ٹرمپ کی عدالت میں پیشی، چار گھنٹوں کی سماعت میں کیا کچھ ہوا؟

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سول فراڈ سے متعلق پیر کو کیس کی سماعت کے دوران کٹہرے میں کھڑے ہو کر مقدمہ سننے والے جج پر تنقید بھی کی۔

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نیو یارک کی سپریم کورٹ سے سول فراڈ کیس کی سماعت کے دوران ظہرانے کے وقفے کے لیے 6 نومبر 2023 کو نکل رہے ہیں (اے ایف پی)

امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے خلاف قائم سول فراڈ کیس میں پیر کو نیویارک کی ایک عدالت میں پیش ہوئے اور کارروائی لگ بھگ چار گھنٹے تک جاری رہی۔

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق انہوں کٹہرے  میں کھڑے ہو کر اس مقدمے کی  نگران جج پر تنقید بھی کی۔ ان کی گواہی کے چار اہم لمحات یہ درج ذیل ہیں:

’یہ سیاسی ریلی نہیں‘

اپنی دولت اور اثاثوں کی مالیت کے بارے میں سوالات کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے جسٹس آرتھر اینگورن کے صبر کا امتحان لیا اور اپنی دولت، جائیدادوں اور عدالتی نظام سے متعلق اپنی شکایات کا اظہار کیا۔

اینگورن نے ٹرمپ کے وکیل سے پوچھا ’کیا آپ اپنا کلائنٹ سنبھال سکتے ہیں؟ یہ کوئی سیاسی ریلی نہیں ہے۔ یہ ایک کمرہ عدالت ہے۔‘

اینگورن نے ایک موقع پر کہا کہ ٹرمپ کے جوابات میں تکرار ہے اور یہ غیر متعلقہ ہیں اور انہوں نے متنبہ کیا کہ وہ ٹرمپ کو بطور گواہ ہٹا بھی سکتے ہیں، تاہم ایسا نہیں ہوا۔

جائیداد کی قیمتیں اہم نہیں: ٹرمپ

ٹرمپ نے گواہی دی کہ ان کی کمپنی نے بینکوں کو ان کی بعض جائیدادوں کی قیمت کا درست تخمینہ نہیں دیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا کہ فلوریڈا میں ان کی مار لاگو اسٹیٹ اور ڈورل گالف کورس جیسی کچھ جائیدادوں کی قیمت کم تھی جبکہ نیویارک میں ٹرمپ ٹاور میں ان کی رہائش گاہ اور شہر کے شمال میں واقع ان کی سیون سپرنگز اسٹیٹ جیسی دیگر جائیدادوں کی قیمت بڑھا کر بتائی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیے کیونکہ تخمینے زبانی تھے وہ درست نہیں ہوسکتے ہیں اور بینکوں نے انہیں سنجیدگی سے نہیں لیا۔

ٹرمپ نے کیس دائر کرنے والے نیو یارک کے اٹارنی جنرل کے دفتر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ’آپ نے اسے اہم بنا دیا ہے، لیکن ایسا تھا نہیں۔‘

’میرے پاس ایک قلعہ ہے‘

نیو یارک کے سرکاری وکیل کیون والیس نے ٹرمپ سے پوچھا کہ کیا انہوں نے 2013 سے 2014 کے درمیان سکاٹ لینڈ کے شہر ایبرڈین میں کوئی گھر بنایا۔

ٹرمپ نے جواب دیا، ’میرے پاس ایک قلعہ ہے۔‘

ایبرڈین میں رہائشی تعمیر کا حوالہ دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا: ’میں ابھی اسے تعمیر نہیں کرنا چاہتا۔ آپ نے شاید پڑھا ہے، میں کچھ اور کام کر رہا ہوں۔‘

’امید ہےعوام دیکھ رہے ہوں گے‘

دن گزرنے کے ساتھ ہی ٹرمپ میں غصہ بڑھتا گیا اور انہوں نے اینگورن اور نیو یارک کی اٹارنی جنرل لیٹیٹیا جیمز کے بارے میں اشتعال انگیز تبصرے کیے۔

ریپبلیکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا ’یہ ایک بہت ہی غیر منصفانہ، بہت بہت غیر منصفانہ مقدمہ ہے اور مجھے امید ہے کہ عوام دیکھ رہے ہوں گے۔‘

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ