’رشتہ آنٹی سے جان چھڑائیں‘

اریبہ ارینج میرج کے خلاف نہیں، لیکن ان کے خیال میں رشتے والوں کے سامنے چائے کی ٹرالی سجا کر لے جانا اکثر لڑکیوں کے لیے کسی ڈراؤنی فلم سے کم نہیں، لہذا انہوں نے شادیوں کے لیے ایک فیس بک گروپ بنا رکھا ہے۔

رشتے کرانی والی آنٹی—  یہ نام سن کر آپ کے ذہن میں کیا آتا ہے؟ ایک بڑی عمر کی خاتون، جو نوجوان لڑکے لڑکیوں کے ’بہت اچھے‘ یا ’مناسب‘ رشتے کرانے کے عوض والدین سے ہزاروں روپے بٹورتی ہیں اور اس کے باوجود اکثر شادی کے خواہش مندوں کو اچھے رشتے نہیں مل پاتے۔

یہاں سوال یہ ہے کہ ایک اچھا رشتہ کیا ہے؟ اور کیا رشتہ کرانے والیاں ہی اچھے رشتے ڈھونڈ سکتی ہیں۔

اریبہ عاطف ان سوالوں کا جواب نفی میں دیتی ہیں۔ 29 سالہ اریبہ نے نسٹ بزنس سکول سے فنانس اور انویسٹمنٹ کے مضامین میں بی بی اے کر رکھا ہے۔ وہ چار سال تک ایک نجی کمپنی کے ساتھ منسلک رہیں اور پھر شادی کے بعد کینیڈا منتقل ہوکر انہوں نے ہوم میکر بننے کو ترجیح دی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تاہم، اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے دیگر نوجوانوں کی زندگی کے ایک بڑے مسئلے یعنی ’شادی‘ کو حل کرنے کی بھی ٹھانی اور اس سال فروری میں فیس بک پر Skip the rishta aunty یعنی ’رشتہ آنٹی سے جان چھڑائیں‘ کے نام سے ایک گروپ بنا ڈالا۔

یہ ایک کلوز گروپ ہے، یعنی اس میں پوسٹ ہونے والا مواد ہر کوئی نہیں دیکھ سکتا، سوائے ان لوگوں کے جو اس گروپ کے رکن ہوں۔ گروپ میں شمولیت کے لیے ایک خاص شرط یہ ہے کہ آپ کی فیس بک پروفائل پر آپ کی اپنی تصویر ہو، دوسری صورت میں آپ اس گروپ کے رکن نہیں بن سکتے۔

اریبہ کہتی ہیں ان کے اردگرد بہت سے لوگ شادی کے خواہش مند تھے لیکن ان کے لیے اپنے جوڑ اور مزاج کا حامل پارٹنر تلاش کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا، یہی وجہ تھی کہ انہیں یہ گروپ بنانے کا خیال آیا۔

وہ اپنے شوہر اور سسرال والوں کی شکر گزار ہیں، جنہوں نے ان کے اس خیال کو سراہا اور ان کی ہمت بندھائی۔ تاہم اریبہ نے بتایا کہ وہ اپنے گھر والوں کو بتانے میں کچھ ہچکچاہٹ کا شکار تھیں کیوںکہ ’ان کے خیال میں یہ بڑی ذمہ داری ہے اور پتہ نہیں میں کر پاؤں گی یا نہیں۔‘

اس گروپ میں نیا کیا ہے؟

اگرچہ یہ گروپ کوئی اچھوتا یا نیا آئیڈیا نہیں اور شادی کرانے کے لیے بہت سے آن لائن گروپ اور ایپس پہلے سے موجود ہیں، لیکن اریبہ نے یہ گروپ اس وجہ سے بنایا تاکہ اس سارے عمل کو مزید آسان بنایا جائے اور نوجوان لڑکے، لڑکیوں کو گھر بیٹھے اپنی سکرین کی مدد سے ہی لائف پارٹنر مل جائے۔

ان کا کہنا ہے کہ عموماً والدین اپنے بچوں کے لیے رشتے کرانے کا کام کرتے ہیں لیکن آج کل اکثر نوجوان چاہتے ہیں کہ وہ اپنا لائف پارٹنر خود منتخب کریں۔ ’مجھے لگا کہ شادی جیسے اہم عمل کے دو مرکزی کرداروں کو ایک دوسرے کے بارے میں جاننے کا حق ہے۔ انہیں یہ حق ہے کہ وہ اپنی پسند، اپنے معیار یا مزاج سے مطابقت رکھنے والا ساتھی چُنیں۔ یہ گروپ اسی مقصد کو ذہن میں رکھ کر تشکیل دیا گیا۔‘

اریبہ ارینج میرج کے خلاف نہیں، لیکن ان کے خیال میں رشتے والوں کے سامنے چائے کی ٹرالی سجا کر لے جانا اور ڈرائنگ روم کلچر آج کل کی بہت سی لڑکیوں کے لیے کسی ڈراؤنی فلم سے کم نہیں ہوتا۔

بقول اریبہ: ’رشتہ کرانے والی آنٹیوں کو آپ ہزاروں روپے دیتے ہیں، ان کے ریٹس 80 ہزار سے ایک لاکھ تک ہوتے ہیں اور پھر رشتہ یا شادی ہونے کے بعد بھی وہ مزید پیسوں کا تقاضا کرتی ہیں۔ مجھے یہ طریقہ سمجھ نہیں آتا، یہ والدین کے ساتھ ناانصافی ہے کہ ان کی محنت کا پیسہ ایک ایسی چیز پر لگے، جس کی شاید کوئی ضرورت ہی نہیں۔ آج کل ٹیکنالوجی ہے تو آپ اس کا استعمال کیوں نہیں کرتے؟‘

انہوں نے سوال اٹھایا کہ اس ڈیجیٹل عہد میں بھی ہم وہی پرانے گھسے پٹے طریقوں پر کیوں عمل کر رہے ہیں؟ اور جب ٹیکنالوجی نے ہماری زندگیاں آسان کردی ہیں تو ہم اپنی زندگی کا ساتھی چننے کے لیے بھی اس کا استعمال کیوں نہیں کرتے؟

رشتہ آنٹی سے جان کیسے چھڑائیں؟

 اب آتے ہیں اصل بات کی طرف کہ یہ گروپ کام کیسے کرتا ہے۔ اس کے لیے سب سے پہلے آپ کو اس گروپ میں شمولیت کے لیے درخواست (ریکوئسٹ) کرنی پڑتی ہے۔

ایڈمن کی جانب سے درخواست قبول ہونے کے بعد آپ گروپ کے رکن بن جاتے ہیں۔ اب آپ کو 24 گھنٹے کے اندر اپنی پروفائل پوسٹ کرنی ہے، جس میں اپنی تصاویر (اختیاری) کے علاوہ یہ بتانا پڑتا ہے کہ آپ کون ہیں، کہاں سے تعلق رکھتے ہیں، تعلیم، ملازمت، پسند، ناپسند اور یہ کہ آپ اپنے لائف پارٹنر میں کیا کیا خصوصیات اور خوبیاں دیکھنا چاہتے ہیں۔

پھر گروپ پر موجود دیگر لوگ اس پروفائل پر ’انٹرسٹڈ‘ کا کمنٹ کرکے اپنی دلچسپی کا اظہار کرتے ہیں، لیکن صرف یہی کافی نہیں۔ ساتھ میں آپ کو اپنی پروفائل کا لنک بھی شیئر کرنا پڑتا ہے، کیوںکہ اس گروپ میں آپ محض ’خاموش تماشائی‘ بن کر نہیں رہ سکتے۔

اگر آپ محض ’تانک جھانک‘ کرنے یا وقت گزاری کے لیے ممبر بنے ہیں تو جلد ہی گروپ سے نکال باہر کردیے جائیں گے کیوںکہ اریبہ اور ان کے ماڈیریٹرز کی ٹیم ہر وقت سرگرم رہتی ہے۔

گروپ کے قواعد کی خلاف ورزی کرنے والوں کو پہلے تو وارننگ دی جاتی ہے اور پھر بھی اگر کوئی باز نہ آئے تو اسے گروپ سے نکال دیا جاتا ہے۔

کتنے رشتے طے کروائے؟

اس گروپ کے قیام کو محض چند مہینے ہوئے ہیں لیکن اریبہ اس بات پر خوش ہیں کہ بہت سے لوگ اس گروپ کو جوائن کرنے کے اپنے مقصد میں کامیاب رہے ہیں اور  تقریباً 15 لوگوں کو ان کا من پسند لائف پارٹنر مل گیا۔

انہوں نے حال ہی میں طے پانے والے ایک رشتے کا احوال سنایا: ’ایک لڑکے نے  کافی دلچسپ انداز میں اپنی پروفائل پوسٹ کی، جس پر اسے 120 کے قریب ’انٹرسٹڈ‘ کے کمنٹس آئے۔ ان ہی میں سے ایک لڑکی کی پروفائل اس لڑکے کو پسند آئی اور اس نے اس سے بات چیت کی۔ ایک ہفتے کے اندر اندر لڑکے نے اپنے والدین کو لڑکی کے گھر بھیجا اور پھر لڑکی کے والدین لڑکے کے گھر آئے۔ ان دونوں خاندانوں کا تعلق اسلام آباد اور لاہور سے تھا۔ جب دوسری مرتبہ دونوں خاندانوں کی ملاقات ہوئی تو لڑکی والوں نے ہاں کردی۔ اگلے ویک اینڈ پر انہوں نے دعائے خیر رکھی لیکن وہ تقریب نکاح کی تقریب میں تبدیل ہوگئی اور پھر اسی موقع پر لڑکے کے والدین نے کہا کہ ہم اپنی بیٹی کو اپنے گھر لے جانا چاہتے ہیں۔ یوں بس 15 منٹ کے اندر رخصتی ہوگئی اور لڑکی صرف ایک موبائل فون اپنے ہاتھ میں لے کر گھر سے رخصت ہوگئی اور دونوں ماشاء اللہ بہت خوش ہیں۔‘

لیکن ہر بار سب کچھ اچھا نہیں ہوتا۔۔۔

جس طرح اچھے برے لوگ ہر جگہ موجود ہوتے ہیں، اسی طرح ہر طریقے سے چھان پھٹک کرنے کے باوجود اس گروپ میں بھی کچھ ایسے لوگ شامل ہوجاتے ہیں، جن کا مقصد دوسروں کو محض بے وقوف بنانا ہوتا ہے، لیکن اس سے نمٹنے کا طریقہ بھی اریبہ نے ڈھونڈ رکھا ہے۔

بقول اریبہ، جب بھی اس گروپ کے ذریعے آپ کی کسی لڑکی یا لڑکے سے بات آگے بڑھے تو ایڈمن یعنی انہیں ضرور اعتماد میں لیں۔ اس سے ہوگا یہ کہ اگر کوئی گروپ ممبر ’ڈبل پلے‘ کر رہا ہو یعنی ایک وقت میں ایک سے زائد ممبرز سے بات چیت میں مصروف ہو تو اس کی نشاندہی آسانی سے ہوجاتی ہے۔

انہوں نے ایک برے تجربے کے بارے میں بتایا، جہاں ایک لڑکا دو لڑکیوں سے بات چیت میں مصروف تھا اور جب ان دونوں لڑکیوں نے اریبہ کو اپنے تعلق کے بارے میں اعتماد میں لیا تو اریبہ کو اُس لڑکے کی اصلیت معلوم ہوئی، جس کے بعد انہوں نے گروپ میں اُس لڑکے کی پروفائل شیئر کرکے اس کی حقیقت سب کے سامنے عیاں کر دی۔ جی ہاں، ایسا بھی ہوتا ہے!

شادی اتنی مشکل کیوں؟

اریبہ کے خیال میں پہلے زمانے میں شادیاں نسبتاً آسان ہوتی تھیں، زیادہ تقاضے نہیں ہوتے تھے لیکن اب یہ سب بہت مشکل ہوگیا ہے۔ والدین یا لڑکیوں کی ڈیمانڈ ہوتی ہے کہ لڑکا مالی طور پر مستحکم ہو، اپنا گھر، گاڑی ہو اور چھوٹا خاندان ہو جبکہ لڑکے یا اس کے والدین چاہتے ہیں کہ لڑکی بہت خوبصورت ہو، لیکن ایسا صرف فلموں یا ڈراموں میں ہی ہوسکتا ہے۔ حقیقت میں ایک ’مکمل انسان‘ کی تلاش میں ہم بہت سے اچھے رشتے گنوا دیتے ہیں۔

انہوں نے نوجوانوں اور ان کے والدین کو مشورہ دیا کہ آپ لوگ ہم آہنگی (compatibility) کو ترجیح دیں۔ ظاہری شکل و صورت، جسمانی خدوخال، روپیہ پیسہ، یہ سب اہم نہیں۔ اگر آپ مثبت سوچ رکھتے ہیں تو آپ کرائے کے مکان میں بھی خوش رہیں گے لیکن اگر آپ کی سوچ مثبت نہیں تو آپ کو محل میں بھی خوشی نہیں ملے گی۔ ہوسکتا ہے آپ نے بینک بیلنس یا خوبصورتی کے معیار کو اچھی طرح دیکھ بھال کر شادی کی ہو، لیکن کچھ عرصے بعد یہ سب کسی بھی وجہ سے چھن جائے ایسے میں بھی تو آپ کو گزارا کرنا پڑے گا۔

اریبہ نے نوجوانوں اور والدین کو مشورہ دیا کہ شادیوں کو اتنا مشکل نہ بنائیں۔آپ کی نیت صاف ہونی چاہیے، ارادہ مضبوط ہونا چاہیے، پھر انشاء اللہ شادی میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا اور ’اچھے رشتے نہیں ملتے‘ جیسی شکایات بھی دور ہوجائیں گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی نئی نسل