افغانستان: گیارہویں جماعت کی نابینا طالبہ جو اپنا گھر چلاتی ہیں

ملائکہ فہیمی بینائی سے محروم ہیں لیکن وہ اپنی تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رکھے ہوئے ہیں اور ہاتھ سے مختلف اشیا بنا کر ان کو آن لائن ویب سائٹس کے ذریعے فروخت کرتی ہیں۔

’ملک کے معاشی حالات ایسے ہیں کہ ہر کوئی متاثر ہوا ہے لیکن میں نے نابینا ہونے کے باجود ہار نہیں مانی اور اب ایک غیر سرکاری تنظیم کی مدد سے اس قابل ہوگئی ہوں کہ گھر کے اخراجات پورے کر سکوں۔‘

یہ کہنا ہے افغانستان کے صوبہ بامیان سے تعلق رکھنے والی ملائکہ فہیمی کا جو تعلیم کے ساتھ ساتھ دست کاری کر کے گھر کے اخراجات اٹھاتی ہیں اور ان کو اس کام میں ایک غیر سرکاری تنظیم کی مدد حاصل ہے۔

اصیل نامی یہ تنظیم افغانستان میں ان خواتین کو ٹیکنالوجی کی ذریعے حل تلاش کرنے میں مدد دے رہی ہے جو مختلف وجوہات کی وجہ سے ملازمت سے محروم ہیں یا ان کے ملازمت کرنے پر پابندی ہے۔

ملائکہ فہیمی بینائی سے محروم ہیں لیکن وہ اپنی تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رکھے ہوئے ہیں اور ہاتھ سے مختلف اشیا بنا کر ان کو آن لائن ویب سائٹس کے ذریعے فروخت کرتی ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے ملائکہ کا کہنا تھا کہ وہ گیارہویں جماعت میں پڑھتی ہیں اور این جی او کی قائم کردہ ایک دکان پر کئی اور نابینا خواتین کے ساتھ کام کرتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ’جب میں 10 سال کی تھی تو نا امید ہو گئی تھی اور سوچتی تھی کہ بینائی سے محرومی میرے مستقبل کے آڑے آ جائے گی تاہم بعد میں تہیہ کر لیا کہ میں اپنے پاؤں پر کھڑی ہوں گی اور کر کے دکھاؤں گی۔‘

ملائکہ نے بتایا کہ پہلے انہوں نے ’اپنے علاقے میں نابینا بچوں کے لیے ایک سکول میں داخلہ لیا اور وہاں سے ابتدائی تعلیم حاصل کی جبکہ چوتھی جماعت سے دست کاری کا کام بھی شروع کر دیا اور تب سے یہی کام کر رہی ہوں۔‘

ملائکہ کے مطابق ’ہم 100 مختلف اشیا بناتی ہیں اور ان کو آن لائن فروخت کرتی ہیں۔ چھ ماہ ہو گئے کہ یہ کام شروع کیا ہے اور مختلف ممالک سے خریداروں کو مختلف مصنوعات فراہم کی ہیں۔‘

خریداروں کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ’کام ابھی قدرے بہتر ہے لیکن جتنے خریدار زیادہ ہوں گے ہماری کمائی زیادہ ہو گی کیونکہ میں گھر کی اکیلی سربراہ ہوں اور تمام اخراجات میں خود برداشت کرتی ہوں۔‘

ملائکہ کے مطابق ’خریدار زیادہ ہوں گے تو یہی ہمارے بہتر مستقبل کی امید ہو گی کیونکہ کسی اور معذوری کی نسبت بینائی سے محرومی زیادہ سخت ہوتی ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’ہم جیکیٹس، رومال، چادر، سکارف اور ہاتھ سے بنی خواتین کی شالز، جرابیں، ٹوپیاں، دستانے، واسکٹ اور بچوں کے کپٹرے اور جوتوں سمیت مختلف اشیا بناتی ہیں۔‘

ملائکہ غیر شادی شدہ ہیں اور اور اپنی والدہ اور چار بہنوں کے بہتر مستقبل کی تلاش میں ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ’میں اپنی والدہ اور چار بہنوں کا واحد سہارا ہوں اور ان کا مستقبل بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہوں۔‘

افغانستان میں طالبان کے برسراقتدار آنے کے بعد مختلف اداروں کی رپورٹس کے مطابق متعدد شعبہ جات میں کام کرنے والی خواتین پر پابندی عائد کر دی گئی ہے جبکہ ایک سال سے زائد کے عرصے سے ہائی سکول کی طالبات کی تعلیم پر بھی پابندی ہے۔

ایسی پابندیوں کی وجہ سے طالبان کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا جا رہا ہے تاہم طالبان حکومت نے کئی بار یہ کہا ہے کہ ’ابھی خواتین کی تعلیم کے لیے انتظامات مکمل نہیں ہے اور جب انتظامات مکمل ہو جائیں گے تو خواتین کی تعلیم پر پابندی ختم کر دی جائے گی۔‘

اصیل نامی غیر سرکاری تنظیم اسی مسئلے کے حل کے لیے خواتین کو دہلیز پر روزگار فراہم کرتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تنظیم کی عہدیدار مدینہ متین نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’ہماری تنظیم ٹیکنالوجی کی مدد سے خواتین کے مسائل کو اجاگر کرنے اور اس کو حل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’ہم نے مختلف خواتین جو دست کاری کا کام کرتی ہیں کو روزگار شروع کرنے میں مدد دی ہے تاکہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑی ہو سکیں اور گھر کے اخراجات برداشت کر سکیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’ملائکہ ان خواتین میں شامل ہیں جن کی ہم نے مدد کی ہے اور اب ان کا کاروبار بہتر جا رہا ہے جو آن لائن مصنوعات فروخت کرتی ہیں اور اس مقصد کے لیے ہم نے اپنی ویب سائٹ پیش کی ہے۔‘

مدینہ کے مطابق ’کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر جا کر آرڈر دے سکتا ہے، ہم اس آرڈر کی ڈیلیوری میں بھی مدد فراہم کرتے ہیں۔‘

’زیادہ تر جنگ زدہ خواتین کی مدد کی‘

افغانستان تقریباً گذشتہ 40 سال سے جنگی صورت حال کا شکار رہا ہے اور یہاں ہزاروں خواتین اس جنگ سے متاثر ہوئی ہیں۔

مدینہ کے مطابق ان کی تنظیم زیادہ تر انہی خواتین کی مدد کرتی ہے جو جنگ سے متاثر ہوئی ہیں۔

ان کے مطابق ’ہمارے پاس رجسٹرڈ زیادہ تر خواتین ایسی ہیں جو جنگ میں اپنے شوہر، بھائی یا والد کو کھو چکی ہیں۔ جبکہ افغانستان کی سابق حکومت کے لیے کام کرنے والی خواتین بھی شامل ہیں۔‘

مدینہ کے مطابق ان کی تنظیم اب تک چھ سو مرد و خواتین کی مدد کر چکی ہے۔

نوٹ: اس رپورٹ کو مرتب کرنے میں اصیل نامی غیر سرکاری تنظیم نے معاونت فراہم کی ہے۔ یہ رپورٹ افغان خواتین پر ویڈیو رپورٹس کی سیریز ’بااختیار افغان خواتین‘ کا حصہ ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین