زینب کو انڈیا سے نکالا نہیں، ذاتی وجوہات پر واپس گئیں: آئی سی سی

انڈیا کے شہر حیدرآباد میں موجود ٓئی سی سی کے ترجمان عماد حمید نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا ہے کہ ’زینب عباس انڈیا سے ذاتی وجوہات کی وجہ سے گئی ہیں۔‘

لاہور میں 6 ستمبر، 2023 کو پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان ایشیا کپ کے مقابلے میں زینب عباس ٹی وی میزبانی کرتے ہوئے (زینب عباس انسٹاگرام)

پاکستان کی معروف سپورٹس اینکر اور آئی سی سی پینل میں شامل پریزینٹر زینب عباس کو انڈیا سے ’ڈی پورٹ‘ کیے جانے کی خبریں سوشل میڈیا پر گرم ہیں جہاں پہلے سے ہی ویزوں کے معاملے پر برہم صارفین اس خبر پر بھی ناخوش دکھائی دے رہے ہیں۔

پچھلے کچھ گھنٹوں سے سوشل میڈیا پر مختلف صارفین کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ زینب عباس کو انڈیا سے مبینہ طور پر ڈی پورٹ کر دیا گیا ہے۔

اس حوالے سے پاکستانی صارفین غصے کا اظہار کرتے دکھائی دیے تو دوسری جانب انڈین صارفین اس اقدام کی حمایت کرتے نظر آ رہے ہیں۔

تاہم ان خبروں پر انڈپینڈنٹ اردو نے جب آئی سی سی سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ سوشل میڈیا پر دونوں ممالک کے صارفین ایک ایسی خبر پر ’جھگڑ‘ رہے ہیں جس میں کوئی ’سچائی ہی نہیں ہے۔‘

انڈیا کے شہر حیدرآباد میں موجود ٓئی سی سی کے ترجمان عماد حمید نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا ہے کہ ’زینب عباس انڈیا سے ذاتی وجوہات کی وجہ سے گئی ہیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ زینب عباس کو ڈی پورٹ کرنے کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

زینب عباس انڈیا میں جاری کرکٹ ورلڈ کپ کے لیے آئی سی سی کے پینل پر ہیں اور انڈیا جانے والے چند پاکستانیوں میں شامل ہیں۔

انڈیا کی جانب سے تاحال نہ تو پاکستانی صحافیوں کو ورلڈ کپ کوریج کے لیے ویزہ جاری کیا گیا ہے اور نہ ہی میچز دیکھنے کے خواہشمند فینز کو انڈیا کا سفر کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

ایسے میں زینب عباس کے ’ڈی پورٹ‘ کی خبریں سامنے آئیں تو سوشل میڈیا پر صارفین نے انڈیا پر تنقید کرنا شروع کر دیا اور دیکھتے ہی دیکھنے زینب عباس کا نام ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔

زینب عباس کون ہیں؟

زینب عباس فرسٹ کلاس کرکٹر ناصر عباس اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی رہنما عندلیب عباس کی بیٹی ہیں۔ ان کے شوہر حمزہ کاردار سابق وزیر خزانہ اور سٹیٹ بینک کے سابق گورنر شاہد حفیظ کاردار کے بیٹے ہیں۔

انڈیا میں جاری کرکٹ ورلڈ کپ 2023 کے لیے پاکستان کے محض دو سپورٹس میزبانوں کو ویزے جاری کیے گئے تھے۔ دوسرے میزبان رمیز راجا ہیں۔

بھارت روانہ ہونے سے قبل زینب عباس نے سماجی پلیٹ فارم ایکس پر لکھا تھا کہ انڈیا میں کرکٹ ورلڈکپ 2023 میں بطور پریزینٹر شرکت ان کے لیے باعث مسرت ہے۔

زینب عباس نے 2019 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھی میزبانی کے فرائض سر انجام دیے تھے جب کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے ایونٹس بھی فرائض نبھاتی آئی ہیں۔

انہوں نے 2015 میں دنیا ٹی وی سے سپورٹس رپورٹر کے طور پر کیریئر کا آغاز کیا تھا، جس کے بعد وہ متعدد انڈین سپورٹس چینلز پر بھی رپورٹنگ اور میزبانی کرتی دکھائی دیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ٹرینڈنگ