عمران خان کے خلاف سائفر کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہوگی

منگل کو خصوصی عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ’جیل حکام اور سکیورٹی اداروں نے سکیورٹی خدشات کا اظہار کیا ہے لہذا آئندہ سماعت جیل میں ہی ہو گی جس میں میڈیا اور پبلک کو بھی شرکت کی اجازت ہو گی۔‘

سابق وزیراعظم عمران خان نے27 مارچ 2022 کو اسلام آباد میں ہونے والے جلسے میں ایک مبینہ خط لہراتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہمیں لکھ کر دھمکی دی گئی ہے (ویڈیو سکرین گریب/ پی ٹی وی)

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور مرکزی رہنما شاہ محمود قریشی کے خلاف آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت نے محفوظ فیصلہ سنایا ہے جس میں سماعت کے جیل کے اندر ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔

منگل کو خصوصی عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ’جیل حکام اور سکیورٹی اداروں نے سکیورٹی خدشات کا اظہار کیا ہے لہذا آئندہ سماعت جیل میں ہی ہو گی جس میں میڈیا اور پبلک کو بھی شرکت کی اجازت ہو گی۔ پہلے کی طرح پانچ پانچ فیملی ممبرز کو بھی اجازت ہو گی۔ کیس کی آئندہ کارروائی جمعے کو اڈیالہ جیل میں ہو گی۔‘

اس سے قبل پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور مرکزی رہنما شاہ محمود قریشی کو امریکی سائفر کیس میں سکیورٹی وجوہات کے باعث عدالت پیش نہیں کیا گیا تھا۔

جیل حکام نے خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات کو رپورٹ پیش کی تھی جس میں درج تھا کہ ’مختلف حساس اداروں اور پولیس رپورٹ کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی کو لائف تھریٹس ہیں جس کے باعث عمران خان کو عدالت میں پیش نہیں کیا جا سکتا۔‘

جیل رپورٹ پر وکلا اور استغاثہ کے دلائل سننے کے بعد جج ابوالحسنات نے فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

عدالت نے کہا تھا کہ ’عدالت کو فرق نہیں پڑتا کہاں ٹرائل ہوگا، عدالت چاہتی ہے کہ جو ٹرائل کو دیکھنا چاہے اس کے لیے کیا کریں گے، سیکشن 352 کا اطلاق کرنا ہے اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے، جتنے مرضی نوٹی فکیشن لائیں کوئی فرق نہیں پڑتا، عدالت مناسب آرڈر کرے گی، عوام کو رسائی ہونی چاہیے، میڈیا کو عدالت تک رسائی ہونی چاہیے۔‘

اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے جیل ٹرائل کالعدم قرار دینے کے بعد آفیشل سیکریٹ ایکٹ کیس میں فرد جرم کی کارروائی ختم ہو گئی تھی۔

خصوصی عدالت نے ٹرائل کارروائی کے آغاز میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو 28 نومبر کے لیے طلب کیا تھا۔

منگل کو اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس جی الیون میں خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے سماعت کا آغاز کیا۔

سماعت کے آغاز پر عمران خان کے وکیل نے جب عدالت کے سامنے اعتراض اُٹھایا کہ ’عدالتی حکم کے باوجود ابھی تک سابق وزیر اعظم عمران خان کو عدالت پیش نہیں کیا گیا۔‘ تو اس پر جج ابوالحسنات نے ریمارکس دیے کہ ’جیل رپورٹ آئی ہے وہ کہہ رہے ہیں پیش نہیں کر سکتے۔‘

عدالت کے سامنے عمران خان، شاہ محمود قریشی کے وکلا جبکہ ایف آئی اے کے سپیشل پراسیکیوٹر شاہ خاور، ذوالفقار عباس نقوی پیش ہوئے۔

سپیشل پراسیکیوٹر شاہ خاور جیل نے جیل رپورٹ عدالت کو پڑھ کر سنائی۔

انہوں نے کہا کہ ’مختلف حساس اداروں اور پولیس رپورٹ کے مطابق چئیرمین پی ٹی آئی کو لائف تھریٹس ہیں۔ اسلام آباد پولیس کو اضافی سکیورٹی کے لیے خط بھی لکھا ہے چیئرمین پی ٹی آئی کو سنجیدہ نوعیت کے سکیورٹی خدشات ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسلام آباد پولیس کی رپورٹ بھی جیل رپورٹ کے ساتھ منسلک کی گئی ہے۔

عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ’ملزم کو عدالت کے سامنے پیش کرنا جیل حکام کی زمہ داری ہے، جیل حکام ملزم کو عدالت کے سامنے پیش کرنا نظر انداز نہیں کر سکتے۔‘

سلمان صفدر نے جیل ٹرائل کالعدم قرار دینے کا ہائی کورٹ کا فیصلہ پڑھتے ہوئے کہا کہ ’ہائی کورٹ نے کہا جیل ٹرائل اوپن ٹرائل نہیں ہے، جب تفصیلی فیصلہ آئے گا تو پتہ چلے گا کہ پراسیکیوشن کا کیس کہاں تک کالعدم ہوگا، ہمارا گلہ عدالت اور پراسیکوشن سے ہے کہ ہم تو کہتے رہے ان حالات میں یہ ٹرائل نہ کریں، یہ پورے ملک سے انوکھا ٹرائل تو نہیں ہو سکتا۔

’نہ کوئی دہشت گردی اسلام آباد میں ہےنہ کوئی دہشت گردی کا واقعہ ہوا ہے، جو خط و کتابت انہوں نے عدالت سے کی ہے اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ 14 ماہ ہم کہتے رہے ویڈیو لنک کر لیں لیکن کہا جاتا رہا جیسے مرضی آو جان پر کھیل کر پہنچتے رہے۔‘

سلمان صفدر نے مزید دلائل دیے کہ ’کیا چیئرمین پی ٹی آئی جیل میں محفوظ نہیں یا راستے میں کوئی خطرہ ہے تو بتا دیں؟ جوڈیشل کمپلیکس کو مکمل طور پر بند کر کے بھی لایا جاسکتا ہے، اس عدالت میں کس سے خطرہ ہے؟ یہاں فیملی سے خطرہ ہے یا قانون کی پاسداری کرنے والے وکلا سے خطرہ ہے؟ آپ کی بات نہیں مان رہے یا اسلام آباد ہائی کورٹ کی بات نہیں مان رہے تو کیا ہم سپریم کورٹ جائیں؟‘

شاہ محمود قریشی کے وکیل علی بخاری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ’شاہ محمود قریشی کو کیوں پیش نہیں کیا گیا؟ کس قانون کے تحت شاہ محمود قریشی جیل میں ہیں؟ اب تو کوئی فرد جرم بھی عائد نہیں ہے، یہ اوپن ٹرائل ہے ملزم کو عدالت میں پیش کرنا ضروری ہے، ملزمان کی پروڈکشن کرانا عدالت کی ذمہ داری ہے۔‘

خصوصی عدالت کے جج ابولحسنات ذوالقرنین نے ایف آئی اے پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ ’کیا عدالت نے ملزمان کو طلب کیا تھا؟‘

ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ ’آپ نے ملزمان کو طلب کیا تھا۔‘

جج ابولحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ ’میں خواہش کا لفظ استعمال کررہا ہوں کہ جو بھی کیس سننے کی خواہش رکھتا ہو کیا آپ اسے اجازت دے سکتے ہیں؟‘

ایف آئی اے پراسکیوٹر نے عدالت سے کہا کہ ’تمام قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے جیل میں ٹرائل کیا جاسکتا ہے، عدالت میں جیل حکام نے دستاویزی شواہد کے ساتھ بتایا کہ سکیورٹی خدشات کی بنیاد پر پیش نہیں کرسکتے۔

’اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس عدالت کی کارروائی کو غیر قانونی قرار نہیں دیا، عدالت نے فیصلہ کرنا ہے کہ جیل میں ٹرائل ہوگا یا یہاں پر، عدالت نے فیصلہ کرنا ہے کہ جیل ٹرائل کی صورت میں کتنے لوگ عدالت میں آسکتے ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست