’دا لائن‘ مستقبل کی تہذیب کا عکاس شہر ہو گا: سعودی ولی عہد

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے مستقبل کے شہر ’دا لائن‘ کے بارے میں ڈسکوری چینل کو دیے گئے انٹرویو میں پہلی بار کھل کر اظہار خیال کیا۔

19 مئی 2023، کی اس تصویر میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان جدہ میں ہونے والے عرب لیگ کے سربراہ اجلاس کے دوران(ایس پی اے/اے ایف پی)

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پہلی بار مستقبل کے جدید شہر ’دا لائن‘ اور اس میگا پروجیکٹ کی سعودی عرب اور دنیا کے لیے اہمیت اور معنی پر کھل کر اظہار خیال کیا ہے۔

یہ جدید شہر سعودی عرب کے ’نیوم‘ فلیگ شپ ڈویلپمنٹ پروجیکٹ کا حصہ ہے جس کا بنیادی تصور یہ ہے کہ 21ویں صدی میں شہری زندگی کیسی ہونی چاہیے۔

عرب نیوز کے مطابق ولی عہد محمد بن سلمان نے پیر کو دی لائن کے بارے میں ڈسکوری چینل کو ایک انٹرویو میں کہا کہ سعودی عرب مستقبل کے لیے ایک نئی تہذیب بسانا چاہتا ہے۔

 انہوں نے دنیا پر زور دیا کہ وہ ایک بہتر کرہ ارض کی تعمیر کے لیے اسی طرح کے ماحول دوست منصوبوں پر کام کریں۔

انہوں نے بتایا کہ دی لائن کے ڈیزائن کا آئیڈیا کیسے آیا اور آخر کار سعودی عرب کے لیے اس کا کیا مطلب ہو گا۔

ولی عہد نے کہا: ’چونکہ ہمارے پاس غیر آباد جگہ ہے اور ہم ایک کروڑ لوگوں کے لیے ایک جگہ بسانا چاہتے ہیں، تو آئیے شروع سے سوچتے ہیں۔‘

انہوں نے دا لائن کے ڈیزائن کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا: ’ہم نے بہت سارے آئیڈیاز کے بارے میں بات کی، ہم اسے ایک دائرے میں کیوں نہیں بنا سکتے؟'

ولی عہد نے مزید کہا کہ ہم اسے نقل و حرکت کے ذرائع کے ساتھ جوڑ سکتے ہیں اور اسے آہستہ آہستہ اس وقت تک بنا سکتے ہیں جب تک کہ یہ ایک کروڑ افراد کی رہائش کے لیے مکمل نہ ہو جائے۔

شہر کو کیسا نظر آنا چاہیے اس بارے میں مختلف تجاویز اور بہترین ڈیزائنرز کے مقابلے کے بعد ایک بہترین ڈیزائن سامنے آیا۔

انہوں نے کہا کہ ’انہوں (ڈیزائنرز) نے ہمیں بہتر حل کے ساتھ موجودہ طریقہ کار کی بنیاد پر شہر (کے ڈیزائن) فراہم کیے لیکن  سوائے ایک کے۔ ہم نے سوچا آئیے اسے دائرے سے ایک لکیر کی شکل میں موڑ دیں۔‘

اس سے دا لائن کا آئیڈیا آیا جسے ایک طویل لکیر کی شکل میں قائم کیا جائے گا۔

شہزادہ محمد بن سلمان نے مزید بتایا: ’انفراسٹرکچر کا آئیڈیا اچھا ہے لیکن جب آپ اس میں داخل ہوتے ہیں تو دو کلومیٹر چوڑائی کے ساتھ آپ کو یہ محسوس نہیں ہوتا۔‘

انہوں نے کہا: ’میں نے ٹیم سے کہا اگر ہم ان دو کلومیٹر کو لمبائی میں لے جائیں اور اسے پلٹا دیں (تاکہ یہ) دو ٹاورز ایک لائن کی صورت اختیار کر لیں تو کیا یہ بہت بڑا ہو گا؟‘

اس کا نتیجہ ایک 170 کلومیٹر طویل اور 200 میٹر چوڑے شہری ڈیزائن کی صورت سامنے آیا جو 100 فیصد قابل تجدید توانائی پر چلے گا جس سے 95 فیصد زمین فطرت کے لیے محفوظ ہو گی اور یہ کاروں کے بغیر ہو گا۔

شہر کے ڈیزائن کی نقاب کشائی ولی عہد شہزادہ نے 2022 میں کی تھی جنہوں نے کہا تھا کہ یہ ڈیزائن کثیر پرتوں والے شہر کی اندرونی ساخت کو واضح کرے گا اور روایتی عمودی شہروں کے مسائل کو حل کرے گا۔

ولی عہد نے کہا کہ 2030 میں سعودی آبادی موجودہ تقریباً ساڑھے تین کروڑ افراد سے بڑھ کر پانچ یا ساڑھے پانچ کروڑ کے درمیان متوقع ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’2030 میں ہم سعودی عرب کے موجودہ بنیادی ڈھانچے کی مکمل صلاحیت تک پہنچنے جا رہے ہیں جس کے لیے نئے شہر کے قیام کی ضرورت تھی۔‘

پروجیکٹ کی آفیشل ویب سائٹ پر شہزادہ محمد بن سلمان کا بیان موجود میں جس کے مطابق ’یہ لائن آج شہری زندگی میں انسانیت کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے میں مدد دے گی اور زندگی گزارنے کے متبادل طریقوں پر روشنی ڈالے گی۔‘

 ’ہم اپنے دنیا کے شہروں کو درپیش خطرات اور ماحولیاتی بحرانوں کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔‘

ان کے مطابق: ’نئے شہروں کو بلندی سے نیچے لانا پڑے گا۔ ہم موجودہ شہروں میں تمام مسائل کے مستقل حل کے ماڈل کی بنیاد پر تنظیم نو کے عمل سے گزر چکے ہیں لیکن بلندی سے نیچے کا حل دا لائن جیسا منصوبہ فراہم کرتا ہے۔

شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ ’مستقبل کے شہر کا تکنیکی طور پر ممکن ہونا ہی کافی نہیں ہے اسے خوبصورت بھی ہونا چاہیے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کے بقول: ’یہ انجینئرنگ اور ڈیزائن آرٹ کے بغیر کافی نہیں تھا۔ ہم پورے شہر کو فن کا ایک نمونہ بنائے بغیر ایک شہر نہیں بنانا چاہتے۔‘

ولی عہد نے کہا کہ ’یہ منصوبہ وسیع ہے اور اپنے مالی اور دیگر مقاصد پر پورا اترتا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ یہ بہت وسیع ہے اور ان کی خواہش ہے کہ وہ اسے آسان طریقے سے بیان کر سکیں۔ یہ ایسی چیز ہے جو تعمیر کا ایک نیا طریقہ بیان کرتا ہے۔

ولی عہد نے کہا کہ  امریکی ریاست فلوریڈا کے شہر میامی میں کام اور سماجی زندگی کے درمیان امتزاج ہے جو وہاں کے رہائشیوں کے لیے پرجوش ہے اور دی لائن کا مقصد اس سے بھی بلند پایہ شہر کا قیام ہے۔

ان کے بقول: ’میامی میں جب آپ اپنے دفتر سے باہر نکلتے ہیں تو آپ چھٹیوں پر ہونے جیسا محسوس کرتے ہیں یعنی آپ باہر نکلتے ہی فوراً تفریح، ثقافت، کھیل اور خریداری کے درمیان ہوتے ہیں۔ ہم میامی کے ساتھ مقابلہ کر رہے ہیں۔‘

دا لائن کے رہائشیوں کو تمام سہولیات تک پہنچنے کے لیے صرف پانچ منٹ کا پیدل سفر کرنا ہو گا اور تیز رفتار ریل 20 منٹ میں لائن کے ایک سرے سے دوسرے تک ٹرانزٹ فراہم کرے گی۔

نیوم کے سی ای او ندیمی النصر نے کہا کہ مستقبل کے شہر کے لیے شیڈول کے مطابق کام جاری ہے۔

نیوم ٹورازم مارکیٹنگ کے سربراہ پیٹر فٹز ہارڈنگ نے عرب نیوز کو بتایا: ’وہاں ترقی ہو رہی ہے۔ نیوم ایک حقیقت بن رہا ہے۔ میں خود بھی نیوم میں رہتا ہوں اور میں وہاں ہر دن کے ہر منٹ میں پیش رفت دیکھتا ہوں۔ مستقبل کے شہر کو دیکھنے کے لیے آپ کو نیوم آنا چاہیے۔‘

ان میگا پراجیکٹس کو ناقابل عمل قرار دینے والوں کے بارے میں بات کرتے ولی عہد محمد بن سلمان نے کہا: ’وہ ایسا کہتے رہتے ہیں اور ہم انہیں غلط ثابت کر سکتے ہیں۔‘

ان کے بقول: ’میں آپ سے وعدہ کر سکتا ہوں کہ نیوم ایک نیا اور تخلیقی منصوبہ ہے لیکن اس کے بارے میں پوری معلومات نہیں دی جا سکتی۔  ہم یہ مستقبل میں دیکھیں گے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا