کشمیر: نظریں چین اور او آئی سی پر

اب تک نہ تو امریکہ، چین اور نہ ہی اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی نے بھارتی اعلان کے بارے میں کوئی بیان جاری کیا ہے۔

چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ایک معمول کی  بریفنگ کے دوران۔(چینی وزارت خارجہ ویب سائٹ)

ایک جانب حکومت پاکستان عالمی رہنماؤں سے رابطوں میں مصروف ہے تاکہ بھارت کے کشمیر پر فیصلے کے خلاف رائے عامہ ہموار کرسکے تو دوسری جانب ابھی تک نہ تو چین اور نہ ہی اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی نے اس بارے میں کوئی بیان جاری کیا ہے۔

پاکستان چین اور او آئی سی سے کشمیر کے معاملے میں کافی توقعات رکھتا ہے اور اسی لیے حکومت اور اکثر پاکستانیوں کی نظریں چین اور او آئی سی پر لگی ہیں کہ آنے والے دنوں میں وہ کیا پوزیشن اختیار کرتے ہیں۔

ستاون اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی، جو اقوام متحدہ کے بعد اس قسم کی دوسری بڑی تنظیم ہے، نے 4 اگست کو تو ایک بیان میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں اضافی فوج کی تعیناتی اور لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کی مذمت کی تھی تاہم سوموار کے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بھارتی اعلان کے بعد کوئی نیا بیان نہیں دیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بیجنگ میں سوموار کو بھی وزارت خارجہ کی بریفنگ ہوئی لیکن اس میں کشمیر کو لے کر کوئی بات نہیں کی گئی۔ بھارت نے لداخ کی حیثیت بھی تبدیل کی ہے جس کے بڑے علاقے پر چین کا بھی دعویٰ ہے۔

عالمی دارالحکومتوں میں ایوان اقتداروں میں تو کیا پالیسی اختیار کی جائے اس پر غور و خوص جاری ہے لیکن عالمی میڈیا چینلوں جیسے کہ سی این این، بی بی سی اور الجزیرہ نے بھارتی اقدامات کی بڑھ چڑھ کر کوریج کی ہے۔

ادھر حقوق انسانی کی عالمی تنظیم ایمنٹسی انٹرنیشنل انڈیا نے ایک بیان میں اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ بھارتی فیصلے کے بعد خطے میں کشیدگی اور حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

اس نے وادی میں مواصلات کی بندش کو حقوق انسانی کے عالمی معیار کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔   

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا