کیا کشمیر پر امریکی ثالثی ممکن ہے؟

امریکہ کی جانب سے ایک بار پھر ثالثی کی پیشکش، مگر کیا اس پر کسی قسم کی پیش رفت ممکن ہے؟

(اے ایف پی)

پاکستان اور بھارت کے درمیان ماضی میں بھی کشمیر یا دیگر کسی مسئلے پر کشیدگی بڑھی ہے تو نا چاہتے ہوئے بھی عالمی طاقتوں خصوصا امریکہ نے تعلقات معمول پر لانے میں مدد کی ہے۔ اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دو مرتبہ ثالثی کی پیشکش کرچکے ہیں۔ پہلی مرتبہ عمران خان سے ملاقات کے دوران پیشکش کو تو انڈیا نے مسترد کر دیا لیکن اب انہوں نے دوسری مرتبہ پھر اپنی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ اس بات کا جائزہ چند ماہرین کی زبانی پیش ہے۔ 


مسعود احمد خان: پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے صدر

میں یہ سمجھتا ہوں کہ ابھی جو امریکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کر رہا ہے اس کو ثالثی نہیں کہیں گے ابھی صرف رابطے ہو رہے ہیں کیونکہ امریکہ نہیں چاہتا کہ خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو۔

میری رائے یہ ہے کہ پاکستان کو اقوام متحدہ کے دوسرے اداروں اور سلامتی کونسل سے رابطے تیز کرنے چاہییں۔

جب تک بھارت اپنے اقدامات واپس نہیں کرتا تب تک صورت حال تبدیل نہیں ہو سکتی۔

آئندہ ماہ یعنی ستمبر میں جب پاکستان کے وزیراعظم عمران خان اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کرنے کے لیے نیویارک جائیں گے تو اس اجلاس میں بھی اس مسئلے پر بات کی جائے گی۔

 

 

اماشنکر، صحافی این ڈی ٹی وی

میرا خیال نہیں ہے کہ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی ثالثی کی پیشکش قبول کریں گے۔

وزیر اعظم مودی ایسا ہر گز نہیں کریں گے کیونکہ اگر انہوں نے امریکہ کی جانب سے ثالثی کی پیشکش قبول کر لی تو کشمیر کے معاملے پر بھارت نے جو موقف اختیار کر رکھا ہے وہ کمزور ہو جائے گا اور بھارت ایسا کبھی بھی نہیں کرے گا جس سے اس کے عوام ناراض ہوں۔

میرے خیال میں یہ سچ بھی ہے کہ ہر منتخب حکومت اپنی عوام کے جذبات کو مدنظر رکھ کر ہی فیصلے کرتی ہے اس لیے پاکستانی عوام کے جذبات کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستان بھی کشمیر کی رٹ لگا رہا ہے۔

لیکن ایسا بھی نہیں کہ بالکل بات چیت نہیں ہو سکتی کیوں کہ شملہ معاہدہ اور لاہور اعلامیے کے مطابق بھارت یہ مانتا ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے تو بات چیت سے معاملے کا حل نکالا جا سکتا ہے۔

 

ہارون رشید: ایڈیٹر انڈپینڈنٹ اردو

تقسیم ہند کے بعد کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ میں اقوام متحدہ کمیشن فار انڈیا اور پاکستان نے جنگ بندی کروائی تھی۔ دونوں ممالک کے درمیان پانی کے تنازع کو انڈس واٹر ٹریٹی کے ذریعے ورلڈ بنک کی کوششوں سے ممکن بنایا گیا۔

اس کے بعد 1965 میں سویت یونین نے اور 1990 اور 1999 میں امریکہ نے کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالثی کا کردار ادا کیا۔ تو ماضی میں اس کی مثالیں تو موجود ہیں لیکن اس ثالثی سے جنگی صورت حال ختم کرنے میں مدد ملی۔ اصل مسئلے کے حل میں نہیں۔

جب بات شہ رگ اور اٹوٹ انگ جیسے نظریاتی سوچ کی ہو اور استصواب رائے کروانے کا مطالبہ ہو تو بات مشکل ہو جاتی ہے۔ کشمیر سکیورٹی کے ساتھ ساتھ نظریاتی اور مذہبی مسئلہ بھی ہے۔

امریکی ثالثی کی تجویز اس انتہائی پیچدہ صورت حال کا آسان حل ہرگز نہیں ہے۔

 

 

سنی سروگیا، آئی ٹی ملازم، انڈیا

بھارت اقوام متحدہ گیا تھا پاکستان کے خلاف شکایت لے کر کہ اس نے کشمیر پر حملہ کیا ہے۔

اقوام متحدہ اس وقت اسے حل نہیں کروا سکا، لہٰذا اب کشمیر پر ثالثی بےمعنی ہے۔

امریکی ثالثی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ بھارت ایسا نہیں ہونے دے گا۔ امریکی کی سنجیدہ کوشش کے باوجود کچھ نہیں ہو گا۔

امریکہ اور دیگر عالمی طاقتیں صرف مذاکرات کے لیے موافق حالات پیدا کریں گے۔   

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا