منہ زور مہنگائی اتحادی حکومت کا سب سے بڑا چیلنج رہی: ماہرین

وزیراعظم کا کہنا ہے کہ ان حکومت نے ملک کو مشکل ترین معاشی حالات سے نکالنے کے لیے بے پناہ کام کیا اور اب پاکستان کی ترقی و خوشحالی کا ایک جامع اور مربوط نظام وجود میں آ چکا ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف 8 اگست 2023 کو اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کر رہے ہیں (پی آئی ڈی)

مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے 11 اپریل کو پاکستان کے بطور 23ویں وزیر اعظم حلف لیا اور آج نو اگست کو صدر کی جانب سے قومی اسمبلی کے تحلیل ہونے کے ساتھ ہی اتحادی جماعتوں کی حکومت کا اختتام ہو جائے گا۔

اتحادی جماعتوں پر مشتمل حکومت کو معاشی، خارجہ و سیاسی محاذ سمیت کئی چینلجز کا سامنا تھا۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کے خلاف اس وقت کی اپوزیشن نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈیم ایم) کے نام سے متحدہ اپوزیشن کا پلیٹ فارم بنایا اور حکومتی پالیسیز پر کڑی تنقید کرتی رہی۔

خارجہ امور ہوں یا پھر معاشی معاملات، پی ٹی آئی حکومت کی پالیسیز کو پی ڈی ایم تنقید کا نشانہ بناتی رہی۔

پی ٹی آئی کی معاشی پالیسز اور مہنگائی کے خلاف مریم نواز اور مولانا فضل الرحمان نے علیحدہ علیحدہ مارچ بھی کیے اور حکومت میں آنے کے بعد مہنگائی پی ڈی ایم حکومت کے لیے بڑا چیلنج رہا۔

شہباز شریف نے بطور وزیر اعظم حلف لیا تو اس وقت اداراہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں افراط زر کی شرح 13.4 فیصد تھی اور جب ان کی حکومت رخصت ہو رہی ہے تو یہ شرح 28.3 فیصد ہے۔

سینیئر صحافی ندیم ملک نے پی ڈی ایم کی معاشی کارکردگی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت روپے کی قدر کو ڈالر کے مقابلے میں سنبھالنے میں ناکام رہی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’جب یہ حکومت آئی تو ڈالر 189 روپے کا تھا جو کہ آج 29 کے قریب ہے یعنی 100 روپے کا فرق پڑا۔‘

ندیم ملک کا کہنا تھا کہ دیہاتی علاقوں میں مہنگائی کی شرح 50 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر پوچھا جائے کہ پی ڈی ایم حکومت کو کس چیز میں مکمل ناکامی ہوئی تو وہ مہنگائی کو سنبھالنے میں کہا جاسکتا ہے۔

سینیئر صحافی محمد مالک کی رائے تھی کہ اگر پی ڈی ایم حکومت میں مفتاح اسماعیل بطور وزیر خزانہ کام کرتے رہتے تو معاشی میدان میں ان کی ریٹنگ شاید بہتر ہوتی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا مزید کہنا تھا کہ اسحاق ڈار کے آنے کے بعد آئی ایم ایف پروگرام تاخیر کا شکار ہوا جس سے مہنگائی بڑھی۔

سینیئر اینکر اور صحافی محمد مالک کا کہنا تھا معاشی معاملات کا بیڑا غرق انہوں نے خود کیا۔

’پی ڈیم ایم حکومت میں بلاول بھٹو زرداری بطور وزیر خارجہ کابینہ میں شامل ہوئے۔ بلاول اپنے دوروں کی وجہ سے خبروں میں رہے اور خاص طور پر انڈیا کے دورہ اہم رہا۔‘

پی ڈیم ایم کی خارجہ امور پر پالسیوں پر ندیم ملک کا کہنا تھا متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور قطر سے جو مالی معاونت ملی اس میں فوج کی قیادت کا زیادہ اہم کردار رہا۔

ان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو نے گذشتہ برس سیلاب کے دوران متحرک رہے اور اچھی باتیں کیں۔

سینیئر صحافیوں کے نزدیک پی ٹی آئی اور پی ڈی ایم حکومت دونوں صحافت کے لیے اچھی نہیں رہیں۔

ندیم ملک کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی حکومت میں مطیع اللہ جان، اسد طور والے واقعات سامنے آئے جبکہ اس حکومت کے دوران ارشد شریف جان سے گئے اور عمران ریاض کا تاحال معلوم نہیں کہ وہ کہاں ہیں۔

محمد مالک کو خدشہ تھا کہ شاید آئندہ وقت صحافت کے لیے اس سے زیادہ برا ہو۔

تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف سے معاہدے اور دوست ممالک کی مدد سے ملک کو معاشی بحران سے نکالا گیا۔

وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے منگل کو اسلام آباد میں ایک تقریب میں کہا کہ ان کی حکومت نے ملک کو مشکل ترین معاشی حالات سے نکالنے کے لیے بے پناہ کام کیا اور اب پاکستان کی ترقی و خوشحالی کا ایک جامع اور مربوط نظام وجود میں آ چکا ہے۔

فوج کے ہیڈکوارٹرز جی ایچ کیو میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں کہا کہ سب نے مل کر پاکستان کی تعمیر نو کرنی ہے اور ملک سے غربت اور بیروزگاری کا خاتمہ کرنا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی ترقی و خوشحالی کا ایک جامع مربوط نظام وجود میں آ چکا ہے، حکومت اور تمام اداروں نے مل کر ایک جامع نظام وضع کیا ہے، ملکی ترقی و خوشحالی کے لیے چار شعبوں پر توجہ دی جا رہی ہے، ہمیں زراعت کے شعبے کو ترقی دینی ہے، معدنیات کے کھربوں ڈالر کے ذخائر کو استعمال میں لانا ہے، انفارمیشن ٹیکنالوجی کو فروغ دینا ہے اور دفاعی صلاحیتوں کو مزید مستحکم کرنا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ دنیا اور خلیجی ممالک سے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے ’اگر مل کر آگے بڑھیں گے تو کوئی مشکل آڑے نہیں آئے گی۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت