونی مسئلہ ہے اور اس کا پاکستان پر کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا۔

’افغان طالبان میں حقانی نیٹ ورک سخت لڑائی کرنے اور افغانستان میں ماضی میں اس تنظیم پر مختلف شدت پسندوں کارروائیوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے جبکہ دوسری جانب قندہاری طالبان ہیں جو سیاسی طور پر مضبوط سمجھے جاتے ہیں اور ابھی طالبان کے سربراہ قندہار میں بیٹھے اس تنظیم کی سرپرستی کر رہے ہیں۔‘

بعض مبصرین کا خیال ہے کہ سراج الدین حقانی بظاہر ایک خاموش طبیعت کے مالک ہیں، اس قسم کا بیان ان کی جانب سے سامنے آنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ اختلافات بعض معاملات پر شدت اختیار کرگیا ہے۔

افغان طالبان میں اختلافات کا پاکستان پر اثر پڑ سکتا ہے

مشتاق یوسفزئی پشاور میں مقیم صحافی ہیں اور افغان امور کے ماہر ہیں۔ انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ قندہاری طالبان اور حقانی طالبان میں اختلاف کس بات پر ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ طالبان تنظیم کی بنیاد قندہار میں رکھی گئی تھی اور قندہار، ذابل اور ہلمند کے سرکردہ رہنما اس میں شامل تھے جبکہ سراج الدین حقانی کے گھرانے کا خوست پکتیکا، پکتیا اور لوگر کے صوبوں میں اثررسوخ بہت زیاد ہے۔

مشتاق یوسفزئی نے بتایا: ’افغانستان میں امریکہ کے خلاف اگر جنگ لڑی ہے تو اس میں بڑا حصہ حقانی کے گھرانے اور ان کے ساتھ جنگجوؤں کا تھا جبکہ قندہاری طالبان کا دھڑا جنگ میں اتنا متحرک نہیں تھا۔ یہ سراج الدین حقانی ہی ہیں جنہوں نے اس جنگ میں اپنےچار بھائی کھو دیے ہیں۔‘

حتیٰ کہ مشتاق کے مطابق ابھی جو افغانستان میں حکومت پر قبضہ کیا ہے تو کابل پر قبضہ حقانی گروپ نے ہی کیا تھا اور وہ اب بھی افغان طالبان میں مضبوط جنگجوؤں سمجھتے جاتے ہیں۔

مشتاق یوسفزئی نے بتایا کہ سراج الدین حقانی کا گھرانہ قومیت پر بھی بہت یقین رکھتا ہے اور جنگ کے دوران انہوں نے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ ان کے مسائل حل کیے جائیں اور ان کو تعلیم سمیت دیگر زندگی کی ضروریات مہیا کی جائے گی لیکن اب وہ مسائل حل نہیں ہورہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ’اب عوام کی جانب سے سراج الدین حقانی پر دباو ہے اور اسی دباو کی وجہ سے انہوں نے کافی وقت بعد کھل کر یہ بیان دیا ہے جبکہ اپنے بیان میں کسی کا نام نہیں لیا ہے لیکن دبے الفاظ میں طالبان کے سربراہ اخوندذادہ پر تنقید کی ہے۔‘

اسی طرح افغانستان میں نگران حکومت میں مشتاق یوسفزئی کے مطابق ملازمتوں پر بھی اختلاف ہیں، اور یہی کہا جارہا ہے کہ قندہاری طالبان کے ذمہ داریوں نے اپنے رشتہ داروں کو بھرتی کرنا شروع کیا جبکہ حقانی کے لوگوں کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔

مشتاق یوسفزئی نے اس اختلافات کی پاکستان پر اثرات پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ اگر یہ اخلافات لڑائی تک پہنچ جاتے ہیں یا مسائل کا انبار لگ جاتا ہے تو پاکستان میں افغان طالبان کے رہنماؤں کے گھرانے موجود ہیں پاکستان میں ایک مرتبہ پھر افغان طالبان کی آمد شروع ہوجائے گی جس کا پاکستان پر اثر ضرور پڑے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا