گوگل ہمیشہ کے لیے پاس ورڈز ختم کرنے والا ہے

1960 کی دہائی سے موجود پاس ورڈز کو ختم کرنے اور کسی صارف کی شناخت کی تصدیق کے لیے محفوظ اور زیادہ موثر فارمیٹ پر منتقل ہونا ٹیکنالوجی انڈسٹری کے مابین وسیع تر اتفاق رائے کا حصہ ہے۔

نیو یارک سٹی کے چیلسی سیکشن میں گوگل کے دفاتر کی عمارت پر گوگل کا لوگو نظر آ رہا ہے (روئٹرز)

گوگل نے تمام صارفین کو پاس کِیز پر لانے کی کوشش کے طور پر اعلان کیا ہے کہ اس کی ایپس اور سروسز اب ’ڈیفالٹ طور پر بغیر پاس ورڈ کے‘ ہوں گی۔

یہ اقدام 1960 کی دہائی سے موجود پاس ورڈز کو ختم کرنے اور کسی شخص کی شناخت کی تصدیق کے لیے ایک محفوظ اور زیادہ موثر فارمیٹ پر منتقل ہونے کی غرض سے ٹیکنالوجی انڈسٹری کے مابین وسیع تر اتفاق رائے کا حصہ ہے۔

پاس کِیز ایک کوڈ کو بائیومیٹرک معلومات جیسا کہ فنگر پرنٹ یا چہرے کی شناخت کے ساتھ جوڑتے ہیں، جس سے انہیں یاد رکھنا آسان اور چوری کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

اس سال کے شروع میں پہلی بار متعارف کرائے جانے کے بعد سے گوگل ایپس جیسا کہ یوٹیوب، سرچ اور میپس نئے فارمیٹ کو سپورٹ کرتی ہیں، حالانکہ اس کا استعمال توقع سے کہیں زیادہ سست رہا ہے۔

ٹیکنالوجی کمپنی کا کہنا ہے کہ سائبر سکیورٹی آگاہی کے مہینے کے موقع پر صارفین کو کہا گیا ہے کہ وہ پاس کِیز اپنائیں اور دعویٰ کیا گیا ہے کہ نئی ٹیکنالوجی تیز تر اور زیادہ محفوظ ہے۔

گوگل کے پروڈکٹ مینیجرز سری رام کارا اور کرسٹیان برانڈ نے ایک بلاگ پوسٹ میں اس اقدام کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا: ’یہ پاس ورڈ کے مقابلے میں 40 فیصد تیز ہیں – اور ایک قسم کی کرپٹوگرافی پر انحصار کرتے ہیں جو انہیں زیادہ محفوظ بناتا ہے۔

’ہم صنعت کی حوصلہ افزائی جاری رکھیں گے کہ وہ پاس ورڈز کو بالآخر ترک کرتے ہوئے پاس کِیز پر منتقل ہوں۔‘

گوگل صارفین جو پہلے ہی پاس کی استعمال نہیں کرتے ہیں، اگلی بار جب وہ اپنے اکاؤنٹ میں سائن اِن کریں گے تو انہیں ایک پرامپٹ موصول ہو گا۔

ای بے اور اوبر سمیت دیگر آن لائن پلیٹ فارمز کی جانب سے پاس کِیز کو پہلے ہی فعال کیا جا چکا ہے کیونکہ ٹیک انڈسٹری روایتی پاس ورڈز سے مکمل طور پر منتقل ہونا چاہتی ہے۔

اوبر میں انجینئرنگ کے سینیئر ڈائریکٹر رامسن بیتیوسف نے کہا، ’اپنی ایپس میں پاس کِیز لانچ کرنے اور تمام صارفین کو پاس کِیز اپنانے کی ترغیب دینے سے ہم نے بہت اچھے نتائج دیکھے ہیں۔ آخر کار اس میں اوبر اور اوبر کے صارفین دونوں کا فائدہ ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

گوگل، جو اپنے تمام پلیٹ فارمز پر اربوں صارفین رکھتا ہے، نے تسلیم کیا: ’نئی ٹیکنالوجیز کو اپنانے میں وقت لگتا ہے‘، اور اسی وجہ سے لوگوں کو عارضی طور پر پاس کِیز کی بجائے جہاں بھی ممکن ہو پاس ورڈ استعمال کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔

کمپنی نے اس بات کی تاریخ طے نہیں کی کہ پاس ورڈز کو کب مکمل طور پر ختم کیا جائے گا، لیکن کچھ سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کا خاتمہ ناگزیر ہے جبکہ ہیکرز ان کی کمزوری کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

منتقلی کو نافذ کرنے میں مدد کرنے والا فیڈو (فاسٹ آئیڈینٹٹی آن لائن) الائنس ہے، جو ایپل، گوگل ، مائیکروسافٹ اور سینکڑوں ٹیک کمپنیوں کے ساتھ مل کر نیا لاگ اِن معیار تیار کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔

مائیکروسوف کی شناختی پروگرام مینجمنٹ ٹیم کے سربراہ ایلکس سائمنز کے بقول، ’پاس ورڈ کے بغیر دنیا میں مکمل تبدیلی کا آغاز صارفین کی جانب سے اسے اپنی زندگی کا فطری حصہ بنانے سے ہو گا۔

’پلیٹ فارمز پر ایک کمیونٹی کے طور پر مل کر کام کرکے، ہم بالآخر اس وژن کو حاصل اور پاس ورڈز کو ختم کرنے کی طرف اہم پیش رفت کرسکتے ہیں۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی