بلے پر فلسطینی پرچم، اعظم خان پر عائد جرمانہ ختم: پی سی بی

پی سی بی کے بیان کے مطابق اعظم خان نے پی سی بی کے ضابطہ اخلاق کے آرٹیکل 2.4 کی خلاف ورزی کی تھی اورایک ایمپائر کی ہدایت کے باوجود وہ اس ضابطہ اخلاق کی پابندی کرنے میں ناکام رہے تھے تاہم اب جرمانے کو ختم کر دیا گیا ہے۔

تین مارچ، 2023 کی اس تصویر میں پاکستانی کرکٹر اعظم خان پاکستان سپر لیگ کے ایک میچ کے دوران شاٹ کھیلتے ہوئے(اے ایف پی)

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے بلے پر فلسطینی پرچم لگانے پر پاکستانی بلے باز اعظم خان پر عائد کردہ جرمانے کا جائزہ لینے کے بعد اسے ختم کردیا ہے۔

یہ اعلان منگل کو پی سی بی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کیا گیا ہے۔

بیان میں بتایا گیا ہے کہ ’کراچی وائٹس کے کھلاڑی اعظم خان پر نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ میں لاہور بلیوز کے خلاف نیشنل بینک سٹیڈیم میں ہونے والے میچ کے دوران  پی سی بی کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر 50 فیصد میچ فیس کا جرمانہ میچ آفیشلز نے عائد کیا تھا۔‘

پی سی بی کے بیان کے مطابق اعظم خان نے پی سی بی کے ضابطہ اخلاق کے آرٹیکل 2.4 کی خلاف ورزی کی تھی اورایک ایمپائر کی ہدایت کے باوجود وہ اس ضابطہ اخلاق کی پابندی کرنے میں ناکام رہے تھے۔

بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ کھلاڑی اور ٹیم آفیشلز کو اس بات کی  اجازت نہیں ہے کہ وہ کوئی ایسی چیز پہنیں اور دکھائیں یا اپنے ذاتی پیغامات اپنے ساز و سامان کے ذریعے پیش کریں۔

پی سی بی کے مطابق اگر کوئی کھلاڑی ایسا کرنا چاہتا ہے تو ’اس کے لیے پلیئر یا ٹیم آفیشلز ایسوسی ایشن اور پی سی بی کرکٹ آپریشنز ڈپارٹمنٹ کی پیشگی منظوری ضروری ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

گذشتہ دو دنوں سے قومی کرکٹر اعظم خان سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کر رہے تھے جس کی وجہ مقامی ٹی ٹوئنٹی میچ کے دوران ان کا اپنے بلے پر فلسطینی پرچم کا سٹکر لگانا اور پی سی بی کی جانب سے ان پر جرمانہ عائد کیے جانے کی خبریں تھیں۔

سپورٹس جرنلٹس کے مطابق یہ کوئی انٹرنیشنل میچ نہیں تھا بلکہ مقامی ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ تھا جس میں اعظم خان کراچی وائٹس کی جانب سے کھیل رہے تھے اور ان پر جرمانہ عائد نہیں کیا جانا چاہیے تھا بلکہ وارننگ دی جانی چاہیے تھی۔

سابق کرکٹرز اور کھیلوں کے تجزیہ کاروں نے بھی جرمانہ عائد کرنے پر پی سی بی پر تنقید کی تھی اور اعظم خان کی پذیرائی کی تھی۔

ایک سپورٹس جرنلسٹ فرید خان نے اعظم خان کے اس جرمانے کو خود ادا کرنے کی پیشکش بھی کی اور کہا کہ ’اگر پاکستان میں فلسطین کے ساتھ اظہار یکجہتی غلط ہے تو میں اس غلطی کی قیمت چکانے کو تیار ہوں۔‘

صحافی حامد میر نے بھی سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر اعظم خان کی میچ کے دوران تصویر شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ ’کیا پی سی بی بتائے گی کہ پاکستان میں کرکٹ بیٹ پر فلسطین کا جھنڈا لگانا کب سے جرم ہو گیا؟ بیٹ پر فلسطین کا جھنڈا لگانے پر اعظم خان کو جرمانہ کرنے والوں کو پی سی بی سے فارغ کر کے عبرت کی مثال بنانا چاہئے۔‘

سابق کرکٹر راشد لطیف اور تجزیہ کار ڈاکٹر نعمان نیاز نے بھی اپنے پروگرام میں اس پر تبصرہ کرتے ہوئے اعظم خان کی ہمت کو سراہا اور کہا کہ ’اس عمل کے لیے دلیری چاہیے۔‘

ڈاکٹر نعمان نیاز نے کہا کہ ’اعظم خان پر ہمیں فخر ہے ان کو بیٹ سے سٹکر ہٹانے کے لیے پیغام دیا گیا تھا لیکن انہوں نے انکار کر دیا، انہوں نے یہ بھی کہا شاید ڈیڈی( والد) یہ کام نہ کرتے لیکن اس نے کر دکھایا۔‘

اعظم خان پاکستان کے سابق کپتان اور وکٹ کیپر معین خان کے صاحبزادے ہیں۔

تاہم راشد خان نے تعریف کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ’یہاں جرمانہ دے دیں گے لیکن انٹرنیشنل میچز میں گریز کریں کیوں کہ وہاں مشکل ہوجائے گی۔‘

گذشتہ سب جماعت اسلامی کی جانب سے نیشنل سٹیڈیم کراچی کے باہر ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں پی سی بی کی مینیجمنٹ کمیٹی کے سربراہ ذکا اشرف کو برطرف کیے جانے اور اعظم خان پر عائد جرمانہ واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

 

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ