سپریم کورٹ: سائفر کی تحقیقات سے متعلق درخواست مسترد

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے امریکی سائفر کی تحقیقات کے لیے دائر درخواستوں کی چیمبر سماعت کے دوران کہا کہ عدلیہ ایگزیکٹو کے اختیارات میں مداخلت نہیں کر سکتی۔ انہوں نے درخواستیں خارج کر دیں۔

قبل ازیں رجسٹرار سپریم کورٹ نے امریکی سائفر کی تحقیقات سے متعلق درخواستیں مسترد کی تھیں (انڈپینڈنٹ اردو)

’سائفر کی تحقیقات کروانا ہمارا نہیں حکومت کا کام ہے۔ نہ عدالت کو ایگزیکٹو نہ ایگزیکٹو کو عدالت کے اختیارات میں مداخلت کرنی چاہیے۔ اس وقت کے وزیراعظم چاہتے تو خود تحقیقات سے متعلق کوئی حکم جاری کر سکتے تھے لیکن انہوں نے نہیں کیا۔ آپ چاہتے ہیں میں اپنے حلف کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایگزیکٹو کے اختیارات میں مداخلت کروں؟‘

یہ ریمارکس سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج جسٹس قاضی فائز عیسی نے سائفر کی تحقیقات سے متعلق دائر درخواستوں پر اپنے چیمبر میں منعقد کی گئی سماعت کے دوران دیے۔

درخواست گزاروں کے وکلا ذوالفقار بھٹہ، جی ایم چوہدری اور نعیم الحسن نے دلائل دیتے ہوئے عدالت سے استدعا کی کہ سائفر کی تحقیقات کروا کر حقائق سامنے لائے جائیں کیونکہ اس سے بنیادی حقوق مجروح ہوئے ہیں۔

اس پر جسٹس قاضی فائز عیسی نے وکلا کو مخاطب کرتے ہوئے سوال اٹھایا: ’اس سے آپ کا کون سا بنیادی حق مجروح ہوا ہے اور اس سائفر سے میری یا آپ کی زندگی پر کیا اثر پڑا ہے؟

انہوں نے کہا: ’آپ مفروضوں پر بات کر رہے ہیں کہ اس خط میں یہ بھی ہو سکتا وہ بھی ہو سکتا ہے۔ نہ خط آپ نے پڑھا ہے نہ میں نے، تو ہم مفروضوں کی بنیاد پر کیسے تحقیقات کا کہہ سکتے ہیں؟‘

رجسٹرار سپریم کورٹ نے سائفر کی تحقیقات کے لیے دائر کی گئی اپیلیں اعتراضات کے ساتھ واپس کر دی تھیں، تاہم بعدازاں درخواست گزاروں نے چیمبر اپیلیں دائر کیں۔

سماعت کے دوران جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مزید ریمارکس دیتے ہوئے کہا: ’سائفر جب آیا اس وقت عمران خان وزیراعظم تھے، وہ خود اس وقت کچھ کر سکتے تھے، لیکن اس وقت کے وزیراعظم نے کچھ نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔‘

جسٹس قاضی فائز عیسی نے وکلاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ’مثال کے طور پر اگر میں آپ کو کہوں کہ یہ ایک قتل کا مقدمہ ہے، آپ فیصلہ کریں تو آپ مجھے کہیں گے کہ جج آپ ہیں تو آپ فیصلہ کریں؟

’خط اس کے وقت کے وزیراعظم کے پاس تھا، جب انہوں نے خود ہی کچھ نہیں کیا تو ہم ایگزیکٹیو کے معاملات میں کیسے مداخلت کریں؟‘

جسٹس قاضئ فائز عیسی کا مزید کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے برابر میں ہی پارلیمنٹ ہے، وہاں سے قانون سازی کروا کر ہمیں اختیارات دیں تو ہم مداخلت کریں۔

سپریم کورٹ کے جج نے واضح کیا کہ وہ ایگزیکٹو کے معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے اور اگر کوئی ایسا کرے گا تو وہ ان کا ہاتھ بھی روکیں گے۔ 

جسٹس قاضی فائز عیسی نے وکلاء کی سائفر کی تحقیقات کروانے کی درخواست پر ان سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا: ’آپ کہہ رہے ہیں کہ میں ایگزیکٹو کے اختیارات استعمال کروں؟ یہ ایگزیکٹو کا کام ہے وہ کرے یا نہ کرے، آپ بھی ان کو ہی درخواست دیں۔

’یا پھر آپ دنیا میں کہہ دیں کہ آپ سائفر حکومت کو نہیں سپریم کورٹ کو بھیجیں گے تو پھر ہم خود دیکھ لیں گے اور سوموٹو لے لیں گے۔

’اب کل اگر ایک سفیر کہتا ہے کہ ہم پاکستان کے اثاثے تباہ کر دیں گے تو اس پر جنگ یا جو بھی اعلان کرنا ہو گا وہ حکومت کرے گی، کیا کل آپ کہیں گے کہ جنگ کا اعلان کریں تو وہ بھی سپریم کورٹ کرے؟‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ روزانہ ہزاروں ای میلز کی جاتی ہیں ہمیں کیا پتہ ان میں کیا ہے، اگر آپ سائفر میرے سامنے رکھ دیں گے تو میں اپنی آنکھیں بند کردوں گا، سائفر نہیں پڑھوں گا، سائفر پڑھنا میرا کام نہیں، نہ ہی آپ کا کام ہے۔ آپ بھی سائفر پڑھیں گے تو یہ قانون کی خلاف ورزی ہے۔ 

ہمارے پاس کافی کام ہے یہ ہمارے پاس کیوں لائے ہیں؟

جسٹس قاضی فائز عیسی اپنے ہاتھ میں کاغذ لہراتے اور مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر میں نے خط لہرایا ہے اور اس میں مجھے کسی نے قتل کرنے کی دھمکی دی ہے اور اس سے مجھے کوئی تکلیف ہے تو میں ایف آئی آر کٹواؤں گا یا کہیں گے کہ تحقیقات کریں، اس میں عدالت کا کیا کام ہے؟

وکلا کے مسلسل تحقیقات کے اصرار پر جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ چاہتے ہیں میں اپنے حلف کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایگزیکٹو کے اختیارات میں مداخلت کروں، آپ کہہ رہے ہیں کہ خط کو سامنے لایا جائے، ہو سکتا ہے سرکار مڑ کر کہے کہ خط کو سامنے نہ لانا عوام کے مفاد میں بہتر ہے؟ 

جسٹس قاضی فائز عیسی نے رجسٹرار سپریم کورٹ کے اعتراضات کو برقرار رکھتے ہوئے تینوں درخواستیں مسترد کر دیں۔

سابق وزیر اعظم عمران خان نے گذشتہ سال راولپنڈی کے پریڈ گراؤنڈ میں جلسے سے خطاب دوران ایک خط دکھاتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ امریکی حکومت کے ایک اہلکار نے واشنگٹن میں پاکستانی سفیر کو پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو ہٹانے سے متعلق دھمکی دی ہے۔

سابق وزیراعظم عمران خان کو اس سال مارچ میں تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں اقتدار سے الگ ہونا پڑا، جس کو انہوں نے پاکستانی اسٹیبلیشمنٹ، اس وقت کی حذب اختلاف اور امریکی حکومت کا گٹھ جوڑ قرار دیا تھا۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست