ناسا کا اوزاروں والا بیگ جو زمین کے گرد گھوم رہا ہے

زمین سے دیکھا جائے تو یہ بیگ دوربین سے ایک چمک دار ستارے کی طرح نظر آ سکتا ہے۔

ایک جاپانی خلاباز نے ماؤنٹ فوجی کے مدار کی تصاویر لیتے ہوئے نادانستہ طور پر گھومنے والے ٹول بیگ کی تصویر کھینچ لی (Satoshi Furukawa / Earth Science and Remote Sensing Unit, NASA Johnson Space Center)

اگر آپ آج رات آسمان کی طرف دیکھیں، تو آپ کو ایک غیرمعمولی نیا ستارہ نظر آ سکتا ہے۔

ہزاروں سال سے انسانوں کو حیران کرنے والے ستاروں کے ساتھ اب اوزاروں والا ایک بھٹکا ہوا بیگ بھی سیارہ زمین کے گرد چکر لگا رہا ہے جو بین الاقوامی خلائی سٹیشن (آئی ایس ایس) پر خلائی چہل قدمی کے دوران گر گیا تھا۔

امریکی خلائی ادارے ناسا نے ایک بلاگ پوسٹ میں کہا کہ ناسا کے خلا باز جیسمین موگبیلی اور لورل اوہارا یکم نومبر کو سٹیشن کے بیرونی حصے پر سولر پینل نصب کر رہے تھے کہ بیگ ان سے چھوٹ گیا۔

خلائی خبر رساں ویب سائٹ ارتھ سکائی کے مطابق یہ بیگ اتنی روشنی منعکس کرتا ہے کہ انسان دوربین کا استعمال کرتے ہوئے اسے زمین سے کم از کم اس وقت تک دیکھ سکتے ہیں جب تک کہ یہ چند ماہ میں زمین کی فضا میں جل نہ جائے۔

ناسا کا کہنا ہے کہ ’اس سرگرمی کے دوران ایک ٹول بیگ نادانستہ طور پر گم ہو گیا تھا۔‘

فلائٹ کنٹرولرز نے سٹیشن کے بیرونی کیمروں کا استعمال کرتے ہوئے بیگ کو دیکھا، پھر اس کے راستے کا تجزیہ کیا کہ آیا اس سے کوئی خطرہ ہے یا نہیں۔

خوشی کی بات یہ ہے کہ انہوں نے تعین کیا کہ اس کا سٹیشن سے دوبارہ ٹکرانے کا خطرہ ’کم‘ ہے، اور یہ کہ سٹیشن کا عملہ ’بغیر کسی کارروائی کی ضرورت کے محفوظ ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ٹول بیگ کو اب مبینہ طور پر خلائی ملبہ نمبر # 58229 / 1998-067 ڈبلیو سی کے طور پر درج کیا گیا ہے، اور یہ بین الاقوامی خلائی سٹیشن سے بالکل آگے مدار میں گردش کر رہا ہے۔

برطانوی خلائی ایجنسی کے ڈاکٹر میگن کرسچن کی جانب سے آن لائن پوسٹ کی جانے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گرتا ہوا ٹول بیگ کیمرے کے پاس سے گزرتا ہے اور سٹیشن کے ایک حصے سے ٹکرا کر اچھلتا ہے اور اسی لمحے ایک خلاباز کا ہاتھ اسے پکڑنے کی کوشش کرتا ہے۔

اس وقت آئی ایس ایس پر موجود ایک جاپانی خلاباز ستوشی فروکاوا نے ماؤنٹ فوجی کی مدار سے تصاویر لیتے ہوئے حادثاتی طور پر اس کی تصویر کھینچ لی۔

مس موگبیلی مبینہ طور پر مشن کنٹرول کو اگلے دن بتایا کہ ’میرے خیال میں وہ ماؤنٹ فوجی کو دیکھنا چاہتا تھا۔‘

مس موگبیلی اور مس اوہارا 27 اگست کو ایلون مسک کی نجی خلائی کمپنی سپیس ایکس کی مدد سے آئی ایس ایس پر پہنچی تھیں، اس سے سٹیشن پر ناسا کا ایک نایاب یونٹ بنا جس کی ارکان سب خواتین ہیں۔ ان دونوں نے پہلی بار خلائی سفر کیا تھا۔

گذشتہ کئی دہائیوں کے دوران خلاباز خلائی چہل قدمی کے دوران متعدد اشیا گرا چکے ہیں جن میں 1965 میں اضافی دستانے، 2008 میں ایک اور ٹول بیگ اور 2017 میں آئی ایس ایس پر نصب کی جا رہی 1.5 میٹر ملبے کی ڈھال شامل ہیں۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی سائنس